LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
مولانا نے پوری تاریخِ اسلام کے شہدا کی تضحیک کی: فیاض الحسن امریکا-ایران کشیدگی، امارات میں تمام امریکی قونصلرز کی تقرری منسوخ کراچی میں رینجرز کیمپ پر حملے کا ماسٹر مائنڈ قاری بشیر گرفتار پاکستان اور امریکا کا انسدادِ دہشتگردی، سائبر سکیورٹی تعاون بڑھانے پر اتفاق پاکستان اور بنگلہ دیش کا خواتین کو بااختیار بنانے اور دوطرفہ تعاون بڑھانے پر اتفاق تیل کی قیمتیں ایک ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں مریم نواز سنٹر آف اکیڈمک لیڈر شپ پائلٹ پراجیکٹ کی منظوری ایران آبنائے ہرمز کا محافظ ہے اور ہمیشہ رہے گا، ٹرمپ ٹول بہت زیادہ ہے: عباس عراقچی پاکستان سٹاک مارکیٹ میں شدید مندی، 3000 سے زائد پوائنٹس کی کمی پاکستان اور جنوبی افریقہ ویمنز انڈر 19 کا پہلا ٹی 20 میچ آج ہوگا شہداء کی قربانیوں کو تنخواہ سے جوڑنا سیاسی تنقید نہیں بلکہ اخلاقی بے حسی ہےخواجہ آصف ایران کے بحرین میں ففتھ فلیٹ، اماراتی ٹینکروں، امریکی بحری جہاز پر حملے مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے خاتمہ کیلئے ایران سے معاہدہ اب بھی ممکن ہے: ٹرمپ پاکستان کی سعودی عرب پر حوثیوں کے بیلسٹک میزائل حملوں کی شدید مذمت انٹرنل ریونیو سروس کیخلاف مقدمے میں ٹرمپ کی نمائندگی کرنیوالے وکلا کو سزائیں سنادی گئیں

میر واعظ مولوی محمد فاروق اور عبدالغنی لون کا آج یومِ شہادت

Web Desk

21 May 2026

تحریکِ آزادی جموں و کشمیر کے عظیم اور جلیل القدر کشمیری رہنماؤں میر واعظ مولوی محمد فاروق اور خواجہ عبدالغنی لون کا یومِ شہادت آج آزاد اور مقبوضہ کشمیر سمیت دنیا بھر میں انتہائی عقیدت و احترام اور اس عزم کے ساتھ منایا جا رہا ہے کہ شہدائے کشمیر کی قربانیوں کو رائیگاں نہیں جانے دیا جائے گا۔

کشمیر کی آزادی کی تاریخ میں آج کا دن انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ میر واعظ مولوی محمد فاروق کو آج ہی کے دن 24 مئی 1990 کو قابض بھارتی فورسز اور ان کے گماشتوں نے گولی مار کر شہید کر دیا تھا۔ ان کی شہادت کے بعد سری نگر میں نکلنے والے تاریخی جنازے کے جلوس پر بھی سفاک بھارتی فورسز نے اندھا دھند فائرنگ کر دی تھی، جس کے نتیجے میں جنازے میں شریک 60 سے زائد بے گناہ کشمیریوں نے جامِ شہادت نوش کیا تھا۔ اس واقعے کے ٹھیک 12 سال بعد، 21 مئی 2002 کو حریت پسند رہنما خواجہ عبدالغنی لون کو اس وقت شہید کر دیا گیا جب وہ میر واعظ مولوی فاروق کی برسی کے اجتماع میں شرکت کے لیے جا رہے تھے، جسے کشمیری عوام تحریکِ آزادی کا ایک بہت بڑا سانحہ قرار دیتے ہیں۔

دونوں عظیم کشمیری رہنماؤں، مزارِ شہداء کے دیگر اسیران اور تحریکِ آزادی کے تمام شہداء کو شاندار الفاظ میں خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے آزاد جموں و کشمیر اور لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کے دونوں اطراف مختلف تعزیتی تقریبات، سیمینارز، دعائیہ اجتماعات، احتجاجی ریلیوں اور مظاہروں کا خصوصی انعقاد کیا جا رہا ہے۔ مظفر آباد، اسلام آباد اور سری نگر سمیت دیگر بڑے شہروں میں کورونا ایس او پیز اور مقامی حالات کے مطابق چھوٹے بڑے اجتماعات ہو رہے ہیں۔

ان معلوماتی اور احتجاجی تقاریب سے خطاب کرتے ہوئے حریت رہنماؤں اور مقررین کی جانب سے مقبوضہ وادی میں جاری بدترین بھارتی مظالم اور ریاستی دہشت گردی کے خلاف شدید احتجاج ریکارڈ کرایا جا رہا ہے۔ مقررین نے اقوامِ متحدہ (UN)، سلامتی کونسل اور انسانی حقوق کے عالمی اداروں سے ایک بار پھر پرزور مطالبہ کیا ہے کہ وہ کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر اپنی مجرمانہ خاموشی توڑیں، بھارت پر دباؤ ڈالیں اور کشمیریوں کو ان کا جائز و آئینی حقِ خودارادیت دلوانے کے لیے اپنا مؤثر، عملی اور تاریخی کردار ادا کریں۔