LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
عمران خان کی ہسپتال منتقلی کے خلاف حکومتی درخواست اعتراض لگا کر واپس حوثی حملے میں زخمی 6 پاکستانی ملاح وطن واپس، 2 میتیں بھی منتقل محنت اور خون پسینے کی کمائی کو رشوت کی نذر نہیں ہونے دیا جائے گا: مریم نواز وزیراعظم نے اپوزیشن کو معاملات طے کرنے کی دعوت دے دی ملائیشیا کے وزیر داخلہ 2 روزہ دورے پر پاکستان پہنچ گئے ملک کے مختلف علاقوں میں موسلادھار بارش، سیلاب کا خدشہ وفاقی کابینہ کا اجلاس طلب، امن و امان، قانون سازی، بانی کے معاملے پر غور ہوگا ملک بھر کے دریاؤں اور آبی ذخائر میں پانی کی صورتحال: تربیلا، منگلا اور چشمہ میں ریکارڈ اسٹاک موجود مریم نواز کا ستھرا پنجاب ورکر کو ہر ماہ 5 تاریخ سے قبل ادائیگی یقینی بنانے کا حکم ایران کی جانب سے خطرات، رکن ممالک کے دفاع کے لیے تیار ہیں: نیٹو پیڈا ایکٹ کے تحت بغیر انکوائری ملازم کو برطرف کرنا غیر قانونی قرار کینیا میں سیاحوں کا ہیلی کاپٹر گر کر تباہ، 5 امریکیوں سمیت 7 افراد ہلاک راشد منہاس شہید کا 55واں یوم شہادت، افواجِ پاکستان کا زبردست خراج عقیدت مقبوضہ مغربی کنارے یہودی آبادکاری منصوبہ، برطانیہ کا اسرائیل سے شدید احتجاج 20 جولائی سے اب تک 48 سعودی تیل بردار بحری جہازوں کو روکا گیا، حوثی گروپ کا دعویٰ

کاہنہ حادثہ پر ایجوکیشن اتھارٹی کی رپورٹ تیار، ضلعی انتطامیہ کو ارسال

Web Desk

30 June 2026

کاہنہ میں ٹیوشن سینٹر کی چھت گرنے کے المناک واقعے پر ڈسٹرکٹ ایجوکیشن اتھارٹی لاہور نے اپنی ابتدائی انکوائری رپورٹ مکمل کر کے ضلعی انتظامیہ کو ارسال کر دی ہے۔

رپورٹ میں سنسنی خیز انکشافات سامنے آئے ہیں، جس کے مطابق حادثے کا شکار ہونے والا ٹیوشن سینٹر کسی بھی سرکاری ادارے یا محکمہ تعلیم کے ساتھ رجسٹرڈ نہیں تھا بلکہ ایک نجی رہائشی گھر میں غیر قانونی طور پر قائم کیا گیا تھا۔ رپورٹ کے مطابق ایک خاتون نجی طور پر اپنے ہی رشتہ داروں اور قریبی لوگوں کے بچوں کو وہاں ٹیوشن پڑھاتی تھیں، اور حادثے کے وقت سینٹر میں 25 سے 30 بچے زیرِ تعلیم تھے۔

سی ای او (CEO) ایجوکیشن اتھارٹی لاہور طارق محمود نے اس حوالے سے واضح کیا کہ گھروں میں قائم ایسے نجی ٹیوشن سینٹرز کی رجسٹریشن کا کوئی باقاعدہ قانونی نظام موجود نہیں ہے، اور نہ ہی رہائشی گھروں میں چلنے والے یہ سینٹرز محکمہ تعلیم کے دائرۂ رجسٹریشن یا دائرہ اختیار میں آتے ہیں۔

انکوائری رپورٹ کے مطابق، اب ضلعی انتظامیہ اس المناک واقعے کی روشنی میں رہائشی علاقوں میں قائم ایسے سینٹرز کے خلاف آئندہ کے لائحہ عمل اور ممکنہ حفاظتی اقدامات کا تعین کرے گی۔