مودی کو ملنے والے کئی ایوارڈز ان کے دوروں سے قبل تخلیق کیے گئے: برطانوی جریدے کا دعوی
Web Desk
4 July 2026
برطانیہ کے نامور اور معتبر اخبار “دی گارڈین” نے بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی کو مختلف ممالک کی جانب سے دیے جانے والے اعلیٰ ترین غیر ملکی اعزازات پر سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔ اخبار نے اپنی تحقیقاتی رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ ان میں سے متعدد ایوارڈز مودی کے متعلقہ ممالک کے دوروں سے محض چند روز قبل ہی عجلت میں تخلیق کیے گئے، اور حیرت انگیز طور پر مودی ان اعزازات کو پانے والے دنیا کے پہلے یا واحد وصول کنندہ ہیں۔
دی گارڈین کی رپورٹ کے مطابق، جزیرہ نما ملک سیشلز (Seychelles) کی جانب سے مودی کو دیا جانے والا “Guardian of the Blue Horizon” ایوارڈ ان کی وہاں آمد سے صرف تین روز قبل متعارف کرایا گیا تھا۔ اخبار نے دعویٰ کیا کہ اس ایوارڈ کے ابتدائی سرٹیفکیٹ میں “Republic” اور “Seychelles” کے بنیادی ہجے (Spelling) بھی غلط لکھے گئے تھے، جبکہ اس سرٹیفکیٹ کے ڈیزائن کے مصنوعی ذہانت (AI) سے تیار ہونے کے خدشات بھی سامنے آئے۔ تاہم، سیشلز کی وزارتِ خارجہ نے اس پر وضاحت پیش کرتے ہوئے کہا کہ غلط ہجے والا سرٹیفکیٹ محض ایک ورکنگ ڈرافٹ تھا اور بعد میں اصل منظور شدہ سرٹیفکیٹ جاری کیا گیا، حکومت اس ایوارڈ کو مکمل حقیقی قرار دیتی ہے۔
برطانوی اخبار نے مزید انکشاف کیا کہ اسرائیلی پارلیمنٹ کا معزز ایوارڈ “Medal of the Knesset” بھی نریندر مودی کے دورہ اسرائیل سے چند روز قبل ہی وجود میں لایا گیا تھا اور وہ اب تک اس میڈل کو حاصل کرنے والے دنیا کے واحد شخص ہیں۔ اسی طرح 2019 میں مودی کو دیا جانے والا انٹرنیشنل “Philip Kotler Presidential Award” بھی دنیا میں پہلی بار مودی ہی کو دیا گیا تھا؛ اگرچہ اس وقت اعلان کیا گیا تھا کہ یہ ایوارڈ ہر سال کسی نہ کسی عالمی رہنما کو دیا جائے گا، لیکن مودی کے بعد آج تک کسی دوسری شخصیت کو یہ اعزاز نہیں دیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق، گزشتہ ایک سال کے دوران مودی کو ایتھوپیا اور ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو سمیت کئی ممالک کے اعلیٰ اعزازات بھی ملے، جن میں سے بعض کے وہ پہلے غیر ملکی یا واحد وصول کنندہ قرار پائے۔
دی گارڈین کی اس رپورٹ کے بعد بھارت کے اندر ایک نئی سیاسی جنگ چھڑ گئی ہے۔ بھارتی اپوزیشن جماعت کانگریس نے ان اعزازات پر شدید طنز کرتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ مودی حکومت ان غیر ملکی اعزازات کو ملک کے اندر اپنی سیاسی تشہیر (PR Hunt) اور مودی کی ‘امیج بلڈنگ’ کے لیے بطور ہتھیار استعمال کر رہی ہے۔
دوسری جانب، مودی کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے ان الزامات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے مؤقف اپنایا ہے کہ یہ ایوارڈز مودی کی مضبوط عالمی قیادت، کامیاب خارجہ پالیسی اور ماحولیاتی خدمات کے بین الاقوامی اعتراف کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ دی گارڈین کے مطابق، مودی کے یہ غیر ملکی اعزازات اب بھارت میں سیاست کا مرکزی موضوع بن چکے ہیں، جہاں حامی انہیں بھارت کے بڑھتے ہوئے عالمی اثر و رسوخ کی علامت قرار دے رہے ہیں جبکہ ناقدین انہیں شخصیت پرستی اور سیاسی پی آر سے جوڑ رہے ہیں۔
متعلقہ عنوانات
امریکا اور ایران کے درمیان ثالثی پاکستان کے لیے بڑا اعزاز ہے، فیلڈ مارشل عاصم منیر نے دن رات محنت کر کے اہم کردار ادا کیا: وزیراعظم شہباز شریف
4 July 2026
اسرائیل کی لبنان اور غزہ سمیت مغربی کنارے میں بھی وحشیانہ کارروائیاں
4 July 2026
پاکستان مشکل وقت میں ایران کا حقیقی دوست ثابت ہوا: باقر قالیباف
4 July 2026
امریکا کے 4 کروڑ سے زائد شہری فوڈ اسٹیمپس پر گزارا کر رہے ہیں، قالیباف
4 July 2026
روس نے یوکرین کے ایک اور شہر پر قبضے کا دعویٰ کردیا
4 July 2026
عالمی موسمیاتی تنظیم نے ال نینو سسٹم کے شدید ہونے کی پیشگوئی کر دی
4 July 2026
بھارتی وزیراعظم مودی کا ایرانی سپریم لیڈر کی آخری رسومات میں جانے سے انکار، دوغلی پالیسی عیاں
4 July 2026
شہید رہبرِ اعلیٰ کا آخری دیدار! تہران میں گرینڈ مصلیٰ کے دروازے عوام کے لیے کھول دیے گئے
4 July 2026