LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
فرانس اور یورپ میں جان لیوا ہیٹ ویو کی اصل وجہ ‘اومیگا بلاک’! آخر یہ کیا ہے؟ پہاڑی اور بالائی علاقوں میں گلیشئر پگھلنے اورممکنہ خطرات کا الرٹ جاری کردیا گیا۔ جاپان میں دوہرے سمندری طوفان اور شدید بارشیں, سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کا ہائی الرٹ، پروازیں اور ٹرینیں معطل چیف جسٹس آئینی عدالت کا دورہ روس، لیگل فورم میں شرکت، عدالتی تعاون پر تبادلہ خیال ایرانی حکومت بھی قاسم سلیمانی سے خوف زدہ تھی، ڈونلڈ ٹرمپ کا دعویٰ سرگودھا زیادتی کرکے 14 سالہ لڑکے کو زندہ دفن کرنے والے 2 ملزمان گرفتار وینزویلا کے اثرات، بلوچستان میں کل سے اب تک 5 زلزلے ریکارڈ، مزید جھٹکوں کا امکان ٹرمپ کا 4 جولائی کو یومِ آزادی پر امریکی تاریخ کے سب سے بڑے اور منفرد ایئر شو کا اعلان عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت میں مزید ساڑھے چار فیصد کی کمی کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کا مالیاتی نیٹ ورک بے نقاب، متعدد افراد گرفتار پاکستان میں 60 دن کے اندر ادویات پر بارکوڈ متعارف کرایا جائے گا، مصطفیٰ کمال عالمی و مقامی سطح پر سونے چاندی کی قیمتوں میں کمی امریکا نے زلزلے سے متاثر وینزویلا پر سے پابندیاں اُٹھالیں عمران خان کو 22 اور بشریٰ بی بی کو 24 گھنٹے قیدِ تنہائی میں رکھا جاتا ہے، علیمہ خان امریکی پاسپورٹ کے اعزازی ڈیزائن پر ٹرمپ کی تصویر توجہ کا مرکز بن گئی

56 سالہ نیپالی کوہ پیما نے 32 ویں بار ماؤٹ ایورسٹ سر کرکے نیا ریکارڈ بنا ڈالا

Web Desk

18 May 2026

نیپال کے لیجنڈری کوہ پیما شیرپا کامی ریٹا نے دنیا کی بلند ترین چوٹی ماؤنٹ ایورسٹ کو ریکارڈ 32 ویں بار سر کر کے دنیا بھر کے کوہ پیماؤں کو حیرت میں ڈال دیا ہے اور اپنا ہی پچھلا عالمی ریکارڈ توڑ کر ایک نیا اور ناقابلِ تسخیر سنگِ میل قائم کر دیا ہے۔ نیپالی محکمۂ سیاحت نے اس تاریخی کامیابی پر کامی ریٹا اور ان کی ٹیم کو خصوصی مبارکباد پیش کی ہے۔

نیپالی محکمۂ سیاحت کی جانب سے جاری کردہ آفیشل ہینڈ آؤٹ کے مطابق، 56 سالہ تجربہ کار کوہ پیما کامی ریٹا 17 مئی کی صبح بین الاقوامی کوہ پیماؤں کی ایک ٹیم کی رہنمائی کرتے ہوئے دنیا کی بلند ترین چوٹی 8,849 میٹر (29,032 فٹ) کی بلندی پر پہنچے۔

کامی ریٹا کی ماؤنٹ ایورسٹ کے ساتھ محبت کی تاریخ تین دہائیوں پر محیط ہے:انہوں نے زندگی میں پہلی بار 1994ء میں ایورسٹ کو سر کیا تھا۔اس کے بعد سے وہ تقریباً ہر سال باقاعدگی سے اس چوٹی پر پاکستان اور دنیا بھر کے کوہ پیماؤں کی رہنمائی کے لیے پہنچتے رہے ہیں۔وہ گزشتہ 30 سالوں میں صرف 2014ء، 2015ء اور 2020ء میں چوٹی سے دور رہے، جب برفانی تودے گرنے، زلزلے اور کورونا وبا جیسی مختلف وجوہات کے باعث نیپال حکومت نے ماؤنٹ ایورسٹ کو کوہ پیمائی کے لیے مکمل بند کر دیا تھا۔اس یادگار مہم کے دوران صرف کامی ریٹا نے ہی تاریخ نہیں رقم کی، بلکہ ان کے ساتھ موجود 52 سالہ نیپالی شیرپا خاتون لکھاپا (Lhakpa) نے بھی 11 ویں بار دنیا کی بلند ترین چوٹی کو کامیابی سے سر کیا، جو کسی بھی خاتون کوہ پیما کی جانب سے ایک منفرد اور بڑا اعزاز ہے۔ رپورٹ کے مطابق، جب سے انسان نے ایورسٹ پر قدم رکھا ہے، تب سے اب تک مجموعی طور پر 8 ہزار سے زائد افراد اس چوٹی کو سر کرنے کا اعزاز حاصل کر چکے ہیں، جن میں سے بیشتر مہم جوؤں نے متعدد بار یہ کارنامہ انجام دیا۔ اعداد و شمار کے مطابق، اگر مقامی نیپالی شیرپاؤں (جن کا کام ہی کوہ پیماؤں کی رہنمائی کرنا ہے) کو الگ کر دیا جائے، تو غیر ملکیوں میں سب سے زیادہ بار ماؤنٹ ایورسٹ سر کرنے کا ریکارڈ برطانیہ کے نامور کوہ پیما کینٹن کول (Kenton Cool) کے پاس ہے، جنہوں نے اب تک 19 بار ایورسٹ کے افق پر برطانوی پرچم لہرایا ہے۔