شیخ رشید کی راولپنڈی ڈسٹرکٹ بار میں رکنیت بحالی کی درخواست جمع
Web Desk
2 June 2026
راولپنڈی: عوامی مسلم لیگ کے سربراہ اور سابق وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے راولپنڈی ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن میں اپنی وکالت کی رکنیت بحال کرانے کے لیے باضابطہ درخواست جمع کرا دی ہے۔
انسدادِ دہشت گردی عدالت (ATC) کے باہر میڈیا سے مختصر گفتگو کرتے ہوئے شیخ رشید احمد نے اس فیصلے کو اپنی زندگی کا ایک انوکھا موڑ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ زندگی کا ایک ایسا عجوبہ کام ہے جو انہیں بہت پہلے کر لینا چاہیے تھا، لیکن وہ اب کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ قانونی طور پر انہیں یہ بار کونسل کی رکنیت آج سے 50 سال پہلے ہی حاصل کر لینی چاہیے تھی۔
سابق وفاقی وزیر نے اپنی قانونی پریکٹس کے حوالے سے مستقبل کے لائحہ عمل کی وضاحت کرتے ہوئے بتایاانہوں نے سردار رازق کے چیمبر کے ذریعے ڈسٹرکٹ بار کی رکنیت کی بحالی کے لیے باقاعدہ درخواست دائر کر دی ہے۔ انہوں نے واضح طور پر کہا کہ اگر ڈسٹرکٹ بار کی جانب سے ان کی رکنیت بحال کر دی جاتی ہے، تو وہ بار کی روایتی سیاست میں بالکل حصہ نہیں لیں گے؛ بلکہ ان کا واحد مقصد صرف اور صرف سردار رازق کے چیمبر میں بیٹھ کر باقاعدہ قانون کی پریکٹس کرنا ہوگا۔میڈیا سے گفتگو کے دوران شیخ رشید احمد نے عدالت میں زیرِ سماعت اپنے عمرہ سفر سے متعلق کیس کا بھی تذکرہ کیا۔ انہوں نے انسدادِ دہشت گردی عدالت کے سامنے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ مکہ مکرمہ جا کر عمرہ ادا کرنے کی دلی خواہش رکھتے ہیں اور ملک کا قانون انہیں اس مقدس سفر پر جانے کی مکمل اجازت دیتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد اب اس درخواست پر اپنا فیصلہ محفوظ کر لیا ہے، اور جیسے ہی عدالت کی جانب سے باقاعدہ فیصلہ سنایا جائے گا، وہ فوری طور پر عوام کو اس سے آگاہ کریں گے۔
آئندہ وفاقی بجٹ کے تناظر میں ملک کی موجودہ معاشی صورتحال پر کڑی تنقید کرتے ہوئے عوامی مسلم لیگ کے سربراہ نے بڑھتی ہوئی مہنگائی اور بے روزگاری پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا:
“اس وقت ملک میں مہنگائی اور بے روزگاری نے غریب عوام کی زندگی انتہائی مشکل بنا دی ہے۔ موجودہ بدترین معاشی حالات میں عام لوگوں کے لیے روزمرہ کا گزارا کرنا بھی محال اور دشوار ہو چکا ہے۔ اب عوام کو مہنگائی کے اثرات الگ سے بتانے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ زمینی حالات اور سچائی سب کے سامنے ہے۔”
شیخ رشید احمد نے حکومت پر زور دیا کہ آنے والا نیا وفاقی بجٹ محض اعداد و شمار کا گورکھ دھندا نہیں ہونا چاہیے، بلکہ اس بجٹ کا بنیادی ہدف غریب عوام کی معاشی مشکلات اور تکالیف کو کم کرنا ہونا چاہیے۔
متعلقہ عنوانات
معاشی ترقی کیلئے صنعت و حرفت کا فروغ اور بیرونی سرمایہ کاری ناگزیر ہے: وزیراعظم
2 June 2026
سرکاری وسائل کا استعمال تشویشناک ہے”: شازیہ مری کی گلگت بلتستان انتخابات میں وفاقی مداخلت کی شدید مذمت
2 June 2026
ووٹ ملے نہ ملے گگلت بلتستان میں سہولیات فراہم کروں گا : نواز شریف
2 June 2026
پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ پر ویزے کی شرط ختم
2 June 2026
پنجاب بھر میں دفعہ 144 کے نفاذ میں توسیع
2 June 2026
وفاقی حکومت نے ‘سول سرونٹس رولز 2026’ نافذ ، غیر ملکی شہریت چھپانے پر ملازمت ختم کرنے کی منظوری
2 June 2026
وفاقی آئینی عدالت کا بڑا فیصلہ، پولٹری فیڈ ملز پر 4 فیصد اضافی ٹیکس غیر قانونی قرار
2 June 2026
صدر(ن) لیگ نواز شریف ایک روزہ دورے پر گلگت بلتستان پہنچ گئے
2 June 2026