LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
اسحاق ڈار کا موریطانیہ کے وزیر خارجہ سے رابطہ، دوطرفہ تعلقات پر تبادلہ خیال پاکستان کا مقبوضہ کشمیر سے متعلق امریکی بیان پر ناظم الامور کو ڈی مارش اقتصادی رابطہ کمیٹی نے چینی برآمد کرنے کی اجازت دے دی وزیراعظم سے پاکستان میں اقوام متحدہ کے ریزیڈنٹ کوآرڈینیٹر کی الوداعی ملاقات بلاول بھٹو کا پارلیمان کو فعال بنانے پر زور، اپوزیشن کو کمیٹیوں میں واپسی کی دعوت ایران کا متحدہ عرب امارات کا ٹینکر قبضے میں لینے کا دعویٰ غیر قانونی کال سینٹر چلانے پر 275 غیر ملکی گرفتار، 76 کو واپس بھیجنے کا فیصلہ بلاول بھٹو کی اپوزیشن رہنماؤں سے ملاقات، پارلیمانی امور، ملکی سیاست پر گفتگو عمران خان کو جیل مینوئل کے مطابق علاج کی سہولتیں ملتی رہیں گی:عطا تارڑ بانی پی ٹی آئی کی ہسپتال منتقلی کے فیصلے پر نظر ثانی کی درخواست سپریم کورٹ میں دائر ریٹیلر ایپ کا اجراء، چھوٹے دکانداروں کیلئے ٹیکس سکیم آسان بنا دی: وزیر خزانہ محسن نقوی کا پاسپورٹ آفس گارڈن ٹاؤن کا دورہ، شہریوں کی شکایات پر برہم اسحاق ڈار کا ترک وزیر خارجہ سے رابطہ، علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال پاکستان SCO اجلاس کی میزبانی کرے گا، اسحاق ڈار کا تیاریوں پر اظہارِ اطمینان جنگ کے دوران امریکا نے مذاکرات کی درخواست کی: ایرانی وزیر خارجہ

خطے میں پائیدار امن صرف بیرونی مداخلت کے بغیر ہی ممکن ہے، عباس عراقچی

Web Desk

2 July 2026

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے دوٹوک الفاظ میں واضح کیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کے خطے میں پائیدار امن و استحکام کا قیام صرف اور صرف بیرونی یا غیر ملکی مداخلت کے بغیر ہی ممکن ہے۔

ایک خصوصی بیان میں ایرانی وزیر خارجہ نے بحرین میں منعقد ہونے والے امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) کے اعلیٰ سطح کے عسکری و سکیورٹی اجلاس پر کڑی تنقید کی۔ عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ امریکی فوجی کمانڈ خطے کے ممالک کو سکیورٹی فراہم کرنے میں ناکام رہی ہے اور وہ یہاں امن کے بجائے مزید بدامنی لائی ہے۔ انہوں نے طنز کرتے ہوئے مزید کہا کہ یہ غیر ملکی طاقتیں تو خود اپنا تحفظ کرنے کے قابل بھی نہیں ہیں۔

خیال رہے کہ امریکی سینٹرل کمانڈ کی قیادت میں بحرین میں خطے کے اعلیٰ فوجی حکام کا ایک اہم سکیورٹی اجلاس منعقد ہوا، جس میں مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ کشیدہ صورتحال، علاقائی استحکام اور دفاعی تعاون کے فروغ پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس عسکری اجلاس میں امریکہ اور مشرقِ وسطیٰ کے 12 ممالک کے دفاعی حکام نے شرکت کی، جہاں بحری تجارتی راستوں کے تحفظ خصوصاً آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) میں بلا رکاوٹ تجارتی سرگرمیاں اور جہاز رانی جاری رکھنے کے لیے مشترکہ کوششیں تیز کرنے پر اتفاق کیا گیا ہے۔