LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
یمن نے صنعاء ایئرپورٹ پر حملے کے بعد ملک کے تمام ہوائی اڈے بند کردیئے ٹرمپ کا آبنائے ہرمز کی دوبارہ ناکہ بندی کا اعلان، کارگو پر 20 فیصد فیس کا دعویٰ ایران، امریکا کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل مزید مہنگا ایران کا ٹرمپ کے آبنائے ہرمز پر کنٹرول سنبھالنے کے بیان پر ردعمل اسحاق ڈار سے اقوام متحدہ سیکرٹری جنرل کی امیدوار کی ملاقات موسلادھار بارشوں کا خدشہ، بالائی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا الرٹ جاری تربیلا ڈیم سے اضافی پانی چھوڑنے کا امکان، پی ڈی ایم اے کا الرٹ برطانیہ نےایرانی پاسداران انقلاب فورس کو دہشت گرد تنظیم قرار دے دیا امریکا جلد آبنائے ہرمز کا کنٹرول سنبھال کر دنیا سے معاوضہ وصول کریگا: ٹرمپ بحرین کا ایران پر شہری علاقوں کو نشانہ بنانے کا الزام، متعدد میزائل اور ڈرون تباہ ووٹرز لسٹوں سے مسلمانوں کے نام حذف: یواین نمائندوں کی بھارتی حکومت سے وضاحت طلب یورپی ممالک کا روس پر سائبر حملوں کا الزام، نئی پابندیاں عائد کردیں خواتین ترقی کی شراکت دار نہیں قیادت کا کردار ادا کریں: مریم نواز ایران امریکا تنازع ختم کرنے کی صلاحیت صرف پاکستان کے پاس ہے: صدر آذربائیجان شہباز شریف اور نوازشریف کی امیر قطر سے ملاقات، سابق امیر قطر کے انتقال پر تعزیت

کراچی سمیت سندھ میں پانی بحران مزید سنگین ہوگا، ارسا کا رویہ آبی معاہدے کے منافی ہے: شرجیل میمن

Web Desk

31 May 2026

سندھ حکومت نے صوبے میں پانی کی مسلسل قلت اور ارسا کی جانب سے مبینہ غیر منصفانہ تقسیم پر شدید احتجاج کرتے ہوئے وفاقی حکومت سے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا ہے۔

سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ارسا کا حالیہ طرزِ عمل انیس سو اکانوے کے آبی معاہدے کی روح اور اصولوں کے خلاف ہے اور اس سے سندھ کے عوام کے ساتھ ناانصافی کا تاثر پیدا ہو رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سندھ گزشتہ کئی روز سے بائیس فیصد پانی کی شدید قلت کا سامنا کر رہا ہے، جبکہ گڈو بیراج پر بیالیس فیصد اور کوٹری بیراج پر انتیس فیصد پانی کی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ ان کے مطابق صوبے کے حصے کے پانی میں مسلسل کمی زرعی شعبے کے لیے سنگین مسائل پیدا کر رہی ہے۔

شرجیل انعام میمن نے کہا کہ سندھ بارہا واضح کر چکا ہے کہ غیر معمولی بارشوں کے باعث دریائی نظام میں شامل ہونے والے اضافی پانی کو صوبے کے حصے سے منہا نہیں کیا جا سکتا، تاہم اس کے باوجود ایسے فیصلے کیے جا رہے ہیں جن سے سندھ کے تحفظات میں اضافہ ہو رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ آبی معاہدے کے تحت سندھ کے حقوق کا مکمل تحفظ یقینی بنایا جانا چاہیے اور کسی بھی صوبے کے حصے کے پانی میں غیر منصفانہ کمی قبول نہیں کی جا سکتی۔

سینئر وزیر نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ ارسا کے فیصلوں کا فوری جائزہ لیا جائے اور سندھ کو اس کا جائز اور مکمل حصہ فراہم کرنے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ سندھ حکومت اور پاکستان پیپلز پارٹی صوبے کے آبی حقوق پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے اور ہر آئینی و قانونی فورم پر سندھ کے مؤقف کا دفاع جاری رکھا جائے گا۔