LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکا، ایران مذاکرات کی بحالی کیلئے رابطے جاری ہیں: قطر امریکی وزارتِ خارجہ کا دنیا بھر میں امیگرینٹ ویزا انٹرویوز کا عمل عارضی طور پر معطل کرنے کا اعلان ٹرمپ کا ایران پر مکمل غلبے کا دعویٰ، بڑی فتح جلد حاصل کرنے کی امید ظاہر کردی پمز سانحہ: معصوم بچوں کی شہادت پر پوری کابینہ کو استعفیٰ دے دینا چاہیے۔علامہ راجہ ناصر عباس پمز ہسپتال آتشزدگی سانحہ: این آئی سی یو میں نیبولائزر پھٹنے سے آگ لگی، ابتدائی رپورٹ اسلام آباد میں نومولود بچوں کی ہلاکت انسانی تاریخ کا بدترین سانحہ ہے: بلاول بھٹو اسحاق ڈار کی لندن میں کامن ویلتھ سیکریٹری جنرل سے ملاقات ایرانی فوج مکمل طور پر چوکس، فضائی دفاعی صلاحیتیں مزید بہتر بنا رہے ہیں: علی رضا الہامی ایران جنگ: دبئی ایئرپورٹ پر مسافروں کی آمد میں ایک تہائی کمی نئی نسل کی کردار سازی سیرت النبی ﷺ کی تعلیمات کے مطابق کرنا ہوگی: وزیراعظم پمز واقعہ کے ذمہ داروں کیخلاف کارروائی ہو گی، خود کو احتساب کیلئے پیش کرتا ہوں: مصطفیٰ کمال پمز واقعے کے سی سی ٹی وی سمیت تمام شواہد محفوظ کر لیے گئے ہیں: طلال چوہدری ہسپتال واقعہ: حافظ نعیم نے حکومتی گڈ گورننس کے دعووں پر سوالات اٹھا دیے علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر نئے امیگریشن کاؤنٹرز فعال اسحاق ڈار کی لندن میں پاکستان نژاد برطانوی ارکان پارلیمنٹ سے ملاقات

امریکا ایران جنگ بندی میں توسیع کا معاہدہ، وائٹ ہاؤس نے تصدیق کردی

Web Desk

28 May 2026

امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی میں توسیع سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، امریکی خبر رساں ویب سائٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان ساٹھ روزہ مفاہمتی یادداشت پر اتفاق ہوگیا ہے جبکہ امریکی صدارتی محل وائٹ ہاؤس نے بھی اس پیش رفت کی تصدیق کردی ہے۔

عرب ذرائع ابلاغ کے مطابق وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان ایک مفاہمتی یادداشت زیر غور ہے تاہم اس پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حتمی منظوری ابھی باقی ہے۔

امریکی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایران نے اپنے ایٹمی پروگرام سے متعلق مذاکرات پر آمادگی ظاہر کردی ہے جبکہ مجوزہ معاہدہ جنگ کے آغاز کے بعد سب سے بڑی سفارتی کامیابی قرار دیا جارہا ہے۔

امریکی حکام کے مطابق مجوزہ معاہدے کا مقصد دونوں فریقین کو مذاکرات کی میز پر لانا ہے جبکہ تفصیلات آئندہ بات چیت میں طے کی جائیں گی۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایران نے تاحال سرکاری سطح پر جنگ بندی میں توسیع کی تصدیق نہیں کی۔

ایک امریکی عہدیدار نے دعویٰ کیا کہ ایرانی حکام نے ضروری منظوری حاصل کرلی ہے اور وہ معاہدے پر دستخط کے لیے تیار ہیں، تاہم صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فوری منظوری نہیں دی اور انہیں مذاکرات کی تفصیلات سے آگاہ کردیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق مجوزہ ساٹھ روزہ مفاہمتی یادداشت میں آبنائے ہرمز سے جہاز رانی کو بلا رکاوٹ جاری رکھنے کی شق شامل ہوگی۔ اس کے تحت نہ کوئی ٹول ٹیکس عائد کیا جائے گا اور نہ ہی جہازوں کو ہراساں کیا جائے گا۔ ایران کو تیس روز کے اندر آبنائے ہرمز سے تمام بارودی سرنگیں ہٹانا ہوں گی جبکہ امریکی بحری ناکہ بندی ختم کیے جانے کی تجویز بھی شامل ہے۔

امریکی حکام کے مطابق مفاہمتی یادداشت میں ایران کی جانب سے جوہری ہتھیار حاصل نہ کرنے کا عہد بھی شامل ہوگا جبکہ ابتدائی مرحلے میں انتہائی افزودہ یورینیم کو ٹھکانے لگانے اور یورینیم افزودگی کے معاملات پر مذاکرات کیے جائیں گے۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ایران پر عائد پابندیوں میں نرمی اور منجمد اثاثوں کی بحالی پر بھی بات چیت ہوگی۔ امریکی عہدیدار کے مطابق ایران کو اپنی معیشت کو پابندیوں سے آزاد کرانے کا ایک اہم موقع مل رہا ہے اور ایرانی نظام کے بعض حلقے اسے نئی سمت میں جانے کا امکان قرار دے رہے ہیں۔

امریکی حکام نے واضح کیا ہے کہ ایران کے ساتھ کسی قسم کی خفیہ شقیں یا الگ معاہدے شامل نہیں ہوں گے اور پابندیوں میں نرمی سے متعلق تمام امور شفاف انداز میں طے کیے جائیں گے۔