LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پاکستان سٹاک مارکیٹ میں کاروبار کے دوران مثبت رجحان پری پیڈ موبائل بیلنس کی کم از کم میعاد مقرر مشعال ملک کا پمز ہسپتال کے اندر جانے کی اجازت نہ ملنے پر احتجاج دنیا سوشل میڈیا سے متاثر، نوجوان حقائق پر مبنی تجزیاتی صلاحیت کو فروغ دیں: فیلڈ مارشل آسٹریلیا: ہزاروں کاروباری اداروں کو سائبر حملوں کا نشانہ بنانے والے ملزمان کیخلاف 14 مقدمات درج برطانیہ کے ہوائی اڈوں پر سائبر حملہ، صارفین کا حساس ڈیٹا چوری سی آئی اے چیف کا ماسکو کا دورہ، روس کو سنگین نتائج کی دھمکی نیپال اور تبت میں تباہ کن سیلاب، ہلاکتیں 390 ہوگئیں، ایک ہزار سے زائد افراد لاپتہ ٹرمپ نے نہر اونٹاریو کا نام بدل کر نہر امریکا رکھنے کا حکم دے دیا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران سے مذاکرات کی تردید کر دی آبنائے ہرمز میں کویتی آئل ٹینکر السلام ٹو پر حملہ، عملہ محفوظ ایران نے امریکی اقتصادی پابندیوں کے خلاف اقوام متحدہ سے رجوع کر لیا سانحہ پمز ہسپتال: اقوام متحدہ کا 14 نومولود کے جاں بحق ہونے پر اظہار افسوس حکومت کا سانحہ پمز کے لواحقین کیلئے فی کس 50 لاکھ روپے معاوضے کا اعلان یورپ کو اپنے دفاع کی زیادہ ذمہ داری خود سنبھالنا ہوگی، امریکا کا واضح پیغام

امریکا ایران جنگ بندی میں توسیع کا معاہدہ، وائٹ ہاؤس نے تصدیق کردی

Web Desk

28 May 2026

امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی میں توسیع سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، امریکی خبر رساں ویب سائٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان ساٹھ روزہ مفاہمتی یادداشت پر اتفاق ہوگیا ہے جبکہ امریکی صدارتی محل وائٹ ہاؤس نے بھی اس پیش رفت کی تصدیق کردی ہے۔

عرب ذرائع ابلاغ کے مطابق وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان ایک مفاہمتی یادداشت زیر غور ہے تاہم اس پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حتمی منظوری ابھی باقی ہے۔

امریکی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایران نے اپنے ایٹمی پروگرام سے متعلق مذاکرات پر آمادگی ظاہر کردی ہے جبکہ مجوزہ معاہدہ جنگ کے آغاز کے بعد سب سے بڑی سفارتی کامیابی قرار دیا جارہا ہے۔

امریکی حکام کے مطابق مجوزہ معاہدے کا مقصد دونوں فریقین کو مذاکرات کی میز پر لانا ہے جبکہ تفصیلات آئندہ بات چیت میں طے کی جائیں گی۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایران نے تاحال سرکاری سطح پر جنگ بندی میں توسیع کی تصدیق نہیں کی۔

ایک امریکی عہدیدار نے دعویٰ کیا کہ ایرانی حکام نے ضروری منظوری حاصل کرلی ہے اور وہ معاہدے پر دستخط کے لیے تیار ہیں، تاہم صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فوری منظوری نہیں دی اور انہیں مذاکرات کی تفصیلات سے آگاہ کردیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق مجوزہ ساٹھ روزہ مفاہمتی یادداشت میں آبنائے ہرمز سے جہاز رانی کو بلا رکاوٹ جاری رکھنے کی شق شامل ہوگی۔ اس کے تحت نہ کوئی ٹول ٹیکس عائد کیا جائے گا اور نہ ہی جہازوں کو ہراساں کیا جائے گا۔ ایران کو تیس روز کے اندر آبنائے ہرمز سے تمام بارودی سرنگیں ہٹانا ہوں گی جبکہ امریکی بحری ناکہ بندی ختم کیے جانے کی تجویز بھی شامل ہے۔

امریکی حکام کے مطابق مفاہمتی یادداشت میں ایران کی جانب سے جوہری ہتھیار حاصل نہ کرنے کا عہد بھی شامل ہوگا جبکہ ابتدائی مرحلے میں انتہائی افزودہ یورینیم کو ٹھکانے لگانے اور یورینیم افزودگی کے معاملات پر مذاکرات کیے جائیں گے۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ایران پر عائد پابندیوں میں نرمی اور منجمد اثاثوں کی بحالی پر بھی بات چیت ہوگی۔ امریکی عہدیدار کے مطابق ایران کو اپنی معیشت کو پابندیوں سے آزاد کرانے کا ایک اہم موقع مل رہا ہے اور ایرانی نظام کے بعض حلقے اسے نئی سمت میں جانے کا امکان قرار دے رہے ہیں۔

امریکی حکام نے واضح کیا ہے کہ ایران کے ساتھ کسی قسم کی خفیہ شقیں یا الگ معاہدے شامل نہیں ہوں گے اور پابندیوں میں نرمی سے متعلق تمام امور شفاف انداز میں طے کیے جائیں گے۔