LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکی محکمہ محنت نے کگنیزنٹ کے لیے نئے گرین کارڈز (پرم) کا پروسیس معطل کر دیا ایران امریکی جہازوں کو نشانہ بنائے گا تو اپنے ٹینکرز سے ہاتھ دھونا پڑے گا، روبیو امریکی سینٹرل کمانڈ کا 5 ایرانی خام تیل بردار جہاز تباہ کرنے کا دعویٰ ایرانی بحریہ کا آبنائے ہرمز کے داخلی راستے پر امریکی بغیر پائلٹ آبدوز پکڑنے کا دعویٰ حملوں کا جواب: ایران نے امریکی فوجی اڈوں پر میزائلوں کی بارش کردی سعودی کابینہ کا ملکی خود مختاری، قومی سلامتی کے دفاع کے عزم کا اعادہ ایرانی وزیر خارجہ کی امریکا کی جانب سے نئی پابندیوں پر سخت تنقید امریکا کی ایران کی 27 فضائی کمپنیوں اور دیگر اداروں پر پابندیاں عائد امریکی صدر کا کینیڈا کے ساتھ تجارتی برابری نہ ہونے پر سخت ردعمل 27 ستمبر کا احتجاج اٹل، فیصلے پر نظر ثانی نہیں کر سکتے: بیرسٹر گوہر مسلم لیگ ن صوبوں کے معاملے پر ایک پیج پر ہے، مریم نواز سپانتک چوٹی پر جاں بحق ڈاکٹر اسما مشتاق کی لاہور میں نماز جنازہ ادا حوثیوں کے سعودیہ پر حملوں میں واضح ایرانی ہاتھ نظر آتا ہے: امریکی وزیر خارجہ برطانیہ سمیت بارہ ممالک کا اسرائیلی بستیوں کی مصنوعات پر پابندیاں عائد کرنے کا اعلان بلاول بھٹو کا محسن نقوی کے سسٹم فیل ہونے کے بیان پر قومی اسمبلی میں بحث کا مطالبہ

حقیقی ’پائریٹس آف دی کیریبیئن‘ کا شکار بنے جہاز کی باقیات دریافت

Web Desk

6 June 2026

ناساؤ/لندن: برطانوی غوطہ خوروں نے بہاماس کے سمندر کی تہہ سے ایک انتہائی سنسنی خیز اور تاریخی کامیابی حاصل کرتے ہوئے لگ بھگ 300 برس قبل حقیقی ‘پائریٹس آف دی کیریبیئن’ (سمندری قزاقوں) کے حملوں کے نتیجے میں غرق ہونے والے بحری جہازوں کے ملبے دریافت کر لیے ہیں۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق، یہ بحری جہاز تاریخ کے خطرناک ترین اور سفاک قزاقوں ‘بلیک بیئرڈ’ اور ‘کیلیکو جیک ریکھم’ کے حملوں کی وجہ سے سمندر برد ہوئے تھے، جنہوں نے 1690 کی دہائی سے لے کر 1720 کی دہائی تک کیریبیئن کے سمندروں پر بے تاج راج کیا تھا۔

اپنی نوعیت کی اس پہلی اور منفرد سمندری مہم کے دوران بہاماس بے کی تہہ سے جہازوں کی چھ ناقابلِ یقین باقیات سامنے آئی ہیں دریافت ہونے والے ملبوں میں سے تین بحری جہازوں کا تعلق براہِ راست ’قزاقوں کے سنہرے دور‘ سے پایا گیا ہے۔یہ وہ دور تھا جب یہ قزاق تجارتی اور مال بردار جہازوں پر اچانک حملہ کرتے، ان کا قیمتی سامان لوٹتے اور پھر ثبوت مٹانے کے لیے جہازوں کو آگ لگا کر سمندر کی تہہ میں غرق کر دیتے تھے۔

دریافت ہونے والے ملبے میں سے سب سے اہم سراغ مشہور قزاق بادشاہ ہنری ایوری کے ایک بڑے حملے سے ملتا ہے۔ تاریخ کے مطابق ہنری ایوری نے ایک بڑے مال بردار جہاز سے سونا اور چاندی لوٹنے کے بعد اسے ناساؤ کے ساحل کے قریب آگ لگا کر ڈبو دیا تھا۔

اسی طرح ہنری ایوری کے زیرِ استعمال ’فینسی‘ نامی 46 توپوں والے جہاز کی لوٹ مار کو دنیا کی سب سے بڑی سمندری ڈکیتی شمار کیا جاتا ہے۔ اس نے ایک جہاز سے ہیرے، سونا اور نیلم پر مشتمل وہ تاریخی خزانہ لوٹا تھا جس کی مالیت آج کے حساب سے تقریباً 8 کروڑ 50 لاکھ پاؤنڈ (پاکستانی کرنسی میں 3 ارب 15 کروڑ روپے سے زیادہ) بنتی ہے۔

برطانوی سمندری ماہرِ آثارِ قدیمہ ڈاکٹر شان کنگزلی اور بہاماس کے ڈاکٹر مائیکل پیٹمین کی سربراہی میں کام کرنے والی مشترکہ تحقیقی ٹیم کا قوی خیال ہے کہ شاید انہیں اسی تاریخی جہاز کے جلے ہوئے بقایاجات مل چکے ہیں۔ یہ جلے ہوئے ملبے نیو پروویڈنس جزیرے پر واقع قزاقوں کے اُس دور کے مشہور ٹھکانے ‘ناساؤ’ کے اطراف سمندر کی تہہ میں بکھرے ہوئے پائے گئے ہیں۔

مہم جو ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر لیبارٹری ٹیسٹ اور مینوئل شواہد کے بعد یہ دریافت سو فیصد درست ثابت ہوتی ہے، تو یہ دنیا بھر میں قزاقوں کی تاریخ کی اب تک کی سب سے سنسنی خیز اور بڑی دریافت ہوگی، کیونکہ اس کا تعلق اُس افسانوی خزانے سے ہے جس نے ہنری ایوری کو رہتی دنیا تک تاریخ کا امیر اور مشہور ترین قزاق بنا دیا تھا۔