LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
آزاد کشمیر: 9 جون کی ہڑتال کی کال، انٹرنیٹ معطل، معمولات زندگی متاثر آزاد جموں و کشمیر: کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کے 72 کارکن گرفتار یلو لائن منصوبے میں 6ارب روپے کی مبینہ کرپشن، سندھ حکومت نے تحقیقات شروع کر دیں پنجاب اسمبلی میں ترقی، جدید کاری کیلئے 7 ارب 41 کروڑ کے ترقیاتی پیکیج کی تجویز نائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار کی زیرِ صدارت اعلیٰ سطح کا اجلاس ملک بھر میں شدید ہیٹ ویو کا الرٹ؛ درجہ حرارت 46 ڈگری تک جانے کی پیشگوئی، محکمہ موسمیات تنخواہوں میں 10 تا15 فیصد اضافے کی تجویز، حتمی فیصلہ وزیراعظم کریں گے وزیراعظم کی قیادت میں پاک چین معاشی تعاون نئی بلندیوں کی جانب گامزن ہے، ملک احمد خان گلگت بلتستان اسمبلی انتخابات 2026؛ الیکشن کمیشن کی تیاریاں مکمل، پولنگ کا سامان پرزائیڈنگ آفیسرز کے حوالے کرنے کا عمل شروع امریکا کے ایرانی تنصیبات پر حملے، کویت اور بحرین میں جوابی میزائل داغ دیئے گئے ٹرمپ کی چیف آف سٹاف سوزی وائلز کا عہدہ چھوڑنے کا فیصلہ ایرانی سپریم لیڈر نے 2 ہزار سے زائد قیدیوں کی سزا معاف کر دی امریکا نے کویت کو انسداد ڈرون، متعلقہ آلات کی ممکنہ فروخت کی منظوری دیدی بجٹ تاخیر اور معاشی بحران، حکومت پر دباؤ بڑھ گیا: اسد قیصر امریکی صدر ٹرمپ کی عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں بڑی کمی کی پیشگوئی

حقیقی ’پائریٹس آف دی کیریبیئن‘ کا شکار بنے جہاز کی باقیات دریافت

Web Desk

6 June 2026

ناساؤ/لندن: برطانوی غوطہ خوروں نے بہاماس کے سمندر کی تہہ سے ایک انتہائی سنسنی خیز اور تاریخی کامیابی حاصل کرتے ہوئے لگ بھگ 300 برس قبل حقیقی ‘پائریٹس آف دی کیریبیئن’ (سمندری قزاقوں) کے حملوں کے نتیجے میں غرق ہونے والے بحری جہازوں کے ملبے دریافت کر لیے ہیں۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق، یہ بحری جہاز تاریخ کے خطرناک ترین اور سفاک قزاقوں ‘بلیک بیئرڈ’ اور ‘کیلیکو جیک ریکھم’ کے حملوں کی وجہ سے سمندر برد ہوئے تھے، جنہوں نے 1690 کی دہائی سے لے کر 1720 کی دہائی تک کیریبیئن کے سمندروں پر بے تاج راج کیا تھا۔

اپنی نوعیت کی اس پہلی اور منفرد سمندری مہم کے دوران بہاماس بے کی تہہ سے جہازوں کی چھ ناقابلِ یقین باقیات سامنے آئی ہیں دریافت ہونے والے ملبوں میں سے تین بحری جہازوں کا تعلق براہِ راست ’قزاقوں کے سنہرے دور‘ سے پایا گیا ہے۔یہ وہ دور تھا جب یہ قزاق تجارتی اور مال بردار جہازوں پر اچانک حملہ کرتے، ان کا قیمتی سامان لوٹتے اور پھر ثبوت مٹانے کے لیے جہازوں کو آگ لگا کر سمندر کی تہہ میں غرق کر دیتے تھے۔

دریافت ہونے والے ملبے میں سے سب سے اہم سراغ مشہور قزاق بادشاہ ہنری ایوری کے ایک بڑے حملے سے ملتا ہے۔ تاریخ کے مطابق ہنری ایوری نے ایک بڑے مال بردار جہاز سے سونا اور چاندی لوٹنے کے بعد اسے ناساؤ کے ساحل کے قریب آگ لگا کر ڈبو دیا تھا۔

اسی طرح ہنری ایوری کے زیرِ استعمال ’فینسی‘ نامی 46 توپوں والے جہاز کی لوٹ مار کو دنیا کی سب سے بڑی سمندری ڈکیتی شمار کیا جاتا ہے۔ اس نے ایک جہاز سے ہیرے، سونا اور نیلم پر مشتمل وہ تاریخی خزانہ لوٹا تھا جس کی مالیت آج کے حساب سے تقریباً 8 کروڑ 50 لاکھ پاؤنڈ (پاکستانی کرنسی میں 3 ارب 15 کروڑ روپے سے زیادہ) بنتی ہے۔

برطانوی سمندری ماہرِ آثارِ قدیمہ ڈاکٹر شان کنگزلی اور بہاماس کے ڈاکٹر مائیکل پیٹمین کی سربراہی میں کام کرنے والی مشترکہ تحقیقی ٹیم کا قوی خیال ہے کہ شاید انہیں اسی تاریخی جہاز کے جلے ہوئے بقایاجات مل چکے ہیں۔ یہ جلے ہوئے ملبے نیو پروویڈنس جزیرے پر واقع قزاقوں کے اُس دور کے مشہور ٹھکانے ‘ناساؤ’ کے اطراف سمندر کی تہہ میں بکھرے ہوئے پائے گئے ہیں۔

مہم جو ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر لیبارٹری ٹیسٹ اور مینوئل شواہد کے بعد یہ دریافت سو فیصد درست ثابت ہوتی ہے، تو یہ دنیا بھر میں قزاقوں کی تاریخ کی اب تک کی سب سے سنسنی خیز اور بڑی دریافت ہوگی، کیونکہ اس کا تعلق اُس افسانوی خزانے سے ہے جس نے ہنری ایوری کو رہتی دنیا تک تاریخ کا امیر اور مشہور ترین قزاق بنا دیا تھا۔