LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پاکستان اور کویت کے درمیان ‘پروٹوکول معاہدہ 2026’ پر دستخط بلوچستان کی صورتحال بارے دفاعی جائزہ اجلاس، سیف سٹی پروجیکٹ فعال کرنے کا فیصلہ وزیر خزانہ سے اسیاڈ گروپ کے وفد کی ملاقات، پاکستان میں سرمایہ کاری بڑھانے کا عزم فیلڈ مارشل عاصم منیر سے کویت کے اعلیٰ سطح وفد کی ملاقات، دفاعی تعاون پر تبادلہ خیال یوکرین میں غیر ملکی فوجی دستے روس کے جائز فوجی اہداف بنیں گے، ماریہ زخارووا شاہ غلام قادر، راجہ فاروق حیدر نے بیرسٹر افتخار گیلانی کو وزیراعظم نامزد کرنے کا فیصلہ مسترد کر دیا وزیر داخلہ کا نادرا میگا سینٹر میں پاسپورٹ آفس کی سہولت مہیا کرنے کا اعلان پاکستانی طالبات کیلئے بڑی خوشخبری، ٹیوشن فیس اور ہاسٹل سمیت اسکالرشپ کا اعلان پمز ہسپتال کے واقعے نے قوم کو غم میں مبتلا کر دیا: حافظ نعیم الرحمٰن بانی پی ٹی آئی کی شفا انٹرنیشنل منتقلی کا معاملہ: عظمیٰ خان کی توہینِ عدالت کی فوری سماعت کے لیے نئی درخواست دائر پمز حادثہ انتہائی دل خراش، کیٹی بندر پر ڈیپ سی پورٹ بنانا شہید بینظیر بھٹو کا خواب تھا: وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی نے وفاقی وزیر صحت سے استعفے کا مطالبہ کردیا سانحہ پمز کی تحقیقات کیلئے جوڈیشل کمیشن تشکیل دینے کی درخواست دائر دو سال سے زائد عرصے میں ٹرائل شروع نہ ہوسکا، قتل کیس کے ملزم کو ضمانت مل گئی امریکا، ایران کشیدگی کم کرنے کیلئے پاکستان کی کوششیں جاری ہیں: دفتر خارجہ

امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمت طے پا گئی، اتوار کو دستخط کا امکان

Web Desk

12 June 2026

امریکی جریدے ’بلومبرگ‘ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان ایک تاریخی ابتدائی مفاہمت طے پا گئی ہے، جس کے تحت تمام محاذوں پر 60 روزہ جنگ بندی اور آبنائے ہرمز کو فوری طور پر کھولنے پر اتفاق کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، پیر سے سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں شروع ہونے والے جی سیون (G7) سمٹ سے قبل، اس مفاہمتی یادداشت پر اتوار کو دستخط ہونے کا قوی امکان ہے۔

امریکی ذرائع ابلاغ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس ابتدائی معاہدے کے تحت فریقین درج ذیل اقدامات پر راضی ہوئے ہیں60 روزہ جنگ بندی کا اطلاق خطے کے تمام فعال محاذوں پر ہوگا۔ جنگ بندی کے اس دو ماہ کے دوران ایران کے جوہری پروگرام اور معاشی ایشوز پر حتمی مذاکرات جاری رہیں گے، تاہم ایران کے میزائل پروگرام پر کوئی بات چیت نہیں ہوگی۔ امریکہ کی جانب سے پابندیوں میں نرمی کو ایران کے عملی اقدامات سے مشروط کیا جائے گا۔

ایرانی ذرائع کے مطابق، مفاہمتی یادداشت کے مسودے میں تہران نے اپنے سخت مطالبات شامل کروائے ہیں ایرانی تیل پر عائد تمام پابندیاں اٹھائی جائیں گی اور عالمی بینکوں میں منجمد ایرانی اثاثے بحال کیے جائیں گے۔ ایران کے اطراف سے امریکی فوجیوں کا انخلا ہوگا اور خلیجِ عمان میں ایران کی بحری ناکہ بندی ختم کر کے آبنائے ہرمز کو مکمل کھولا جائے گا۔

“امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تصدیق کی ہے کہ ایران کے ساتھ معاہدے کی دستاویزات آخری مرحلے میں ہیں اور رواں ہفتے کے آخر تک اس ڈیل پر دستخط ہو جائیں گے۔ صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ: ‘مجھے پورا یقین ہے کہ ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای اس معاہدے کی منظوری دے چکے ہیں، اور باضابطہ ڈیل پر دستخط کے ایک ہفتے کے اندر آبنائے ہرمز کھول دی جائے گی، تاہم حتمی دستخط تک بحری ناکہ بندی برقرار رہے گی’”۔

ایرانی وزارتِ خارجہ نے واضح کیا ہے کہ امریکہ کے ساتھ ابھی کوئی حتمی فیصلہ یا سمجھوتہ طے نہیں پایا ہے، اگرچہ سفارتی رابطے مسلسل جاری ہیں۔ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے پریس بریفنگ میں کہا کہ: “ہم ابھی کسی حتمی نتیجے پر نہیں پہنچے ہیں۔ یہ درست ہے کہ معاہدے کے متن کے ایک بڑے حصے کو حتمی شکل دے دی گئی ہے، لیکن ایران اپنے قومی مفادات اور ریڈ لائنز پر کسی قسم کا کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا”۔

عالمی معاشی اور جیو پولیٹیکل مبصرین کے مطابق، اگر اتوار کو جنیوا سمٹ سے قبل اس ڈیل پر دستخط ہو جاتے ہیں، تو یہ مشرقِ وسطیٰ کی سیاست اور عالمی توانائی (تیل کی قیمتوں) کی مارکیٹ کے لیے ایک بہت بڑا بریک تھرو ثابت ہوگی۔