آدھا سرخ، آدھا پیلا! نایاب سیب نے پورے شہر کو حیرت میں ڈال دیا
Web Desk
12 June 2026
کرائسٹ چرچ: نیوزی لینڈ کے ایک پھل فروش اسٹور میں ملنے والے ایک انتہائی غیر معمولی اور نایاب سیب نے سوشل میڈیا اور مقامی سطح پر لوگوں کی توجہ اپنی جانب مبذول کر لی ہے۔ یہ منفرد سیب اپنی حیران کن اور اچھوتی شکل و صورت کے باعث کرائسٹ چرچ میں خاصا مشہور ہو چکا ہے، کیونکہ اس سیب کا ایک حصہ مکمل طور پر شوخ سرخ جبکہ دوسرا حصہ بالکل پیلا ہے۔
رپورٹس کے مطابق، یہ نایاب سیب مئی کے وسط میں نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ کے مضافاتی علاقے مائر یہاؤ میں واقع ’سن شائن کارنر مارکیٹ‘ میں پہنچنے والی سیبوں کی ایک عام کھیپ سے دریافت ہوا۔ دلچسپ اور حیران کن بات یہ ہے کہ سیب کا رنگ کسی ملاوٹ کے بغیر، تقریباً عین درمیان سے دو واضح حصوں میں تقسیم ہے، جس نے دکان کے عملے اور گاہکوں دونوں کو دنگ کر دیا۔ یہ سیب عام اور عمدہ معیار کے رسیلے، میٹھے اور خستہ سیبوں کے درمیان چھپا ہوا تھا۔
زرعی ماہرین اور نباتاتی سائنسدانوں کے مطابق، اس طرح کا دو رنگوں والا (Two-Toned) سیب انتہائی نایاب پایا جاتا ہےایک اندازے کے مطابق 10 لاکھ پھلوں میں سے کسی ایک سے بھی کم میں یہ منفرد خصوصیت دیکھی جاتی ہے۔سائنسی زبان میں اس کی وجہ ایک نایاب جینیاتی تبدیلی (Genetic Mutation) ہوتی ہے، جس کے نتیجے میں پھل ایسے خلیات (Cells) سے تشکیل پاتا ہے جو دو بالکل مختلف جینیاتی پس منظر رکھتے ہیں، جسے نباتاتی اصطلاح میں ‘کیمیرا’ بھی کہا جاتا ہے۔اسٹور کی خاتون مالک ہیدر نے مقامی میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے بتایا کہ یہ سیب اب ان کی دکان پر ایک باقاعدہ ’’سلیبریٹی‘‘ کی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔ ان کے بقول: “لوگ اسے دیکھ کر گھر جاتے ہیں اور اپنے اہلِ خانہ کو بتاتے ہیں، لیکن جب کوئی یقین نہیں کرتا تو وہ دوبارہ اپنے شریکِ حیات یا دوستوں کو ساتھ لے کر اسے دیکھنے آتے ہیں اور اس کے ساتھ سیلفیاں بنواتے ہیں”۔
ہیدر کا کہنا تھا کہ وہ طویل عرصے سے پھلوں کے کاروبار سے وابستہ ہیں لیکن انہوں نے اپنی زندگی میں پہلی بار ایسا قدرت کا کرشمہ دیکھا ہے۔ بعض گاہک تو اسے خوش قسمتی کی علامت سمجھتے ہوئے کسی مقابلے، لاٹری یا اہم کام سے قبل اسے صرف چھونے (Touch) کی خواہش کا اظہار کرنے دکان پر آتے ہیں۔اسٹور انتظامیہ کے مطابق، اس سیب کی خوبصورتی اور تازگی کو برقرار رکھنے کے لیے اسے فی الحال ریفریجریٹر میں محفوظ کر دیا گیا ہے۔ تاہم، مالک ہیدر ابھی تک اس شش و پنج میں مبتلا ہیں کہ آیا اس سیب کو مستقل طور پر کسی کیمیکل کے ذریعے محفوظ کیا جائے یا پھر اسے درمیان سے کاٹ کر دیکھا جائے کہ کیا یہ اندر سے بھی اسی طرح دو مختلف رنگوں اور حصوں میں تقسیم ہے یا نہیں۔
متعلقہ عنوانات
چین کا شاہکار: 625 میٹر بلندآبشار پُل، سیاحوں کی توجہ کا مرکز بن گیا
30 July 2026
برطانیہ: 116 سال بعد لائبریری کو کتابیں واپس لوٹا دی گئیں
30 July 2026
4 آم کی قیمت صرف ’’6 لاکھ 12 ہزار روپے‘‘
29 July 2026
بیوی کو تنہا نہ چھوڑنے کیلئے شوہر بھی گہرے مین ہول میں گرگیا
29 July 2026
مہنگی ترین طلاق، عدالت کا سابقہ بیوی کو 644 ملین ڈالر دینے کا حکم
29 July 2026
وسیم اکرم اور شنیرا کا پالتو کتا لاپتہ
29 July 2026
امریکا: 53 برس بعد بوتل میں بند پیغام مل گیا
28 July 2026
امریکی شہری کو سائیکل چلانے کے دوران مشعل جگلنگ کرنا مہنگا پڑ گیا
28 July 2026