LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکا اور ایران کے درمیان ثالثی پاکستان کے لیے بڑا اعزاز ہے، فیلڈ مارشل عاصم منیر نے دن رات محنت کر کے اہم کردار ادا کیا: وزیراعظم شہباز شریف یمن میں سعودی اتحاد کا حوثیوں کو بھرپور جواب کی دھمکی، کشیدگی میں اضافہ آبنائے ہرمز بیرونی طاقتوں کی عسکری نمائش کا میدان نہیں، ایران کی سخت وارننگ نواز شریف ایگرکلچر یونیورسٹی میں مینگو اینڈ ڈیٹس فیسٹیول، ہائی کمشنر بنگلادیش کی شرکت ہماری دانشمندانہ حکمت عملی سے خطہ بڑی جنگ سے بچ گیا، دنیا پاکستان کو امن کے نام سے پہچان رہی ہے، خواجہ آصف سپریم لیڈر کی آخری رسومات کے باعث ایران مذاکرات میں ایک ہفتے کا وقفہ کیا ہے، ٹرمپ غیر رجسٹرڈ تعلیمی اداروں پر 40 لاکھ روپے تک جرمانہ کیا جا سکتا ہے، وزیر تعلیم پنجاب مسلسل اضافے کے بعد سونے کی قیمت گر گئی لندن میں زیتون کے تیل کا عالمی مقابلہ؛ پاکستان نے گولڈ میڈل جیت کر تاریخ رقم کردی بینکوں کے منافع کا 60 فیصد حصہ حکومت کو ٹیکس کی مد میں جاتا ہے، ترسیلاتِ زر کو اب حکومت کے بجائے بینکس سپورٹ کریں گے: عاطف باجوہ پٹرول کی قیمت میں معمولی کمی شرمناک اور عوام دشمن ہے، اگلے 48 گھنٹوں میں ملک گیر مظاہروں کا اعلان کریں گے: حافظ نعیم الرحمن صدر آصف علی زرداری کی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو یومِ آزادی پر مبارکباد؛ پاکستان کے دورے کی دعوت، سفارتی و دفاعی شراکت داری کو مزید وسعت دینے پر زو ایم کیو ایم کی وزیراعظم کو آخری وارننگ: مطالبات تسلیم نہ ہوئے تو اپوزیشن میں بیٹھ جائیں گے، فاروق ستار کی ‘ایس او ایس’ کال اسرائیل کے جنوبی لبنان میں حملے، حزب اللہ کے 10 انفراسٹرکچر مقامات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ امریکا کی 250 ویں سالگرہ: میئر ممدانی کا یومِ آزادی پر تاریخی خطاب، امریکی اقدار اور اتحاد پر زور

بھارتی وزیراعظم مودی کا ایرانی سپریم لیڈر کی آخری رسومات میں جانے سے انکار، دوغلی پالیسی عیاں

Web Desk

4 July 2026

ایران کے شہید سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی آخری رسومات میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی عدم شرکت کے فیصلے نے بھارت کے اندرونی سیاسی حلقوں اور عالمی سفارتی محاذ پر ایک نئی اور گرم لکیر کھینچ دی ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں اور دفاعی ماہرین کی جانب سے مودی حکومت کی اس پالیسی کو “کھوکھلی اور دوغلی سفارتکاری” قرار دے کر شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

بھارتی جریدے ‘ٹائمز آف انڈیا’ کے مطابق، ایرانی صدر مسعود پزشکیان کی جانب سے ذاتی طور پر باضابطہ دعوت نامہ بھیجے جانے کے باوجود وزیراعظم نریندر مودی نے تہران جانے سے صاف انکار کر دیا۔ بھارت نے اس تاریخی و عظیم الشان جنازے میں شرکت کے لیے ایک انتہائی جونیئر سطح کا وفد تہران بھیجا ہے، جس کی قیادت وزیرِ مملکت برائے خارجہ پبیترا مارگریٹا اور ریاست بہار کے گورنر لیفٹیننٹ جنرل (ر) سید عطا حسنین کر رہے ہیں۔

وزیراعظم مودی کے اس فیصلے پر بھارت کے اپنے دفاعی اور سیاسی مبصرین برہم دکھائی دے رہے ہیں۔ بھارتی تجزیہ کار پروین شانے کا کہنا ہے کہ مودی نے امریکہ اور اسرائیل کو ناراضگی سے بچانے کے لیے ایران جانے سے گریز کیا، جو کہ آزاد خارجہ پالیسی کی نفی ہے۔

دوسری جانب، معروف بھارتی دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل (ر) جے ڈی بخشی نے اس فیصلے کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے یاد دلایا کہ ماضی میں جب سابق بھارتی وزیراعظم اندرا گاندھی کا انتقال ہوا تھا، تو ان کی آخری رسومات میں ایرانی سپریم لیڈر نے خود شرکت کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ اخلاقی اور سفارتی طور پر نریندر مودی کو ایران جانا چاہیے تھا، اور اتنے بڑے موقع پر صرف ایک جونیئر وزیر اور صوبائی گورنر کو بھیجنا مودی حکومت کی غیر سنجیدہ ترجیحات کو ظاہر کرتا ہے۔

رپورٹس کے مطابق، بھارتی وفد کے برعکس پاکستان نے اس موقع پر انتہائی اعلیٰ سطح کا وفد تہران بھیجا ہے۔ پاکستان کی نمائندگی خود وزیراعظم شہباز شریف اور ملک کے اعلیٰ ترین حکام کر رہے ہیں، جو پاک-ایران گہرے، تاریخی اور برادرانہ تعلقات کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

ماہرینِ خارجہ امور کا کہنا ہے کہ مودی حکومت کا یہ رویہ خود غرضی پر مبنی ہے۔ ایک طرف بھارت کو اپنی معیشت کے لیے ایران سے سستا تیل چاہیے، چابہار پورٹ کے ذریعے وسطی ایشیا تک تجارتی رسائی درکار ہے اور آبنائے ہرمز جیسے اہم آبی راستے پر ایرانی تعاون کی ضرورت ہے، لیکن جب دکھ کی اس گھڑی میں ایران کے ساتھ کھڑے ہونے کا وقت آیا تو مودی نے اسرائیل اور امریکی خوف کی وجہ سے پیٹھ دکھا دی، جس سے نئی دہلی اور تہران کے تعلقات پر منفی اثرات پڑ سکتے ہیں۔