LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکی انتخابات کے نتائج نے امریکا کو تاریخ میں کئی قدم پیچھے دھکیل دیا: ٹرمپ مصر میں مسافر ٹرین حادثہ، متعدد بوگیاں پٹری سے اتر گئیں، 64 افراد زخمی غزہ میں بارشوں سے 70 ہزار خیمے زیر آب، ساڑھے 3 لاکھ بے گھر افراد متاثر ایران کیخلاف کسی بھی طاقت کا اتحاد ناکامی سے دوچار ہوگا: ترجمان ایرانی فوج شہباز شریف کی نواز شریف سے ملاقات، ملکی سیاسی و معاشی صورتحال پر مشاورت صدر پوتن کی امریکہ میں جی 20 سربراہی اجلاس میں شرکت کا فیصلہ نہیں ہوا: کریملن پاکستان پوسٹ میں غیر قانونی بھرتیوں کا کیس، اسعد محمود تفتیش سے روپوش قرار پاکستان میں انتظامی یونٹس بنانے کے حوالے سے غور کرنا چاہئے: خواجہ آصف وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی دیوالی کے تہوار پر ہندو برادری کو مبارکباد وزیراعظم شہباز شریف کی آذربائیجان کو یوم فتح کی چھٹی سالگرہ پر مبارکباد شادی اور بچے پیدا کرنے کی ہمت کریں: پوپ لیو کی جنوبی امریکا میں نوجوانوں کو نصیحت سعودی عرب نے ریاض کی جانب داغے گئے 2 بیلسٹک اور 2 کروز میزائل تباہ کر دیے ڈی جی آئی ایس پی آر کا لاہور کی تین جامعات کا دورہ، طلبہ اور اساتذہ سے خصوصی نشستیں ٹرمپ کا سیاسی انتقام لینے اور دھمکیاں دینے پر ڈیموکریٹس کے خلاف تحقیقات کا حکم فضائی آلودگی میں لاہور دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں سرفہرست

حقیقی ’پائریٹس آف دی کیریبیئن‘ کا شکار بنے جہاز کی باقیات دریافت

Web Desk

6 June 2026

ناساؤ/لندن: برطانوی غوطہ خوروں نے بہاماس کے سمندر کی تہہ سے ایک انتہائی سنسنی خیز اور تاریخی کامیابی حاصل کرتے ہوئے لگ بھگ 300 برس قبل حقیقی ‘پائریٹس آف دی کیریبیئن’ (سمندری قزاقوں) کے حملوں کے نتیجے میں غرق ہونے والے بحری جہازوں کے ملبے دریافت کر لیے ہیں۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق، یہ بحری جہاز تاریخ کے خطرناک ترین اور سفاک قزاقوں ‘بلیک بیئرڈ’ اور ‘کیلیکو جیک ریکھم’ کے حملوں کی وجہ سے سمندر برد ہوئے تھے، جنہوں نے 1690 کی دہائی سے لے کر 1720 کی دہائی تک کیریبیئن کے سمندروں پر بے تاج راج کیا تھا۔

اپنی نوعیت کی اس پہلی اور منفرد سمندری مہم کے دوران بہاماس بے کی تہہ سے جہازوں کی چھ ناقابلِ یقین باقیات سامنے آئی ہیں دریافت ہونے والے ملبوں میں سے تین بحری جہازوں کا تعلق براہِ راست ’قزاقوں کے سنہرے دور‘ سے پایا گیا ہے۔یہ وہ دور تھا جب یہ قزاق تجارتی اور مال بردار جہازوں پر اچانک حملہ کرتے، ان کا قیمتی سامان لوٹتے اور پھر ثبوت مٹانے کے لیے جہازوں کو آگ لگا کر سمندر کی تہہ میں غرق کر دیتے تھے۔

دریافت ہونے والے ملبے میں سے سب سے اہم سراغ مشہور قزاق بادشاہ ہنری ایوری کے ایک بڑے حملے سے ملتا ہے۔ تاریخ کے مطابق ہنری ایوری نے ایک بڑے مال بردار جہاز سے سونا اور چاندی لوٹنے کے بعد اسے ناساؤ کے ساحل کے قریب آگ لگا کر ڈبو دیا تھا۔

اسی طرح ہنری ایوری کے زیرِ استعمال ’فینسی‘ نامی 46 توپوں والے جہاز کی لوٹ مار کو دنیا کی سب سے بڑی سمندری ڈکیتی شمار کیا جاتا ہے۔ اس نے ایک جہاز سے ہیرے، سونا اور نیلم پر مشتمل وہ تاریخی خزانہ لوٹا تھا جس کی مالیت آج کے حساب سے تقریباً 8 کروڑ 50 لاکھ پاؤنڈ (پاکستانی کرنسی میں 3 ارب 15 کروڑ روپے سے زیادہ) بنتی ہے۔

برطانوی سمندری ماہرِ آثارِ قدیمہ ڈاکٹر شان کنگزلی اور بہاماس کے ڈاکٹر مائیکل پیٹمین کی سربراہی میں کام کرنے والی مشترکہ تحقیقی ٹیم کا قوی خیال ہے کہ شاید انہیں اسی تاریخی جہاز کے جلے ہوئے بقایاجات مل چکے ہیں۔ یہ جلے ہوئے ملبے نیو پروویڈنس جزیرے پر واقع قزاقوں کے اُس دور کے مشہور ٹھکانے ‘ناساؤ’ کے اطراف سمندر کی تہہ میں بکھرے ہوئے پائے گئے ہیں۔

مہم جو ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر لیبارٹری ٹیسٹ اور مینوئل شواہد کے بعد یہ دریافت سو فیصد درست ثابت ہوتی ہے، تو یہ دنیا بھر میں قزاقوں کی تاریخ کی اب تک کی سب سے سنسنی خیز اور بڑی دریافت ہوگی، کیونکہ اس کا تعلق اُس افسانوی خزانے سے ہے جس نے ہنری ایوری کو رہتی دنیا تک تاریخ کا امیر اور مشہور ترین قزاق بنا دیا تھا۔