LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پاکستان سٹاک مارکیٹ میں کاروبار کے دوران مثبت رجحان پری پیڈ موبائل بیلنس کی کم از کم میعاد مقرر مشعال ملک کا پمز ہسپتال کے اندر جانے کی اجازت نہ ملنے پر احتجاج دنیا سوشل میڈیا سے متاثر، نوجوان حقائق پر مبنی تجزیاتی صلاحیت کو فروغ دیں: فیلڈ مارشل آسٹریلیا: ہزاروں کاروباری اداروں کو سائبر حملوں کا نشانہ بنانے والے ملزمان کیخلاف 14 مقدمات درج برطانیہ کے ہوائی اڈوں پر سائبر حملہ، صارفین کا حساس ڈیٹا چوری سی آئی اے چیف کا ماسکو کا دورہ، روس کو سنگین نتائج کی دھمکی نیپال اور تبت میں تباہ کن سیلاب، ہلاکتیں 390 ہوگئیں، ایک ہزار سے زائد افراد لاپتہ ٹرمپ نے نہر اونٹاریو کا نام بدل کر نہر امریکا رکھنے کا حکم دے دیا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران سے مذاکرات کی تردید کر دی آبنائے ہرمز میں کویتی آئل ٹینکر السلام ٹو پر حملہ، عملہ محفوظ ایران نے امریکی اقتصادی پابندیوں کے خلاف اقوام متحدہ سے رجوع کر لیا سانحہ پمز ہسپتال: اقوام متحدہ کا 14 نومولود کے جاں بحق ہونے پر اظہار افسوس حکومت کا سانحہ پمز کے لواحقین کیلئے فی کس 50 لاکھ روپے معاوضے کا اعلان یورپ کو اپنے دفاع کی زیادہ ذمہ داری خود سنبھالنا ہوگی، امریکا کا واضح پیغام

بڑی کامیابی توحید ہے، اللہ صبر کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے، خطبہ حج

Web Desk

26 May 2026

مقدس ترین اسلامی فریضے کی ادائیگی کے لیے مکہ مکرمہ میں دنیا بھر سے آئے ہوئے لاکھوں مسلمان میدانِ عرفات میں جمع ہو گئے ہیں، جہاں حج کا سب سے بڑا رکن “وقوفِ عرفات” ادا کیا گیا۔ اس ایمان افروز موقع پر مسجدِ نمرا سے جلیل القدر عالمِ دین شیخ ڈاکٹر علی بن عبدالرحمٰن الحذیفی نے خطبہِ حج دیا، جسے سن کر لاکھوں عازمین کی آنکھیں اشکبار ہو گئیں اور پورا میدان ‘لبیک الھم لبیک’ کی صداؤں سے گونج اٹھا۔

شیخ ڈاکٹر علی بن عبدالرحمٰن الحذیفی نے اللہ رب العزت کی حمد و ثنا اور حضورِ اکرم ﷺ پر درود و سلام کے بعد اپنے خطبے کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے حج کو ہر صاحبِ استطاعت مسلمان پر فرض کیا ہے۔

خطبہِ حج کے دوران شیخ نے عقیدہِ توحید کی اہمیت پر خصوصی زور دیا اور شرک کی سخت الفاظ میں مذمت کی۔ انہوں نے فرمایا:

“قیامت کا زلزلہ انتہائی شدید اور ہولناک ہے، اور اس دن آخرت کی سب سے بڑی کامیابی صرف اور صرف ‘توحید’ کی بدولت ممکن ہے۔ جو لوگ شرک و کفر کا راستہ اختیار کرتے ہیں، وہ دراصل ایسی بے جان چیزوں کو پکارتے ہیں جو خود کسی نفع یا نقصان کا کوئی اختیار نہیں رکھتیں۔”

انہوں نے مزید کہا کہ جو شخص کائنات کے مالک سے ڈرتا ہے اور تقویٰ اختیار کرتا ہے، اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے دُہری جنت کا وعدہ کر رکھا ہے، اور اللہ پاک ہر حال میں صبر کا دامن تھامنے والوں کو بے حد پسند فرماتا ہے۔

سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی قربانی کا ذکر کرتے ہوئے معزز خطیب نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیمؑ کو حکم دیا تھا کہ وہ لوگوں میں حج کی منادی کریں، اور اللہ نے اس آواز کو رہتی دنیا تک دور دراز کے علاقوں تک پہنچا دیا۔ آج دنیا کے کونے کونے سے مختلف رنگ و نسل اور زبانوں کے لوگ یہاں جمع ہیں، جو اللہ کی قدرت کا سب سے بڑا مظہر ہے۔ اللہ تعالیٰ اس وقت فرشتوں کے سامنے اپنے ان حاجیوں پر فخر فرما رہا ہے۔

انہوں نے عازمینِ حج کو مناسک کے دوران امن و آشتی برقرار رکھنے کی تلقین کرتے ہوئے کہا:

“یہاں کسی سے جھگڑا نہیں کرنا، گناہوں سے بچنا ہے اور تقویٰ اختیار کرنا ہے۔ جو کوئی بھی شعائر اللہ (اللہ کی نشانیوں) کا احترام کرتا ہے، یہ دراصل اس کے دل کے تقویٰ کی نشانی ہے۔”

شیخ الحذیفی نے حجاج کرام کو حج کے بقیہ ارکان سے متعلق رہنمائی فراہم کرتے ہوئے بتایا کہ عازمینِ حج آج کا پورا دن میدانِ عرفات میں قیام اور دعاؤں میں گزاریں گے۔ سورج غروب ہوتے ہی وہ مزدلفہ کے لیے روانہ ہوں گے جہاں رات کھلے آسمان تلے گزاری جائے گی۔ اگلے دن حجاج کرام منیٰ تشریف لے جائیں گے، جہاں 11 اور 12 ذوالحجہ کی راتیں قیام کریں گے، شیطان کو کنکریاں ماریں گے اور کثرت سے اللہ کا ذکر کریں گے۔ انہوں نے یاد دہانی کرائی کہ اپنے وطن واپس لوٹنے سے پہلے تمام حجاج ‘طوافِ وداع’ لازم کریں۔

خطبے کے اختتام پر شیخ ڈاکٹر علی بن عبدالرحمٰن الحذیفی نے گریہ و زاری کے ساتھ امتِ مسلمہ اور حجاج کے لیے خصوصی دعا فرمائی:

“یا اللہ! دنیا بھر سے آئے ہوئے ان تمام عازمینِ حج کو بحفاظت، عافیت اور سلامتی کے ساتھ واپس ان کے گھروں کو لوٹا۔ ان کے دلوں کو حق پر جمع کر دے، ان کی خطاؤں کو درگزر فرما اور ان کے حج کے تمام مناسک و عبادات کو اپنی بارگاہ میں قبول و منظور فرما۔ آمین”