LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایران میں حکومت کی تبدیلی نہیں، معاہدہ ترجیح ہے: ٹرمپ پاکستان دہشت گردی کے خلاف ہر ضروری اقدام کا حق محفوظ رکھتا ہے: فیلڈ مارشل صدرمملکت کرغزستان پہنچ گئے، ایئر پورٹ پر گارڈ آف آنرز پیش ایران کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کر سکے گا: ٹرمپ کا ایک بار پھر دعویٰ اسحاق ڈار کی یو این سیکرٹری جنرل عہدے کی امیدوار سے ملاقات، باہمی امور پر تبادلہ خیال جنگ بندی کے باوجود غزہ پر اسرائیلی حملے جاری، 6 فلسطینی شہید سندھ طاس معاہدے پر سمجھوتہ نہیں ہوگا، جنگ لڑنا پڑی تو لڑیں گے: بلاول بھٹو اسرائیلی وزیرِ دفاع کی ایرانی قیادت ختم کرنے کی دھمکی روس کا یوکرین آپریشن ایک حقیقی جنگ کی شکل اختیار کر رہا ہے: کریملن ایران میں ہفتۂ سوگ کے باعث امن مذاکرات مؤخر کیے: ٹرمپ منی پور میں کشیدگی کی نئی لہر، مودی سرکار حالات پر قابو پانے میں مکمل ناکام امریکہ ہی اسرائیل کا واحد طاقتور اتحادی نہیں، ’ایک چھوٹا سا ملک انڈیا‘ بھی ہے: نیتن یاہو ایران کا تہران کی فضائی حدود مکمل طور پر بند رکھنے کا اعلان ایران اور قطری حکام کی دوحہ میں بیٹھک، بحری تجارت بحال کرنے کا اعلان لبنان کے اکثریتی مسیحی قصبے رمیش کے میئر نے نیتن یاہو کا دعویٰ مسترد کردیا

اسرائیل کے طبی امداد تک رسائی میں رکاوٹ ڈالنے پر 4 ماہ کا فلسطینی بچہ شہید

Web Desk

6 July 2026

مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی فوج کی جانب سے طبی امداد تک رسائی میں رکاوٹ ڈالنے کے باعث ایک اور افسوسناک سانحہ سامنے آیا ہے، جہاں محض چار ماہ کا بیمار فلسطینی شیرخوار بچہ بروقت ہسپتال نہ پہنچنے کے کارن دم توڑ گیا۔

مقامی حکام نے بتایا کہ یہ دردناک واقعہ رملہ کے مغرب میں واقع گاؤں ‘دیر عمار’ کے داخلی راستے پر قائم اسرائیلی فوجی چوکی پر پیش آیا۔ اسرائیلی فوجیوں نے شدید علالت کا شکار بچے کو فوری طبی امداد کے لیے ہسپتال منتقل کرنے والی گاڑی کو روک لیا اور اسے آگے جانے کی اجازت نہیں دی۔اسرائیلی فوجیوں نے علاقے کے مکینوں اور وہاں سے گزرنے والی دیگر گاڑیوں پر اندھا دھند آنسو گیس کے شیل بھی فائر کیے۔ آنسو گیس کے شدید اثرات اور فوجی چوکی پر ہونے والی غیر ضروری تاخیر کے نتیجے میں معصوم بچے کی حالت مزید بگڑ گئی اور وہ بروقت ہسپتال منتقل نہ کیے جانے کے باعث جاں بحق ہو گیا۔

مقامی اور بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق یہ واقعہ کوئی پہلا اتفاق نہیں ہے بلکہ یہ باقاعدہ اسرائیلی پالیسی کا حصہ ہے۔ مقبوضہ علاقوں میں جابجا قائم فوجی چوکیوں، لوہے کے گیٹوں اور سخت ترین پابندیوں کے ذریعے عام شہریوں، شدید بیمار مریضوں اور یہاں تک کہ ایمبولینسوں کی نقل و حرکت میں بھی شدید رکاوٹیں کھڑی کی جاتی ہیں، جو کہ بنیادی انسانی اور طبی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے