LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
اسرائیل کی سفاکیت کم نہ ہوئی، ڈرون حملے میں مزید 2 فلسطینی شہید، متعدد زخمی یورپ میں شدید گرمی کی لہر برقرار، اموات 4 ہزار سے تجاوز کر گئیں اسرائیلی فوج کے سربراہ کا لبنان میں فیصلہ کن کارروائیاں جاری رکھنے کا اعلان مفاہمتی یادداشت پر عملدرآمد مشکل ضرور ہے لیکن ناممکن نہیں، باقر قالیباف ٹرمپ نے کہا وٹکوف، جیرڈ کشنر دوبارہ ماسکو آنے کیلئے تیار ہیں: ترجمان کریملن صدر ٹرمپ انقرہ میں نیٹو ممالک کے اجلاس میں شرکت کریں گے، وائٹ ہاؤس اوپیک پلس ممالک کا اگست کیلئے تیل کی پیداوار بڑھانے کا فیصلہ امریکی نیوی نے بحیرہ عرب میں لاپتہ اہلکار کی تلاش روک دی گروپ کیپٹن کو شہید کرنے والا ملزم سعد 9 گھنٹوں میں گرفتار کر لیا: آئی جی اسلام آباد وفاقی وزیر احسن اقبال کا دورہ امریکہ: ہیلتھ کیئر اور معاشی ترقی کے لیے سمندر پار پاکستانیوں کو شراکت داری کی دعوت، ٹیلی میڈیسن ماڈل کی تجویز فلسطینی علاقوں پر قبضہ ختم ہونے تک اسرائیل سے تعلقات بحال نہیں ہو سکتے، مصر یمنی فورسز اور حوثیوں کے درمیان جھڑپوں میں 65 اموات کی تصدیق شہید رہبراعلیٰ کے خون کا بدلہ ضرور لیں گے، مشیر ایرانی سپریم لیڈر پشاور: چینی باشندوں کی حفاظت کےلئے فول پروف نظام قائم امریکی صدر کی روسی ہم منصب کو یوکرین جنگ کے حل میں مدد کی پیشکش

شہید علی خامنہ ای کو خراج تحسین پیش کرنے طالبان وفد اور احمد مسعود بھی پہنچ گئے

Web Desk

4 July 2026

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی تجہیز و تکفین کی تقریبات کا باقاعدہ آغاز ہو گیا ہے، جس میں عالمی رہنماؤں اور غیر ملکی وفود کے ساتھ ساتھ افغان طالبان کا اعلیٰ سطحی وفد بھی شریک ہے۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق، شہید سپریم لیڈر کا جسدِ خاکی تہران کے ‘امام خمینی جامع مصلیٰ’ لایا گیا ہے، جہاں بیرونِ ملک سے آنے والے سفارتی وفود اور معززین فاتحہ خوانی اور ایرانی حکام سے تعزیت کر رہے ہیں۔ تقریب میں افغانستان کی طالبان حکومت کے ایک اعلیٰ وفد نے شرکت کی، جس کی قیادت نائب وزیرِ اعظم ملا عبدالغنی برادر اخوند اور وزیرِ خارجہ امیر خان متقی کر رہے ہیں۔ طالبان وفد نے ایرانی حکام اور مرحوم رہنما کے لواحقین سے ملاقات کر کے گہرے دکھ کا اظہار کیا۔

دلچسپ اور حیران کن طور پر، طالبان وفد کی آمد کے ساتھ ہی افغانستان میں طالبان حکومت کے کٹر مخالف اور نیشنل ریزسٹنس فرنٹ (NRF) کے سربراہ احمد مسعود بھی تعزیت کے لیے تہران پہنچ گئے ہیں۔ ان کے علاوہ افغانستان کے معروف شیعہ رہنما اور حزبِ وحدتِ اسلامی کے سربراہ محمد محقق نے بھی تقریب میں شرکت کی اور اہل خانہ سے دعائے مغفرت کی۔

ایرانی میڈیا کے مطابق، دنیا کے 100 سے زائد ممالک کے سربراہان، وزرائے اعظم اور اعلیٰ حکام نے آیت اللہ علی خامنہ ای کی نمازِ جنازہ میں شرکت کی تصدیق کی ہے، جبکہ صرف تہران میں ایک کروڑ سے زائد سوگواروں کا مجمع اکٹھا ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ تعزیتی تقریبات کا یہ سلسلہ مختلف شہروں سے ہوتا ہوا 9 جولائی کو مشہد مقدس میں اختتام پذیر ہوگا، جہاں انہیں حضرت امام علی رضا علیہ السلام کے روضہ مبارک کے احاطے میں سپردِ خاک کیا جائے گا۔