LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایران میں حکومت کی تبدیلی نہیں، معاہدہ ترجیح ہے: ٹرمپ پاکستان دہشت گردی کے خلاف ہر ضروری اقدام کا حق محفوظ رکھتا ہے: فیلڈ مارشل صدرمملکت کرغزستان پہنچ گئے، ایئر پورٹ پر گارڈ آف آنرز پیش ایران کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کر سکے گا: ٹرمپ کا ایک بار پھر دعویٰ اسحاق ڈار کی یو این سیکرٹری جنرل عہدے کی امیدوار سے ملاقات، باہمی امور پر تبادلہ خیال جنگ بندی کے باوجود غزہ پر اسرائیلی حملے جاری، 6 فلسطینی شہید سندھ طاس معاہدے پر سمجھوتہ نہیں ہوگا، جنگ لڑنا پڑی تو لڑیں گے: بلاول بھٹو اسرائیلی وزیرِ دفاع کی ایرانی قیادت ختم کرنے کی دھمکی روس کا یوکرین آپریشن ایک حقیقی جنگ کی شکل اختیار کر رہا ہے: کریملن ایران میں ہفتۂ سوگ کے باعث امن مذاکرات مؤخر کیے: ٹرمپ منی پور میں کشیدگی کی نئی لہر، مودی سرکار حالات پر قابو پانے میں مکمل ناکام امریکہ ہی اسرائیل کا واحد طاقتور اتحادی نہیں، ’ایک چھوٹا سا ملک انڈیا‘ بھی ہے: نیتن یاہو ایران کا تہران کی فضائی حدود مکمل طور پر بند رکھنے کا اعلان ایران اور قطری حکام کی دوحہ میں بیٹھک، بحری تجارت بحال کرنے کا اعلان لبنان کے اکثریتی مسیحی قصبے رمیش کے میئر نے نیتن یاہو کا دعویٰ مسترد کردیا

اٹلی: طالب علموں نے دنیا کا سب سے بڑا کاغذی جہاز تیار کرلیا

Web Desk

6 July 2026

اٹلی کی مشہور پیسا یونیورسٹی کے انجینئرنگ کے طالب علموں نے ایک انوکھا کارنامہ سرانجام دیتے ہوئے دنیا کا سب سے بڑا کاغذی جہاز تیار کر لیا ہے اور اپنا نام گنیز ورلڈ ریکارڈ میں درج کرانے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق، طالب علموں کی تیار کردہ اس حیرت انگیز تخلیق کے پروں (Wingspan) کی لمبائی 20.04 میٹر، جبکہ اس کی مجموعی لمبائی 7 میٹر ہے۔ اس دیوقامت کاغذی جہاز کو اٹلی کے شہر بولونیا میں منعقدہ ‘وی میک فیوچر فیئر’ میں نمائش کے لیے بھی پیش کیا گیا، جہاں یہ شرکا کی توجہ کا مرکز بنا رہا۔

پراجیکٹ ٹیم کے ارکان کا کہنا تھا کہ اس منفرد خیال کی ابتدا کلاس روم میں روایتی طور پر چھوٹے کاغذی جہاز بنا کر ایک دوسرے کی طرف اچھالنے اور مذاق کرنے کے دوران ہوئی تھی۔ تاہم، بعد میں طلبہ نے اسے محض ایک مذاق تک محدود رکھنے کے بجائے ایک باقاعدہ انجینئرنگ اور تحقیقی منصوبے (Research Project) کی شکل دے دی۔

اس منصوبے میں ایروناٹیکل انجینئرنگ کے 15 طالب علموں نے حصہ لیا اور ہوا بازی کے سائنسی اصولوں کو بروئے کار لاتے ہوئے یہ جہاز تیار کیا۔ گنیز ریکارڈ قائم کرنے کے لیے جب اسے باقاعدہ اڑایا گیا، تو یہ فضا میں 59 میٹر کا فاصلہ طے کرنے میں کامیاب رہا، جس کے ساتھ ہی 2013ء میں قائم ہونے والا سابقہ عالمی ریکارڈ بھی پاش پاش ہو گیا۔

300 کلوگرام کاغذ کا استعمال طالب علموں نے اس شاہکار جہاز کی تیاری میں تقریباً 300 کلوگرام کاغذ اور 60 کلوگرام گوند کا استعمال کیا۔ جہاز کے ڈھانچے کو مضبوط بنانے اور توازن برقرار رکھنے کے لیے کاغذ کو شہد کی مکھیوں کے چھتے جیسی مخصوص ساخت (Honeycomb Structure) میں جوڑا گیا، تاکہ جہاز وزنی ہونے کے باوجود اڑان بھرنے کے لیے نسبتاً ہلکا اور لچکدار رہے۔ ٹیم کے مطابق، اس پراجیکٹ کو مکمل کرنے میں کئی ماہ کی انتھک محنت لگی اور ایک معمولی سے مذاق نے بالآخر انہیں عالمی شہرت دلا دی۔