خواتین اچھی نیند کے باوجود خود کو زیادہ تھکا ہوا کیوں محسوس کرتی ہیں؟
Web Desk
23 June 2026
خواتین اکثر اچھی اور مناسب نیند لینے کے باوجود اپنی نیند کو مردوں کے مقابلے میں زیادہ خراب قرار دیتی ہیں—ایک نئی اور سائنسی تحقیق میں یہ دلچسپ انکشاف سامنے آیا ہے کہ خواتین کی نیند کی مانیٹرنگ کے بعد حقیقی نتائج کچھ اور تھے، لیکن ان کا اپنا احساس اور رائے بالکل مختلف تھی۔
محققین نے تحقیق کے دوران تقریباً 500 افراد کی نیند کا گہرا سائنسی مطالعہ کیا۔ اس دوران شرکا کی نیند کے دوران دماغی سرگرمی (Brain Activity)، سانس لینے کے عمل اور جسمانی حرکات کا جدید آلات کے ذریعے تفصیلی جائزہ لیا گیا، اور صبح ان سے ان کی رات کی نیند کے معیار سے متعلق رائے لی گئی۔سائنسی آلات کے ذریعے حاصل ہونے والی نیند کی اصل پیمائش (Objective Measurement) کے مطابق خواتین کئی بار مردوں کے مقابلے میں زیادہ بہتر اور پرسکون نیند لے رہی تھیں، لیکن اس کے باوجود جب ان سے پوچھا گیا تو انہوں نے اپنی نیند کو کم معیاری اور غیر تسلی بخش قرار دیا۔ سویڈن کے نامور کیرولنسکا انسٹیٹیوٹ کے پروفیسر ڈاکٹر ٹوربجورن آکرشٹڈ کے مطابق یہ ایک حیران کن تضاد ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ممکنہ طور پر مرد رات کے دوران ہونے والی انتہائی مختصر بیداریوں (Micro-awakenings) کو محسوس ہی نہیں کرتے یا صبح تک بھول جاتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ وہ اپنی نیند کے بارے میں زیادہ مثبت اور اچھی رائے رکھتے ہیں۔ تحقیق میں یہ ثابت ہوا کہ خواتین رات کے دوران جتنی بار بھی جاگیں، وہ صبح اس کا بالکل درست اندازہ لگانے میں کامیاب رہیں، جبکہ مرد اکثر اپنی رات کی مختصر بیداریوں کی تعداد کو بہت کم سمجھتے رہے۔محققین کے مطابق مردوں میں رات کو اچانک جاگنے کا دورانیہ عموماً بہت کم ہوتا ہے اور چند لمحوں کے لیے جاگنے کے بعد وہ دوبارہ گہری نیند سو جاتے ہیں، جس کی وجہ سے وہ اپنی نیند کو بہتر کہتے ہیں۔ جبکہ خواتین ان مختصر بیداریوں کو دماغی طور پر زیادہ محسوس کرتی ہیں اور اسی وجہ سے اپنی نیند کو خراب قرار دیتی ہیں۔ تحقیق میں یہ بھی دیکھا گیا کہ عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ مردوں اور خواتین کی نیند کے ان تجربات کا یہ فرق مزید واضح اور نمایاں ہونے لگتا ہے۔
طبی ماہرین کا اس تحقیق کے بعد یہ نتیجہ اخذ کرنا ہے کہ نیند کا اچھا یا برباد ہونا صرف اس بات پر منحصر نہیں کہ انسان بستر پر کتنے گھنٹے سویا، بلکہ اس بات پر بھی گہرا اثر انداز ہوتا ہے کہ انسان کا دماغ رات کے دوران ہونے والی چھوٹی چھوٹی بیداریوں اور تبدیلیوں کو کس طرح محسوس کرتا ہے اور صبح تک انہیں کتنا یاد رکھتا ہے۔
متعلقہ عنوانات
پمز ہسپتال کی آتشزدگی میں زندہ بچ جانے والی نومولود بچی انتقال کر گئی
17 September 2026
جی ایل پی-1 ادویات استعمال کرنے والوں میں نایاب بیماری کا انکشاف
17 September 2026
خیبر پختونخوا صحت پروگرام میں سی سیکشن کی شرح 47 فیصد سے تجاوز کرگئی
17 September 2026
وزیراعظم کی 3 ماہ میں پمز ہسپتال میں فائر سیفٹی سمیت نظام بہتر کرنے کی ہدایت
16 September 2026
ملک بھر میں 20 ستمبر کو ایم ڈی کیٹ کا انعقاد: 1 لاکھ 38 ہزار سے زائد طلبہ امتحان دیں گے، وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال
16 September 2026
حالتِ سکون میں پاؤں کی ہڈیوں میں درد دل کی خطرناک بیماری کی علامت، ماہرین
16 September 2026
سانحہ پمز؛ 14 نومولود کیوں نہیں بچائے جا سکے؟ انکوائری رپورٹ میں انکشافات
15 September 2026
خواتین میں مصنوعی پلکوں کا استعمال، ماہرین نے خطرے کی گھنٹی بجا دی
15 September 2026