عالمی موسمیاتی تنظیم نے ال نینو سسٹم کے شدید ہونے کی پیشگوئی کر دی
Web Desk
4 July 2026
اقوام متحدہ کی موسمیاتی ایجنسی نے خبردار کیا ہے کہ عالمی درجہ حرارت میں غیر معمولی اضافہ کرنے والا مضبوط ‘ال نینو’ (El Niño) سسٹم تیزی سے زور پکڑ رہا ہے، جس کے تباہ کن اثرات 2027 تک دنیا کے مختلف خطوں میں محسوس کیے جائیں گے۔ عالمی موسمیاتی تنظیم (WMO) نے دنیا بھر کے پالیسی سازوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ صحت اور زراعت پر پڑنے والے شدید اثرات سے نمٹنے کے لیے ہنگامی تیاریاں شروع کر دیں۔
ڈبلیو ایم او کی جمعہ کو جاری کردہ تازہ ترین رپورٹ کے مطابق، ال نینو کی یہ موسمی کیفیت رواں سال جولائی سے ستمبر کے دوران مزید شدت اختیار کر جائے گی، جس کے باعث دنیا کے مختلف حصوں میں شدید بارشوں، جان لیوا گرمی کی لہروں (Heatwaves) اور بدترین خشک سالی کا سامنا ہو سکتا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس سسٹم کے تحت برصغیر پاک و ہند میں معمول سے کم بارشوں کا امکان ہے، جبکہ افریقہ کے بعض علاقوں اور جنوبی یورپ میں معمول سے زیادہ بارشیں متوقع ہیں۔
ڈبلیو ایم او کی سیکریٹری جنرل سیلیسٹ ساؤلو نے صورتحال کی سنگینی کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ ال نینو کی صورتحال پہلے ہی پیدا ہو چکی ہے اور یہ تیزی سے ایک مضبوط مرحلے میں داخل ہو رہی ہے۔ اس کے نتیجے میں زمینی اور سمندری گرمی کی لہروں کے امکانات بڑھ جائیں گے۔
اقوام متحدہ کے ادارہ خوراک و زراعت (FAO) کے ڈائریکٹر جنرل چو ڈونگ یو نے بھی خبردار کیا ہے کہ شدید گرمی خوراک کی پیداوار پر دباؤ بڑھا رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق خشک سالی اور سیلاب، دونوں ہی غذائی قلت کے شکار علاقوں کے لیے سنگین خطرہ ہیں، جبکہ سیلاب کے باعث بڑے پیمانے پر نقل مکانی اور ہیضے سمیت دیگر آبی متعدی امراض پھیلنے کا خدشہ ہے۔
یہ انتباہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب یورپ کے وسیع علاقے شدید گرمی کی لہر کی لپیٹ میں ہیں، جہاں اب تک ریکارڈ 3 ہزار 700 اموات ہو چکی ہیں۔ سب سے زیادہ تباہی فرانس میں مچی جہاں گرمی کے باعث اموات میں 30 فیصد اضافہ ہوا اور ایک ہی ہفتے میں 2025 ہلاکتیں رپورٹ ہوئیں۔ اس کے علاوہ بیلجیم میں 1200 اور نیدرلینڈز میں 480 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں، جن میں زیادہ تر عمر رسیدہ افراد شامل ہیں۔ فرانس کی سپر مارکیٹس میں خریدار پنکھوں اور ایئر کنڈیشنز کے حصول کے لیے آپس میں الجھتے ہوئے دکھائی دیے۔
ال نینو اگرچہ ایک قدرتی موسمی مظہر ہے، لیکن اس کی موجودہ شدید شکل بحرالکاہل (Pacific Ocean) میں سمندری پانی کے بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کا نتیجہ ہے، جو ہوا کے بہاؤ کے عالمی نظام کو تبدیل کر دیتا ہے۔
عام حالات میں مستقل ہوائیں سطحی گرم پانی کو ایشیا اور آسٹریلیا کی طرف دھکیلتی ہیں، جس سے جنوبی امریکہ کے ساحلوں کے قریب ٹھنڈا پانی اوپر آ جاتا ہے۔ تاہم ال نینو کے دوران یہ ہوائیں کمزور پڑ جاتی ہیں اور گرم پانی مشرق کی جانب امریکہ کے ساحلوں کی طرف بڑھ جاتا ہے۔ رواں سال نگرانی کے کئی اہم علاقوں میں سمندر کی سطح کا درجہ حرارت معمول کے مقابلے میں 2 ڈگری سینٹی گریڈ سے زیادہ بڑھ چکا ہے، جو کہ ایک تشویشناک علامت ہے۔
متعلقہ عنوانات
امریکا اور ایران کے درمیان ثالثی پاکستان کے لیے بڑا اعزاز ہے، فیلڈ مارشل عاصم منیر نے دن رات محنت کر کے اہم کردار ادا کیا: وزیراعظم شہباز شریف
4 July 2026
مودی کو ملنے والے کئی ایوارڈز ان کے دوروں سے قبل تخلیق کیے گئے: برطانوی جریدے کا دعوی
4 July 2026
اسرائیل کی لبنان اور غزہ سمیت مغربی کنارے میں بھی وحشیانہ کارروائیاں
4 July 2026
پاکستان مشکل وقت میں ایران کا حقیقی دوست ثابت ہوا: باقر قالیباف
4 July 2026
امریکا کے 4 کروڑ سے زائد شہری فوڈ اسٹیمپس پر گزارا کر رہے ہیں، قالیباف
4 July 2026
روس نے یوکرین کے ایک اور شہر پر قبضے کا دعویٰ کردیا
4 July 2026
بھارتی وزیراعظم مودی کا ایرانی سپریم لیڈر کی آخری رسومات میں جانے سے انکار، دوغلی پالیسی عیاں
4 July 2026
شہید رہبرِ اعلیٰ کا آخری دیدار! تہران میں گرینڈ مصلیٰ کے دروازے عوام کے لیے کھول دیے گئے
4 July 2026