LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکا کا ایران کیساتھ کاروبار کرنے والے ممالک کیخلاف بھی سخت اقدامات کا اعلان بی این پی کے سینئر رہنما مرزا فخر الاسلام بنگلادیش کے نئے صدر منتخب پٹرولیم لیوی کے خاتمے تک تحریک جاری رہے گی، اسلام آباد کیلئے کال دوں گا: حافظ نعیم الرحمان حکومت نے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کردیا بلاول بھٹو سے پیپلز پارٹی رہنماؤں کی ملاقات، ملکی سیاسی صورتحال پر گفتگو بیرونی سرمایہ کاری لانے کا مشن، صوبائی وزیر چوہدری شافع کینیڈا پہنچ گئے بانی پی ٹی آئی کی ہسپتال منتقلی، فیصلے کیخلاف درخواست دوبارہ دائر کر رہے ہیں: رانا ثنا نور مقدم قتل کیس، مجرم ظاہر جعفر کی سزائے موت پر نظرثانی کی درخواست خارج، فیصلہ جاری عمران خان کو شفا انٹرنیشنل منتقل کرنے کی تیاری، بہن ڈاکٹر عظمیٰ اور ذاتی معالج کی نگرانی میں طبی معائنہ مکمل حکومت نے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کردیا امریکا کا آبنائے ہرمز میں تیل کی ترسیل کیلئے خفیہ شپنگ کوریڈور قائم کرنے کا دعویٰ حوثیوں کے سعودی عرب کے نجران ایئرپورٹ اور آرامکو تنصیب پر ڈرون حملے اسحاق ڈار سے برازیلی وزیر خارجہ کا رابطہ، عالمی امن پر تبادلہ خیال فضل الرحمان کی محمود خان اچکزئی سے ملاقات، متحدہ اپوزیشن کے قیام کا اعلان شہباز شریف نے پنشنرز کیلئے ’پروف آف لائف‘ کے جدید نظام کا افتتاح کر دیا

پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج آبادی کا عالمی دن منایا جارہا ہے

Web Desk

10 July 2026

پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج آبادی کا عالمی دن منایا جا رہا ہے، جہاں تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی ملک کے لیے ایک بہت بڑا چیلنج بن چکی ہے اور اس کا دباؤ دستیاب وسائل کو نگلنے لگا ہے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر آبادی بڑھنے کی یہی شرح برقرار رہی تو آئندہ 24 سال میں پاکستان آبادی کے لحاظ سے دنیا کا پانچواں بڑا ملک بن جائے گا۔ منصوبہ بندی کمیشن کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کی آبادی 24 کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے جس میں 64 فیصد آبادی 30 سال سے کم عمر نوجوانوں پر مشتمل ہے، اور خدشہ ہے کہ 2050 تک یہ تعداد 39 کروڑ تک پہنچ جائے گی۔ ملک میں آبادی میں اضافے کی سالانہ شرح 2.55 فیصد ہے، جہاں ہر سال تقریباً 68 لاکھ بچوں کی پیدائش ہوتی ہے، جبکہ ہر سال 11 ہزار مائیں دوران زچگی اور 20 ہزار نومولود بچے ایک ماہ کے اندر انتقال کر جاتے ہیں۔ مزید برآں، 40 فیصد بچے غذائی قلت (Stunting) کا شکار ہیں اور 26 ملین (2 کروڑ 60 لاکھ) بچے اسکولوں سے باہر ہیں۔ آبادی میں ہر ایک فیصد اضافہ فی کس آمدن میں سالانہ 35 ہزار روپے کمی کا باعث بن رہا ہے، اور ماہرین کا کہنا ہے کہ نئے افراد کو روزگار فراہم کرنے کے لیے 6 سے 7 فیصد جی ڈی پی گروتھ کی ضرورت ہوگی۔ ماہرین نے زور دیا ہے کہ اگر فوری اور ٹھوس منصوبہ بندی نہ کی گئی تو صحت، تعلیم اور معیشت کی بحالی کے اہداف حاصل کرنا ناممکن ہو جائے گا۔