LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
ڈیمو کریٹس کا ٹرمپ انتظامیہ کے خلاف تحقیقات کا وسیع منصوبہ تیار کرنے کا فیصلہ امریکا کی ایران کو امداد فراہمی کرنیوالی کینیڈا میں قائم 8 مالیاتی کمپنیوں پر پابندیاں عائد امریکا نے میکسیکو کو بلیک ہاک فوجی ہیلی کاپٹرز فروخت کرنے کی منظوری دیدی عراق کا امریکی فوج کو اپنی سرزمین ہمسایہ ممالک کیخلاف حملوں کیلئے دینے سے انکار نو منتخب امریکی مسلم سینیٹر نے ایران کیخلاف جنگ کو غلط فیصلہ قرار دے دیا حوثی ملیشیا جارحیت سے باز نہ آئی، سعودیہ پر بیلسٹک میزائل اور ڈرون حملے روس یوکرین کے توانائی مراکز پر نئے حملوں کی تیاری کر رہا ہے، زیلنسکی پوپ لیو 12 روزہ دورے پر یوراگوئے پہنچ گئے روسی وفد کی امریکی خاتونِ اول میلانیا ٹرمپ سے ملاقات خوش آئند ہے، کریملن سپین کے جزائر کینری میں تارکینِ وطن کی آمد میں ریکارڈ اضافہ شارجہ بک فیئر میں پاکستان پویلین کا افتتاح، سفیر شفقت علی خان کی شرکت پاکستان کی حوثی ملیشیا کے سعودیہ پر حملوں کی شدید مذمت، مکمل یکجہتی کا اظہار ترکیہ کی پارلیمنٹ نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کی توثیق کردی پاکستان، برطانیہ کا انسداد دہشتگردی، سائبر کرائم، امیگریشن میں تعاون بڑھانے پر اتفاق ابوظہبی میں امریکا اور یوکرین کیساتھ مذاکرات سے قبل پوتن کی سلامتی کونسل سے اہم مشاورت

زرعی ترقیاتی بینک میں بڑے پیمانے پر مالی فراڈ، بےضابطگیوں کا انکشاف قرضوں کی عدم ریکوری کی شرح 44 فیصد یعنی 80 ارب 62 کروڑروپےتک پہنچ گئی

Web Desk

30 June 2026

زرعی ترقیاتی بینک کسانوں کی مدد کرنے اور ملک میں زراعت کو فروغ دینے کے بجائے خود مالی بے ضابطگیوں اور انتظامی ناکامیوں کی علامت بن گیا ہے۔ آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی جاری کردہ حالیہ آڈٹ رپورٹ میں بینک کے اندر اربوں روپے کی مالی بے قاعدگیوں، غیر منصفانہ قرضوں کی تقسیم اور اقربا پروری کے سنسنی خیز انکشافات ہوئے ہیں۔

آڈٹ رپورٹ کے مطابق، ایک انتہائی چونکا دینے والے واقعے میں ایک 78 سالہ عمر رسیدہ شخص کو میرٹ اور قواعد کی دھجیاں اڑاتے ہوئے 2 کروڑ 47 لاکھ روپے کی خطیر تنخواہ پر بینک میں آئی ٹی (IT) کنسلٹنٹ تعینات کر دیا گیا۔ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ زرعی ترقیاتی بینک نے اپنے 577 ارب روپے کے مجموعی اثاثوں میں سے 71 فیصد یعنی 414 ارب روپے کی بھاری رقم کسانوں کو دینے کے بجائے حکومتی سیکیورٹیز میں لگا دی، جس سے بینک نے 81 ارب روپے کا منافع تو کمایا، لیکن غریب کسانوں کو قرضوں کی فراہمی صرف 29 ارب 50 کروڑ روپے تک محدود رکھی گئی۔

علاوہ ازیں، قرضوں کی تقسیم میں شدید صوبائی تعصب اور غیر منصفانہ رویہ پایا گیا۔ گزشتہ 5 برسوں میں تقسیم کیے گئے 364 ارب روپے کے قرضوں میں سے 307 ارب 50 کروڑ روپے صرف پنجاب میں بانٹے گئے۔ صرف سال 2024ء میں جاری ہونے والے 72 ارب روپے کے قرضوں کا 85 فیصد حصہ بھی پنجاب کو ملا، جبکہ سندھ، بلوچستان، خیبرپختونخوا اور آزاد کشمیر کو مجموعی طور پر صرف 15 فیصد قرضے دیے گئے۔ جعلی کاغذات اور ڈیفالٹ کا حجم: آڈٹ میں بتایا گیا ہے کہ مالی اور بھرتیوں کے نظام میں سنگین خامیاں موجود ہیں، جبکہ بینک کے قرضوں کی عدم ریکوری (ریکوری نہ ہونے) کی شرح 44 فیصد یعنی 80 ارب 62 کروڑ روپے تک پہنچ چکی ہے۔ گزشتہ پانچ سالوں میں ڈیفالٹ کر جانے والے قرضوں کا حجم 53 ارب روپے سے تجاوز کر گیا ہے۔ رپورٹ میں جعلی کاغذات، انشورنس کلیمز اور فیک دستاویزات پر من پسند افراد کو قرضوں کی منظوری کے ٹھوس شواہد بھی سامنے آئے ہیں۔