ٹرمپ نے نیتن یاہو کو مطالبات نہ ماننے پر جیل بھیجنے کی دھمکی دی: عرب میڈیا
Web Desk
4 June 2026
واشنگٹن/تل ابیب: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو کے درمیان پسِ پردہ شدید تلخی اور سنگین اختلافات کھل کر سامنے آ گئے ہیں۔ عرب میڈیا نے ایک سرکردہ اسرائیلی کاروباری شخصیت کے حوالے سے سنسنی خیز دعویٰ کیا ہے کہ صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو کو ان کے مطالبات تسلیم نہ کرنے کی صورت میں جیل بھیجنے کی براہِ راست دھمکی دے دی ہے۔
رپورٹ کے مطابق، امریکی صدر کی جانب سے نیتن یاہو پر دباؤ بڑھانے کے لیے صرف جیل کی دھمکی ہی نہیں دی گئی، بلکہ ان کے اہلخانہ کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔
عرب میڈیا کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو کو خبردار کیا ہے کہ بات نہ ماننے کی صورت میں امریکا میں مقیم ان کے بیٹے ‘یائر نیتن یاہو’ کو فوری طور پر ملک سے بے دخل (Deport) کر دیا جائے گا۔
نیتن یاہو خاندان کے امریکا میں موجود تمام تر مالی و خاندانی اثاثوں کو فوری طور پر منجمد (Freeze) کر دیا جائے گا۔
رپورٹ کے مطابق، ٹرمپ نے نیتن یاہو کی اہلیہ ‘سارا نیتن یاہو’ سے بھی رابطہ کیا اور ان سے کہا کہ وہ اپنے شوہر کو امریکی مطالبات ماننے پر آمادہ کریں۔ اسرائیلی کاروباری شخصیت کا دعویٰ ہے کہ اس گفتگو کے بعد سارا نیتن یاہو نے اپنے شوہر پر شدید ذہنی دباؤ ڈالا، جس کے بعد نیتن یاہو نے مجبوراً صدر ٹرمپ سے دوبارہ رابطہ قائم کیا۔
واضح رہے کہ اس سے قبل امریکی میڈیا بھی دونوں رہنماؤں کے درمیان پھوٹنے والے اس شدید غصے کی تصدیق کر چکا ہے۔ امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق، صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہیں “پاگل اور ناشکرا” قرار دیا تھا۔ ٹرمپ نے نیتن یاہو کو مخاطب کرتے ہوئے یہاں تک کہہ دیا تھا کہ: “میں (امریکی طاقت کے ذریعے) تمہاری چمڑی بچا رہا ہوں، جبکہ تمہاری ہی بدترین پالیسیوں کی وجہ سے آج دنیا میں ہر شخص اسرائیل سے نفرت کرنے لگا ہے۔”
دوسری جانب، مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ جنگی صورتحال کے تناظر میں امریکی اخبار ’وال اسٹریٹ جرنل‘ نے ایک انتہائی اہم دعویٰ کیا ہے۔ اخبار کے مطابق، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے قریبی مشیروں کو واشگاف الفاظ میں بتا دیا ہے کہ امریکا، ایران کے خلاف دوبارہ کسی نئی جنگ کا حصہ نہیں بنے گا۔
امریکی اخبار نے انتظامیہ کے ذرائع سے لکھا ہے کہ جب تک ایران کی جانب سے براہِ راست امریکی فوجیوں یا تنصیبات کو نشانہ نہیں بنایا جاتا، تب تک ایران کے خلاف کوئی جنگ نہیں چھیڑی جائے گی۔ ٹرمپ انتظامیہ خطے میں جاری جنگ کو مزید پھیلانا نہیں چاہتی اور اس پورے تنازع کا فوجی طاقت کے بجائے سفارتی حل تلاش کرنے کو ترجیح دے رہی ہے۔
متعلقہ عنوانات
ٹرمپ کا بڑھتی کشیدگی کے باوجود ایران پر حملہ نہ کرنے کا فیصلہ
4 June 2026
جی بی الیکشن کو پنجاب اور اسلام آباد سے مینج کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے حسن مرتضی
4 June 2026
وزیرِ اعظم شہباز شریف نے قومی اقتصادی کونسل (NEC) کا اہم اجلاس 8 جون کو طلب
4 June 2026
ہر ہائی کورٹ آزاد ، سپریم کورٹ یا وفاقی آئینی عدالت کے ماتحت نہیں: جسٹس عامر فاروق
4 June 2026
شرجیل میمن کی محسن نقوی سے ملاقات، وفاق اور سندھ تعاون پر اتفاق
4 June 2026
پاکستان سندھ طاس معاہدے کے تحت دریائے چناب پر اپنے حقوق کی حفاظت کرے گا: دفتر خارجہ
4 June 2026
بجلی، گیس کی غیر علانیہ لوڈشیڈنگ پر درخواست جھوٹی قرار، جرمانہ عائد
4 June 2026
ٹرمپ کا امن بورڈ بھی غزہ میں امن قائم کرنے میں ناکام، 9 فلسطینی شہید
4 June 2026