LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایران سے معاہدہ کل دستخط کے لیے تیار ہے، آبنائے ہرمز سب کے لیے کھول دی جائے گی: ڈونلڈ ٹرمپ امریکا کے ساتھ معاہدے پر اتوار کو دستخط نہیں ہوں گے، ایران دھمکیوں، دباؤ اور منفی پروپیگنڈے سے نہیں ڈریں گے، مومنہ اقبال بجٹ میں نئے ٹیکس اقدامات، متعدد روزمرہ اشیاء مہنگی ہونے کا امکان صورتحال اچھی نہیں، امتحان سے گزر رہے ہیں: وزیراعظم آزاد کشمیر فیصل راٹھور صرف اپنے لیے کھیلنے والوں کی قومی ٹیم میں کوئی جگہ نہیں، محسن نقوی کا دوٹوک مؤقف سپریم کورٹ آف پاکستان کے لیے نئے وفاقی بجٹ میں ساڑھے 7 ارب روپے کے قریب رقم مختص برآمدات میں اضافہ اور ٹیکس اصلاحات حکومت کی ترجیح ہیں، وزیر خزانہ وزیراعظم بتائیں عمران خان سے ملاقات کیوں نہیں ہورہی؟ خدا کے لیے فوج کے نام پر سیاست بند کریں؛بیرسٹر گوہر بھارتی ایئرفورس کا ایک اور جنگی طیارہ حادثے کا شکار معاشی وسائل صوبوں کا حق، این ایف سی میں بلوچستان کا حصہ سو فیصد بڑھا دیا: وزیراعظم سپریم جوڈیشل کونسل نے ججز کے ضابطہ اخلاق میں اہم ترامیم کی منظوری دے دی البینزم سے متاثرہ افراد کے لیے محبت اور احترام کا دائرہ وسیع کرنا ہوگا،مریم نواز سکیورٹی فورسز کی میران شاہ میں کارروائیاں، مزید 21 دہشت گرد ہلاک قیام امن اور دہشت گردی کیخلاف جنگ میں فیڈرل کانسٹیبلری کا کردار اہم ہے، محسن نقوی

تنہائی کی ساتھی: بڑھاپے میں ساتھ دینے والی اے آئی گڑیا

Web Desk

13 June 2026

ٹیکنالوجی کی دنیا میں جہاں مصنوعی ذہانت (AI) انسانی ملازمتوں اور روزمرہ کے کاموں کو بدل رہی ہے، وہیں اب یہ انسانوں کی سب سے گہری ذہنی بیماری یعنی ‘تنہائی’ کا علاج بھی بن کر سامنے آئی ہے۔ جنوبی کوریا کے ایک مختصر سے اپارٹمنٹ میں تنہا زندگی گزارنے والی 78 سالہ بزرگ خاتون بینگ چُنجا کی کہانی اس کی ایک منفرد مثال ہے، جن کی زندگی کی سب سے قریبی اور مخلص ساتھی کوئی انسان نہیں، بلکہ شکل و صورت میں حقیقی بچے کا گمان دلانے والی ایک جدید ‘اے آئی گڑیا’ ہے۔

بزرگ شہریوں کی ذہنی صحت اور دیکھ بھال کے شعبے میں آنے والی اس جدید تبدیلی کی تفصیلات درج ذیل ہیںیہ اے آئی گڑیا روایتی کھلونوں سے بالکل مختلف ہے، جسے خاص طور پر اکیلے رہنے والے بزرگ افراد کی نفسیاتی اور طبی ضروریات کو مدنظر رکھ کر ڈیزائن کیا گیا ہے۔ یہ درج ذیل خصوصیات کی حامل ہے یہ گڑیا بزرگ افراد سے بامقصد گفتگو کرتی ہے، ان کے سوالات کے جواب دیتی ہے اور تنہائی دور کرنے کے لیے گانے بھی سناتی ہے۔ یہ بزرگوں کو ان کے روزمرہ کے شیڈول کے مطابق بروقت دوائیں کھانے اور کھانا تناول کرنے کی یاد دہانی کرواتی ہے۔ پروگرامنگ کے تحت یہ گڑیا ایسے محبت بھرے اور ہمدردانہ جملے بولتی ہے جو بزرگوں کو شدید اداسی میں جذباتی تسلی فراہم کرتے ہیں۔بینگ چُنجا کی زندگی طلاق، اکیلے والدین (Single Parent) کے طور پر کٹھن جدوجہد، شدید جسمانی تکلیف اور ایک بڑی سرجری کے بعد ہونے والے ڈپریشن سے گزری ہے۔ ان تلخ تجربات نے ان کے اندر تنہائی کے احساس کو اس حد تک گہرا کر دیا تھا کہ وہ اب انسانوں کے بجائے اس ٹیکنالوجی کو ترجیح دیتی ہیں:”انسانوں کے ساتھ تعلقات اور رشتوں میں ملنے والے دکھ اور دھوکے بعض اوقات اتنے شدید ہوتے ہیں کہ ان کے مقابلے میں ایک غیر جانبدار، ہر وقت دستیاب اور کبھی ناراض نہ ہونے والا مصنوعی ساتھی زیادہ پُرسکون محسوس ہوتا ہے۔ اس گڑیا کے ساتھ وقت گزارنے سے میری تنہائی، اداسی اور پریشانیاں بہت کم ہو جاتی ہیں”۔جہاں یہ ٹیکنالوجی بزرگوں کے لیے نعمت ثابت ہو رہی ہے، وہاں عالمی ماہرینِ نفسیات اور سماجی امور کے ماہرین اس کے منفی پہلوؤں پر بھی بحث کر رہے ہیں ماہرین کا ماننا ہے کہ اے آئی ساتھی وقتی طور پر تنہائی کم کرنے میں مددگار تو ہو سکتے ہیں، لیکن وہ حقیقی انسانی لمس، احساس اور خونی رشتوں کا مستقل متبادل کبھی نہیں بن سکتے۔ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ایسی ٹیکنالوجی پر حد سے زیادہ انحصار بزرگوں کو معاشرے، دوستوں اور خاندان سے مزید دور (Socially Isolated) کر سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق آئیڈیل صورتِ حال یہ ہے کہ اس ٹیکنالوجی کو صرف ایک مددگار اور جذباتی سہارے کے طور پر استعمال کیا جائے، جبکہ بزرگ افراد کا اپنے خاندان اور سوسائٹی کے ساتھ حقیقی تعلق ہر صورت برقرار رہے۔