LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
ڈیمو کریٹس کا ٹرمپ انتظامیہ کے خلاف تحقیقات کا وسیع منصوبہ تیار کرنے کا فیصلہ امریکا کی ایران کو امداد فراہمی کرنیوالی کینیڈا میں قائم 8 مالیاتی کمپنیوں پر پابندیاں عائد امریکا نے میکسیکو کو بلیک ہاک فوجی ہیلی کاپٹرز فروخت کرنے کی منظوری دیدی عراق کا امریکی فوج کو اپنی سرزمین ہمسایہ ممالک کیخلاف حملوں کیلئے دینے سے انکار نو منتخب امریکی مسلم سینیٹر نے ایران کیخلاف جنگ کو غلط فیصلہ قرار دے دیا حوثی ملیشیا جارحیت سے باز نہ آئی، سعودیہ پر بیلسٹک میزائل اور ڈرون حملے روس یوکرین کے توانائی مراکز پر نئے حملوں کی تیاری کر رہا ہے، زیلنسکی پوپ لیو 12 روزہ دورے پر یوراگوئے پہنچ گئے روسی وفد کی امریکی خاتونِ اول میلانیا ٹرمپ سے ملاقات خوش آئند ہے، کریملن سپین کے جزائر کینری میں تارکینِ وطن کی آمد میں ریکارڈ اضافہ شارجہ بک فیئر میں پاکستان پویلین کا افتتاح، سفیر شفقت علی خان کی شرکت پاکستان کی حوثی ملیشیا کے سعودیہ پر حملوں کی شدید مذمت، مکمل یکجہتی کا اظہار ترکیہ کی پارلیمنٹ نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کی توثیق کردی پاکستان، برطانیہ کا انسداد دہشتگردی، سائبر کرائم، امیگریشن میں تعاون بڑھانے پر اتفاق ابوظہبی میں امریکا اور یوکرین کیساتھ مذاکرات سے قبل پوتن کی سلامتی کونسل سے اہم مشاورت

سپین کے جزائر کینری میں تارکینِ وطن کی آمد میں ریکارڈ اضافہ

Web Desk

7 November 2026

اسپین کے جزائر کینری (Canary Islands) میں تارکینِ وطن کی آمد میں ریکارڈ اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جہاں ہزاروں افراد سمندری راستوں سے اپنی جانیں خطرے میں ڈال کر یورپ میں داخل ہونے کی کوششیں کر رہے ہیں۔

برطانوی میڈیا کے مطابق، جاری ماہِ نومبر کے ابتدائی 6 روز کے دوران سمندر میں کارروائیاں کرتے ہوئے 3 ہزار 261 تارکینِ وطن کو بحفاظت ریسکیو کر لیا گیا ہے۔ حال ہی میں اسپین کے ساحل کے قریب 2 غیر قانونی کشتیوں سے مزید 500 تارکینِ وطن کو بچایا گیا، جبکہ ایک کشتی سے ایک شخص کی لاش بھی برآمد ہوئی۔ کینری انتظامیہ کا کہنا ہے کہ گزشتہ چند ہفتوں میں ساحل کے قریب مختلف حادثات کے نتیجے میں 9 تارکینِ وطن لقمہ اجل بن چکے ہیں۔

جزائر کینری کے حکام نے صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ تارکینِ وطن کی موجودہ لہر کے باعث سال 2024ء کے تمام ریکارڈز ٹوٹنے کا شدید خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ مقامی حکام نے بحران کی شدت کو ناقابلِ برداشت قرار دیتے ہوئے مرکزی حکومت اور یورپی یونین سے تارکینِ وطن کی اس آمد کو روکنے اور ساحلی سیکیورٹی کے لیے فوری و سخت اقدامات اٹھانے کا مطالبہ کیا ہے۔