LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
اقوام متحدہ کی تحقیقات، ایران میں امریکی حملوں پر جنگی جرائم کے شواہد کا دعویٰ کردیا 27ستمبر کو پی ٹی آئی اسلام آباد نہیں پہنچے گی، بانی کی رہائی سزا پوری ہونے کے بعد ممکن ہے: فیصل کریم کنڈی پارلیمنٹ ہاؤس: اپوزیشن چیمبر میں علامہ ناصر عباس اور محمود خان اچکزئی کی ملاقات، آئین تحفظ اجلاس پر اہم مشاورت وزیراعلیٰ مریم نواز نے دورہ لندن کیلئے سرکاری طیارے کے استعمال کی رقم ادا کردی روسی افواج کے یوکرین کی دفاعی صنعت اور توانائی تنصیبات پر بڑے حملے سپریم کورٹ: ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ کی سزائیں معطل، ضمانت پر رہائی کا حکم امریکا میں بس حادثے کی لائیو کوریج کرنے والا نیوز ہیلی کاپٹر گر کر تباہ، 3 افراد ہلاک پنجاب کی ماتحت عدالتوں میں عملے کی بھرتیوں کا 150 سالہ پرانا نظام ختم پی آئی اے کی جدہ پہنچنے والی پرواز میں آگ کی اطلاع پر مسافروں کا ہنگامی اخراج بشری بی بی نے 190 ملین پاؤنڈ کیس میں سزا معطلی کی اپیل پر جلد سماعت کیلئے آئینی عدالت سے رجوع ملک میں طبقاتی کشمکش اور پی ٹی آئی رہنماؤں پر مظالم کا سلسلہ جاری ہے، سپریم کورٹ میں بے بسی دیکھی: سلمان اکرم راجہ افغانستان سے دہشتگردی کے خطرات پر دفاع میں کارروائی کریں گے: عاصم افتخار حرمین شریفین کی حرمت، سعودی عرب کی سالمیت پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا: دفتر خارجہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے حوثیوں سے براہِ راست رابطے کی تصدیق کردی حوثیوں کا سعودی جنگی طیارہ مار گرانے کا دعویٰ، اتحادی افواج کے کمیونیکیشن ٹاورز پر حملے

خواتین اچھی نیند کے باوجود خود کو زیادہ تھکا ہوا کیوں محسوس کرتی ہیں؟

Web Desk

23 June 2026

خواتین اکثر اچھی اور مناسب نیند لینے کے باوجود اپنی نیند کو مردوں کے مقابلے میں زیادہ خراب قرار دیتی ہیں—ایک نئی اور سائنسی تحقیق میں یہ دلچسپ انکشاف سامنے آیا ہے کہ خواتین کی نیند کی مانیٹرنگ کے بعد حقیقی نتائج کچھ اور تھے، لیکن ان کا اپنا احساس اور رائے بالکل مختلف تھی۔

محققین نے تحقیق کے دوران تقریباً 500 افراد کی نیند کا گہرا سائنسی مطالعہ کیا۔ اس دوران شرکا کی نیند کے دوران دماغی سرگرمی (Brain Activity)، سانس لینے کے عمل اور جسمانی حرکات کا جدید آلات کے ذریعے تفصیلی جائزہ لیا گیا، اور صبح ان سے ان کی رات کی نیند کے معیار سے متعلق رائے لی گئی۔سائنسی آلات کے ذریعے حاصل ہونے والی نیند کی اصل پیمائش (Objective Measurement) کے مطابق خواتین کئی بار مردوں کے مقابلے میں زیادہ بہتر اور پرسکون نیند لے رہی تھیں، لیکن اس کے باوجود جب ان سے پوچھا گیا تو انہوں نے اپنی نیند کو کم معیاری اور غیر تسلی بخش قرار دیا۔ سویڈن کے نامور کیرولنسکا انسٹیٹیوٹ کے پروفیسر ڈاکٹر ٹوربجورن آکرشٹڈ کے مطابق یہ ایک حیران کن تضاد ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ممکنہ طور پر مرد رات کے دوران ہونے والی انتہائی مختصر بیداریوں (Micro-awakenings) کو محسوس ہی نہیں کرتے یا صبح تک بھول جاتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ وہ اپنی نیند کے بارے میں زیادہ مثبت اور اچھی رائے رکھتے ہیں۔ تحقیق میں یہ ثابت ہوا کہ خواتین رات کے دوران جتنی بار بھی جاگیں، وہ صبح اس کا بالکل درست اندازہ لگانے میں کامیاب رہیں، جبکہ مرد اکثر اپنی رات کی مختصر بیداریوں کی تعداد کو بہت کم سمجھتے رہے۔محققین کے مطابق مردوں میں رات کو اچانک جاگنے کا دورانیہ عموماً بہت کم ہوتا ہے اور چند لمحوں کے لیے جاگنے کے بعد وہ دوبارہ گہری نیند سو جاتے ہیں، جس کی وجہ سے وہ اپنی نیند کو بہتر کہتے ہیں۔ جبکہ خواتین ان مختصر بیداریوں کو دماغی طور پر زیادہ محسوس کرتی ہیں اور اسی وجہ سے اپنی نیند کو خراب قرار دیتی ہیں۔ تحقیق میں یہ بھی دیکھا گیا کہ عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ مردوں اور خواتین کی نیند کے ان تجربات کا یہ فرق مزید واضح اور نمایاں ہونے لگتا ہے۔

طبی ماہرین کا اس تحقیق کے بعد یہ نتیجہ اخذ کرنا ہے کہ نیند کا اچھا یا برباد ہونا صرف اس بات پر منحصر نہیں کہ انسان بستر پر کتنے گھنٹے سویا، بلکہ اس بات پر بھی گہرا اثر انداز ہوتا ہے کہ انسان کا دماغ رات کے دوران ہونے والی چھوٹی چھوٹی بیداریوں اور تبدیلیوں کو کس طرح محسوس کرتا ہے اور صبح تک انہیں کتنا یاد رکھتا ہے۔