اسلام آباد ہائیکورٹ نے بانی اور بشریٰ بی بی کی توہینِ عدالت کی درخواستیں غیرموثر قرار دے کر نمٹا دیں
Web Desk
29 June 2026
اسلام آباد: اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس سرفراز ڈوگر کی سربراہی میں قائم بنچ نے بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی سزا کے خلاف دائر مرکزی اپیلوں پر سماعت کی، جس کے دوران وکلاء صفائی کی جانب سے التوا کی استدعا مسترد کرتے ہوئے عدالت نے قومی احتساب بیورو (نیب) کو دلائل کا آغاز کرنے کی تزویراتی ہدایت جاری کر دی۔ سماعت کے آغاز پر بانی پی ٹی آئی کے مرکزی وکیل بیرسٹر سلمان صفدر نے عدالت کو آگاہ کیا کہ “اسلام آباد ہائیکورٹ نے بانی اور بشریٰ بی بی کی توہینِ عدالت کی درخواستیں غیر موثر قرار دے کر نمٹا دی ہیں، جس کے خلاف ہم نے سپریم کورٹ آف پاکستان میں باقاعدہ اپیل دائر کر رکھی ہے، لہٰذا ہمیں اعلیٰ عدلیہ کے فیصلے تک کا وقت دیا جائے۔”
بیرسٹر سلمان صفدر نے تزویراتی نقطہ اٹھاتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ اگر ہائیکورٹ میں ان مرکزی اپیلوں پر دلائل شروع ہو جاتے ہیں، تو پھر سپریم کورٹ جانے کی پوری قانونی ایکسرسائز بے معنی ہو کر رہ جائے گی۔ انہوں نے استدعا کی کہ “میری گزارشات پہلے سن لیں، میں سزا معطلی کے فیصلوں کے خلاف بھی سپریم کورٹ گیا ہوں، تو دوسری طرف عدالت کیسے مرکزی اپیلوں پر دلائل شروع کر سکتی ہے؟” وکیلِ صفائی کا کہنا تھا کہ یہ اپیلیں چار ہفتے پہلے ہی میچور ہوئی ہیں، جبکہ سردار لطیف کھوسہ اور بیرسٹر علی ظفر کی دیگر اپیلیں اب بھی التوا میں پڑی ہیں۔ اس پر چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے استفسار کیا کہ “کیا آپ ہائیکورٹ کو ڈائریکشن دے سکتے ہیں؟ جب میں کہہ رہا ہوں کہ ہم نے اپیلیں سننی ہیں، تو ہم سن رہے ہیں۔” بیرسٹر سلمان صفدر نے جواب دیا کہ وہ عدالت کو ڈائریکشن نہیں دے سکتے، تاہم ان کے پاس اس وقت مرکزی اپیلوں پر دلائل دینے کے حوالے سے موکل کی طرف سے کوئی ہدایات موجود نہیں ہیں۔
وکلاء صفائی کی جانب سے دلائل نہ دینے پر چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ “بانی اور بشریٰ بی بی کے وکلاء نے عدالتی حکم کے باوجود دلائل کا آغاز نہیں کیا، اس لیے عدالت کے پاس اب کوئی دوسرا آپشن نہیں بچا کہ نیب کو دلائل شروع کرنے کا کہا جائے۔” معزز عدالت نے نیب پراسیکیوٹر کو روسٹرم پر بلا کر باقاعدہ دلائل شروع کرنے کی ہدایت کر دی۔ اس نازک موڑ پر پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان روسٹرم پر آگئے اور استدعا کی کہ “ہمیں صرف دو ہفتے کا وقت دے دیں، ہم اس حساس معاملے پر عدالت کی بھرپور معاونت کریں گے۔” چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ “یہ کوئی مناسب طریقہ کار نہیں ہے، میں محسوس کر رہا ہوں کہ آپ لوگ مل کر عدالت کو پریشرائز کرنے کی کوشش کر رہے ہیں؛ آپ سب کے وکالت نامے فائل پر موجود ہیں اور پھر بھی آپ کہہ رہے ہیں کہ دلائل نہیں دے سکتے۔”
اسی دوران سینئر قانون دان سردار لطیف کھوسہ نے مداخلت کرتے ہوئے مصلحانہ پیشکش کی اور کہا کہ “مجھے دو ہفتے کا وقت دے دیں، میں خود جیل جا کر بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی سے تفصیلی ملاقات کر لوں گا۔” چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے سردار لطیف کھوسہ سے استفسار کیا کہ “کیا ہم آپ کی طرف سے اس حوالے سے باقاعدہ انڈر ٹیکنگ (Undertaking) لکھ دیں؟” لطیف کھوسہ کی رضامندی پر عدالت نے تحریری عدالتی آرڈر میں یہ انڈر ٹیکنگ ریکارڈ کا حصہ بنا دی کہ مروجہ وکلاء دو ہفتوں میں بانی پی ٹی آئی سے جیل میں ملاقات مکمل کریں گے اور آئندہ سماعت پر ہر صورت اپیلوں پر اپنے حتمی دلائل کا آغاز کریں گے۔ اس یقین دہانی کے بعد اسلام آباد ہائیکورٹ نے کیس کی مزید سماعت کو دو ہفتوں کے لیے ملتوی کر دیا۔
متعلقہ عنوانات
جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کے 4 اہم اجلاس طلب؛ ہائی کورٹس کے ججز کی مستقلی اور نئی تعیناتیوں پر غور ہوگا
6 July 2026
غیر ملکی ہیکرز کا سی ڈی اے پر بڑا سائبر حملہ؛ اسلام آبادیوں کا ٹیکس و بلنگ ڈیٹا ہیک، بحالی کے لیے ایک ماہ کی مہلت
6 July 2026
متنازعہ ٹویٹس کیس؛ سپریم کورٹ کا ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی کی درخواستوں پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل کو نوٹس جاری
6 July 2026
لاہور میں غیر ملکی خواتین کے اغوا و زیادتی کیس میں اہم انکشافات؛ گینگ کا سرغنہ ‘وحید طاہر’ نکلا، اعضاء فروخت کرنے کی دھمکیاں دینے کا انکشاف
6 July 2026
پاکستان دہشت گردی کے خلاف ہر ضروری اقدام کا حق محفوظ رکھتا ہے: فیلڈ مارشل
6 July 2026
صدرمملکت کرغزستان پہنچ گئے، ایئر پورٹ پر گارڈ آف آنرز پیش
6 July 2026
مودی حکومت عالمی پانی قوانین کی کھلی خلاف ورزی کی مرتکب ہے: عظمیٰ بخاری
6 July 2026
گروپ کیپٹن عاصم قتل کیس کا ملزم 14 روزہ شناخت پریڈ کیلئے جیل منتقل
6 July 2026