LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
آیت اللہ علی خامنہ ای کی نماز جنازہ میں شرکت کیلئے وزیراعظم رواں ہفتے ایران کا دورہ کریں گے چین: انسان نما روبوٹس نے فیکٹری میں 6 روزہ مسلسل ڈیوٹی کامیابی سے مکمل کر لی ایران کیخلاف جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی، بہت کام باقی ہے، نیتن یاہو انڈونیشیا وزیر تعلیم اور گوجیک ایپ کے بانی کو کرپشن پر اربوں روپے جرمانہ اور قید مفاہمتی یادداشت میں طے شدہ شرائط پوری ہونے تک مزید مذاکرات میں شامل نہیں ہوں گے: ایران بلوچستان کی سرحر پر افغان طالبان رجیم کے4 ڈرونز کو سیکیورٹی فورسز نے مار گرایا ئی اے ای اے کو ایرانی جوہری تنصیبات تک رسائی نہیں دی گئی، امریکہ مفاہمتی یادداشت کے تحت اپنے وعدے پورے کرے: اسماعیل بقائی برطانیہ کا مزید 45 ہزار غیر قانونی مقیم افراد کو ملک بدر کرنے کا اعلان فیفا ورلڈ کپ: ناروے نے آئیوری کوسٹ کو شکست دے کر پری کوارٹر فائنل کیلئے کوالیفائی کر لیا کاہنہ حادثہ پر ایجوکیشن اتھارٹی کی رپورٹ تیار، ضلعی انتطامیہ کو ارسال پاکستان نے پہلی بار بین الاقوامی زیتون کونسل میں مستقل رکن کی حیثیت سے نشست سنبھال لی اسرائیلی حملے شام کی خودمختاری کی کھلی خلاف ورزی ہیں: شامی صدر احمد الشرع ایرانی نائب وزیر خارجہ کل دوحہ میں قطری حکام سے اہم ملاقات کرینگے: ایران پیدائشی شہریت پر سپریم کورٹ کے فیصلے پر ٹرمپ کی تنقید، کانگریس سے قانون سازی کا مطالبہ جنوبی لبنان میں بفر زون کا قیام اسرائیل کی اہم کامیابی ہے: نیتن یاہو

کاہنہ حادثہ پر ایجوکیشن اتھارٹی کی رپورٹ تیار، ضلعی انتطامیہ کو ارسال

Web Desk

30 June 2026

کاہنہ میں ٹیوشن سینٹر کی چھت گرنے کے المناک واقعے پر ڈسٹرکٹ ایجوکیشن اتھارٹی لاہور نے اپنی ابتدائی انکوائری رپورٹ مکمل کر کے ضلعی انتظامیہ کو ارسال کر دی ہے۔

رپورٹ میں سنسنی خیز انکشافات سامنے آئے ہیں، جس کے مطابق حادثے کا شکار ہونے والا ٹیوشن سینٹر کسی بھی سرکاری ادارے یا محکمہ تعلیم کے ساتھ رجسٹرڈ نہیں تھا بلکہ ایک نجی رہائشی گھر میں غیر قانونی طور پر قائم کیا گیا تھا۔ رپورٹ کے مطابق ایک خاتون نجی طور پر اپنے ہی رشتہ داروں اور قریبی لوگوں کے بچوں کو وہاں ٹیوشن پڑھاتی تھیں، اور حادثے کے وقت سینٹر میں 25 سے 30 بچے زیرِ تعلیم تھے۔

سی ای او (CEO) ایجوکیشن اتھارٹی لاہور طارق محمود نے اس حوالے سے واضح کیا کہ گھروں میں قائم ایسے نجی ٹیوشن سینٹرز کی رجسٹریشن کا کوئی باقاعدہ قانونی نظام موجود نہیں ہے، اور نہ ہی رہائشی گھروں میں چلنے والے یہ سینٹرز محکمہ تعلیم کے دائرۂ رجسٹریشن یا دائرہ اختیار میں آتے ہیں۔

انکوائری رپورٹ کے مطابق، اب ضلعی انتظامیہ اس المناک واقعے کی روشنی میں رہائشی علاقوں میں قائم ایسے سینٹرز کے خلاف آئندہ کے لائحہ عمل اور ممکنہ حفاظتی اقدامات کا تعین کرے گی۔