LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پیپلز پارٹی کی کرپشن اور ناقص حکمرانی اب نہیں چھپ سکتی، ایم کیو ایم کا سخت ردعمل کراچی سمیت سندھ میں پانی بحران مزید سنگین ہوگا، ارسا کا رویہ آبی معاہدے کے منافی ہے: شرجیل میمن پارٹی کے اندر اور باہر سے سازشیں ہورہی ہیں ، عمران خان کی حکومت نہیں گر سکتی: سہیل آفریدی پروٹیکٹڈ صارفین کی بجلی سبسڈی برقرار رہے گی، خاتمے کی خبریں بے بنیاد ہیں: اویس لغاری امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکہ کے 250 ویں یوم آزادی کا کانسرٹ منسوخ کردیا پیپلز پارٹی نے گورنر سندھ کو غیر قانونی معاملات میں رکاوٹ پر ہٹایا: فاروق ستار آئی ایم ایف کا جی ایس ٹی 18 فیصد سے بڑھا کر 19 فیصد کرنے کا مطالبہ حجاج کی وطن واپسی کا آغاز، لاہور کے لیے پہلی پرواز 159 حجاج کو لے کر پہنچ گئی گلگت بلتستان انتخابات، پنجاب پولیس کے 5 ہزار اہلکار تعینات کیے جائیں گے پہلا ون ڈے، پاکستان نے آسٹریلیا کو 5 وکٹ سے ہرا دیا نیویارک حراستی مرکز کے باہر مظاہرے، پولیس اور مظاہرین میں جھڑپیں، آنسو گیس کا استعمال امریکا: میساچوسٹس کے تعلیمی اداروں میں ریچھ داخل، طلبہ کلاس رومز تک محدود رہے پاکستان ون ڈے کرکٹ میں 1000میچ کھیلنے والی تیسری ٹیم بن گئی وزیراعلیٰ نے ستھرا پنجاب ورکرز کیلئے 10ہزار فی کس انعام کا اعلان کیا ہے: مریم اورنگزیب پاکستان ایک مخلص دوست، ایران کے ساتھ اچھی ڈیل ہوگی: امریکی وزیر جنگ

کراچی سمیت سندھ میں پانی بحران مزید سنگین ہوگا، ارسا کا رویہ آبی معاہدے کے منافی ہے: شرجیل میمن

Web Desk

31 May 2026

سندھ حکومت نے صوبے میں پانی کی مسلسل قلت اور ارسا کی جانب سے مبینہ غیر منصفانہ تقسیم پر شدید احتجاج کرتے ہوئے وفاقی حکومت سے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا ہے۔

سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ارسا کا حالیہ طرزِ عمل انیس سو اکانوے کے آبی معاہدے کی روح اور اصولوں کے خلاف ہے اور اس سے سندھ کے عوام کے ساتھ ناانصافی کا تاثر پیدا ہو رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سندھ گزشتہ کئی روز سے بائیس فیصد پانی کی شدید قلت کا سامنا کر رہا ہے، جبکہ گڈو بیراج پر بیالیس فیصد اور کوٹری بیراج پر انتیس فیصد پانی کی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ ان کے مطابق صوبے کے حصے کے پانی میں مسلسل کمی زرعی شعبے کے لیے سنگین مسائل پیدا کر رہی ہے۔

شرجیل انعام میمن نے کہا کہ سندھ بارہا واضح کر چکا ہے کہ غیر معمولی بارشوں کے باعث دریائی نظام میں شامل ہونے والے اضافی پانی کو صوبے کے حصے سے منہا نہیں کیا جا سکتا، تاہم اس کے باوجود ایسے فیصلے کیے جا رہے ہیں جن سے سندھ کے تحفظات میں اضافہ ہو رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ آبی معاہدے کے تحت سندھ کے حقوق کا مکمل تحفظ یقینی بنایا جانا چاہیے اور کسی بھی صوبے کے حصے کے پانی میں غیر منصفانہ کمی قبول نہیں کی جا سکتی۔

سینئر وزیر نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ ارسا کے فیصلوں کا فوری جائزہ لیا جائے اور سندھ کو اس کا جائز اور مکمل حصہ فراہم کرنے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ سندھ حکومت اور پاکستان پیپلز پارٹی صوبے کے آبی حقوق پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے اور ہر آئینی و قانونی فورم پر سندھ کے مؤقف کا دفاع جاری رکھا جائے گا۔