LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
اسرائیل نے خطے میں نیا محاذ کھولنے کی تیاری شروع کردی عالمی و مقامی گولڈ مارکیٹس میں ایک دن کے وقفے کے بعد سونے کی قیمتوں میں پھر بڑی کمی سوئٹزرلینڈ مذاکرات, 12 ارب ڈالر کے منجمد اثاثوں کے اجرا کے لیے دستخط کو حتمی شکل دے دی گئی سلامتی کونسل نے “امن دستوں کیخلاف جرائم کا محاسبہ” قرارداد منظور کرلی چیف جسٹس یحییٰ آفریدی، چیف جسٹس امین الدین خان کی روس میں عالمی قانونی فورم میں شرکت اسحاق ڈار اور چینی وزیر خارجہ کا رابطہ، اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر تبادلہ خیال ایرانی اور سعودی وزرائے خارجہ کا رابطہ، مذاکراتی عمل اور تعاون جاری رکھنے پر اتفاق ایران معاہدے کی پاسداری نہیں کرے گا تو مختلف آپشنز موجود ہیں: مارکو روبیو فیفا ورلڈ کپ کے ابتدائی دو راؤنڈز میں 5 ٹیمیں ٹورنامنٹ سے باہر پیشگوئی کرتا ہوں اگلا بجٹ شہباز حکومت پیش نہیں کرے گی، سہیل آفریدی یورپ شدید ہیٹ ویو کی لپیٹ میں,فرانس میں 40 افراد جاں بحق، کئی ممالک میں گرمی کے ریکارڈ ٹوٹ گئے سندھ حکومت کا مزید ڈبل ڈیکر اور الیکٹرک بسیں چلانے کا اعلان پاکستان کی پرو ہاکی لیگ میں لگاتار 14ویں شکست، انگلینڈ نے بھی ہرا دیا خیبر پختونخوا فنانس بل میں نئے ٹیکس عائد، جرمانوں میں بڑا اضافہ خیبر پختونخوا اسمبلی نے نئے مالی سال کا 2170 ارب کا بجٹ منظور کر لیا

بچپن میں میٹھے مشروبات ادھیڑ عمری میں کن مسائل کا سبب بن سکتا ہے؟

Web Desk

24 June 2026

بچپن میں پھلوں کے ڈبہ بند جوس، سافٹ ڈرنکس اور دیگر میٹھے مشروبات کا زیادہ استعمال جوانی اور ادھیڑ عمری میں ہائی بلڈ پریشر (High Blood Pressure) کا خطرہ نمایاں طور پر بڑھا سکتا ہے۔ امیریکن ہارٹ ایسوسی ایشن کی جانب سے کی گئی ایک طویل المدت سائنسی تحقیق میں یہ چونکا دینے والا انکشاف سامنے آیا ہے۔

اس جامع تحقیق کے دوران 25 سال تک 9 سے 16 سال کی عمر کے 25 ہزار سے زائد امریکی شہریوں کی غذائی عادات اور صحت کا باریک بینی سے جائزہ لیا گیا۔ نتائج سے معلوم ہوا کہ جو بچے بچپن میں روزانہ 12 اونس (تقریباً 355 ملی لیٹر) کے دو یا اس سے زیادہ میٹھے مشروبات پیتے تھے، ان میں جوانی یا ادھیڑ عمری میں ہائی بلڈ پریشر ہونے کا خطرہ اُن افراد کے مقابلے میں 52 فیصد زیادہ تھا جو ہفتے میں تین سے کم بار ایسے مشروبات استعمال کرتے تھے۔

ہائی بلڈ پریشر ایک ایسی خاموش مگر خطرناک طبی حالت ہے جس میں خون رگوں کی دیواروں پر معمول سے زیادہ دباؤ ڈالتا ہے۔ اگر اس پر بروقت قابو نہ پایا جائے تو یہ مسئلہ دل اور گردوں کی سنگین بیماریوں، اچانک فالج (Stroke) اور یادداشت کی خرابی (Dementia) کے خطرات میں مہیب اضافہ کر دیتا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق، صرف امریکہ میں اس وقت 12 کروڑ 50 لاکھ سے زائد بالغ افراد ہائی بلڈ پریشر کا شکار ہیں۔

ہارورڈ ٹی ایچ چین اسکول آف پبلک ہیلتھ سے وابستہ ماہرِ غذائیت وسانتی ملک کے مطابق، یہ تحقیق بچوں کی ابتدائی صحت کے حوالے سے انتہائی اہم ہے:

 زندگی کے ابتدائی برسوں اور لڑکپن میں اپنائی گئی غذائی عادات انسان کی مجموعی صحت پر عمر بھر کے لیے انتہائی گہرے اور دیرپا اثرات مرتب کرتی ہیں۔ہائی بلڈ پریشر اب صرف بڑی عمر کا مسئلہ نہیں رہا بلکہ یہ کم عمری میں بھی زیادہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ نوجوان بالغوں، بچوں اور نوعمروں میں اس کی شرح تیزی سے بڑھ رہی ہے۔

طبی ماہرین نے اس تحقیق کے تناظر میں زور دیا ہے کہ نوجوان نسل کو مستقبل کے جان لیوا امراض سے بچانے کے لیے بچپن ہی سے ان کی خوراک کی مانیٹرنگ، میٹھے مشروبات کی روک تھام اور عادات کی بروقت تشخیص پر خصوصی توجہ دی جائے۔