LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
بھارت نے ایک اور فالز فلیگ آپریشن کا ڈرامہ رچایا، ڈی جی آئی ایس پی آر نے بھانڈا پھوڑ دیا ایران کا آبنائے ہرمز میں ایک اور امریکی زیرآب ڈرون قبضے میں لینے کا دعویٰ شام اور حزب اللہ کے درمیان بشار الاسد حکومت کے خاتمے کے بعد پہلی خفیہ ملاقات اڈیالہ جیل میں بانی پی ٹی آئی سے کسی رہنما کی ملاقات نہ ہوسکی حقوق کی بازیابی کا سفر شروع، ناانصافیوں کے خاتمے کا آغاز ہو رہا ہے: فاروق ستار وقت آگیا کہ دنیا جان لے’پنک سالٹ‘ کس کا خزانہ ہے: مریم نواز گورنر راج یا ایمرجنسی کی افواہوں پر گہری تشویش ہے، تمام تر تحفظات کے باوجود مذاکرات کے لیے تیار ہیں: بیرسٹر گوہر جمہوری حکومت کبھی فاشسٹ نہیں ہوتی، ملک کو بحران سے نکالنے کی صلاحیت صرف بانی چیئرمین میں ہے: علامہ راجہ ناصر عباس افغانستان میں 36 سے زائد دہشت گرد گروہ موجود ہیں، ہمسایہ ممالک کے خلاف دہشت گردی روکی جائے: ترجمان دفتر خارجہ غلطیاں ٹھیک کیے بغیر ترقی ممکن نہیں، معاشی چیلنجز کو اقدامات کی ضرورت ہے: وزیراعظم میر رضا کیس: انکوائری کمیشن کی مدت میں توسیع منظور وفاقی آئینی عدالت کے رولز جاری، اہم قانونی معاملات کی وضاحت روس جوہری حملے کی دھمکیاں دینا بند کرے، نیٹو لانگ مارچ سے کبھی کوئی فائدہ ہوا اور نہ آئندہ ہوگا، مصطفی کمال معاشی ترقی میں سرمایہ کاروں کی شراکت ڈھائی سال میں دوگنا سے زائد بڑھ چکی ہے: وزیر خزانہ

ابرار الحق نے گانے ’نچ پنجابن‘ کی تخلیق کی دلچسپ کہانی سنا دی

Web Desk

8 July 2026

معروف پاکستانی گلوکار ابرار الحق نے اپنے مقبول ترین اور سدا بہار گانے ’نچ پنجابن‘ کی تخلیق کے پیچھے چھپی ایک دلچسپ کہانی سے پردہ اٹھایا ہے، اور بتایا ہے کہ اس گانے کا مشہورِ زمانہ جملہ “گانے نوں دے دے پنجابی ٹچ” کس طرح وجود میں آیا۔

ایک یوٹیوب چینل کو دیے گئے حالیہ انٹرویو میں ابرار الحق نے ماضی کی یادیں تازہ کرتے ہوئے بتایا کہ جب وہ اس گانے کے ابتدائی بول لکھ رہے تھے، تو اس میں “میری سائیکل ہولی چل دی سی، میں گاڈی فل پگھاواں گا، سائیکل تے بندے دو بندے، میں پوری قوم بٹھا منگاں” جیسے جملے شامل تھے۔ اسی دوران انہوں نے اپنے کزن ٹیپو سے گانے کے حوالے سے ان کی رائے مانگی۔

گلوکار کے مطابق انہوں نے پوچھا، “ٹیپو! کیسا لگ رہا ہے؟” جس پر ان کے کزن نے جواب دیا کہ گانا تو اچھا ہے، لیکن اس میں وہ روایتی ‘پنجابی ٹچ’ محسوس نہیں ہو رہا۔ ابرار الحق نے بتایا کہ کزن کی یہی بات ان کے ذہن میں گھر کر گئی اور انہوں نے گانے پر مزید کام کرتے ہوئے اچانک یہ لازوال مصرع تخلیق کر ڈالا:

“تھوڑا جیا گانے نوں دے دے پنجابی ٹچ، تھوڑا جیا میوزک نوں دے دے پنجابی ٹچ۔”

انہوں نے کہا کہ یہی وہ موڑ تھا جس نے اس گانے کو ایک بالکل نئی پہچان دی اور ’نچ پنجابن‘ اپنے اسی منفرد انداز میں مکمل ہو کر سامنے آیا۔

واضح رہے کہ ابرار الحق نے 1995ء میں اپنے پہلے البم ’بِلو دے گھر‘ سے شہرت کی بلندیوں کو چھوا تھا، جس کی دنیا بھر میں 1 کروڑ 60 لاکھ سے زائد کاپیاں فروخت ہوئیں۔ اس تاریخی کامیابی کے بعد انہیں پاکستان میں پاپ اور بھنگڑا موسیقی کا بے تاج بادشاہ تسلیم کیا جانے لگا۔ بعد ازاں ان کے کئی دیگر گانے بھی سپر ہٹ ہوئے جنہوں نے پاکستانی بھنگڑا میوزک کو دنیا بھر میں ایک نئی شناخت دی۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ 2000ء کی دہائی کے آغاز میں اس گانے کو کچھ حلقوں کی جانب سے تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا تھا، جہاں لفظ ‘پنجابن’ کے استعمال پر اعتراض اٹھایا گیا۔ تاہم، ابرار الحق نے فراخدلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس گانے کو نئے انداز میں ریکارڈ کیا اور اس کا نام بدل کر ’نچ مجاجن‘ رکھ دیا تھا، جسے مداحوں نے پھر بھی بے حد پسند کیا۔