بھارتی وزیراعظم مودی کا ایرانی سپریم لیڈر کی آخری رسومات میں جانے سے انکار، دوغلی پالیسی عیاں
Web Desk
4 July 2026
ایران کے شہید سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی آخری رسومات میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی عدم شرکت کے فیصلے نے بھارت کے اندرونی سیاسی حلقوں اور عالمی سفارتی محاذ پر ایک نئی اور گرم لکیر کھینچ دی ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں اور دفاعی ماہرین کی جانب سے مودی حکومت کی اس پالیسی کو “کھوکھلی اور دوغلی سفارتکاری” قرار دے کر شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
بھارتی جریدے ‘ٹائمز آف انڈیا’ کے مطابق، ایرانی صدر مسعود پزشکیان کی جانب سے ذاتی طور پر باضابطہ دعوت نامہ بھیجے جانے کے باوجود وزیراعظم نریندر مودی نے تہران جانے سے صاف انکار کر دیا۔ بھارت نے اس تاریخی و عظیم الشان جنازے میں شرکت کے لیے ایک انتہائی جونیئر سطح کا وفد تہران بھیجا ہے، جس کی قیادت وزیرِ مملکت برائے خارجہ پبیترا مارگریٹا اور ریاست بہار کے گورنر لیفٹیننٹ جنرل (ر) سید عطا حسنین کر رہے ہیں۔
وزیراعظم مودی کے اس فیصلے پر بھارت کے اپنے دفاعی اور سیاسی مبصرین برہم دکھائی دے رہے ہیں۔ بھارتی تجزیہ کار پروین شانے کا کہنا ہے کہ مودی نے امریکہ اور اسرائیل کو ناراضگی سے بچانے کے لیے ایران جانے سے گریز کیا، جو کہ آزاد خارجہ پالیسی کی نفی ہے۔
دوسری جانب، معروف بھارتی دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل (ر) جے ڈی بخشی نے اس فیصلے کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے یاد دلایا کہ ماضی میں جب سابق بھارتی وزیراعظم اندرا گاندھی کا انتقال ہوا تھا، تو ان کی آخری رسومات میں ایرانی سپریم لیڈر نے خود شرکت کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ اخلاقی اور سفارتی طور پر نریندر مودی کو ایران جانا چاہیے تھا، اور اتنے بڑے موقع پر صرف ایک جونیئر وزیر اور صوبائی گورنر کو بھیجنا مودی حکومت کی غیر سنجیدہ ترجیحات کو ظاہر کرتا ہے۔
رپورٹس کے مطابق، بھارتی وفد کے برعکس پاکستان نے اس موقع پر انتہائی اعلیٰ سطح کا وفد تہران بھیجا ہے۔ پاکستان کی نمائندگی خود وزیراعظم شہباز شریف اور ملک کے اعلیٰ ترین حکام کر رہے ہیں، جو پاک-ایران گہرے، تاریخی اور برادرانہ تعلقات کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
ماہرینِ خارجہ امور کا کہنا ہے کہ مودی حکومت کا یہ رویہ خود غرضی پر مبنی ہے۔ ایک طرف بھارت کو اپنی معیشت کے لیے ایران سے سستا تیل چاہیے، چابہار پورٹ کے ذریعے وسطی ایشیا تک تجارتی رسائی درکار ہے اور آبنائے ہرمز جیسے اہم آبی راستے پر ایرانی تعاون کی ضرورت ہے، لیکن جب دکھ کی اس گھڑی میں ایران کے ساتھ کھڑے ہونے کا وقت آیا تو مودی نے اسرائیل اور امریکی خوف کی وجہ سے پیٹھ دکھا دی، جس سے نئی دہلی اور تہران کے تعلقات پر منفی اثرات پڑ سکتے ہیں۔
متعلقہ عنوانات
امریکا اور ایران کے درمیان ثالثی پاکستان کے لیے بڑا اعزاز ہے، فیلڈ مارشل عاصم منیر نے دن رات محنت کر کے اہم کردار ادا کیا: وزیراعظم شہباز شریف
4 July 2026
مودی کو ملنے والے کئی ایوارڈز ان کے دوروں سے قبل تخلیق کیے گئے: برطانوی جریدے کا دعوی
4 July 2026
اسرائیل کی لبنان اور غزہ سمیت مغربی کنارے میں بھی وحشیانہ کارروائیاں
4 July 2026
پاکستان مشکل وقت میں ایران کا حقیقی دوست ثابت ہوا: باقر قالیباف
4 July 2026
امریکا کے 4 کروڑ سے زائد شہری فوڈ اسٹیمپس پر گزارا کر رہے ہیں، قالیباف
4 July 2026
روس نے یوکرین کے ایک اور شہر پر قبضے کا دعویٰ کردیا
4 July 2026
عالمی موسمیاتی تنظیم نے ال نینو سسٹم کے شدید ہونے کی پیشگوئی کر دی
4 July 2026
شہید رہبرِ اعلیٰ کا آخری دیدار! تہران میں گرینڈ مصلیٰ کے دروازے عوام کے لیے کھول دیے گئے
4 July 2026