LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ٹرمپ انتظامیہ کا ایران کو سہارا دینے والے تمام معاشی ذرائع ختم کرنے کا اعلان ایران اور عمان کا ہرمز میں محفوظ جہاز رانی کی مرحلہ وار بحالی پر اتفاق امریکا نے عالمی سلامتی خطرے میں ڈال دی: ترجمان ایرانی وزارت خارجہ صدر، وزیراعظم کی عید میلادالنبیﷺ پر قوم کو مبارکباد، وطن میں امن کیلئے دعائیں حکومت نے پٹرول اور ڈیزل ایک بار پھر مہنگا کر دیا عوام حکمرانوں کی عیاشیوں کا بوجھ اٹھا رہے، ملک میں دہرا نظام نہیں چل سکتا: حافظ نعیم وزیراعظم سے سعودی کاروباری وفد کی ملاقات، سرمایہ کاری پر تبادلہ خیال امریکی صدر کا آبنائے ہرمز سے تمام سمندری بارودی سرنگیں ہٹانے کا دعویٰ شہباز شریف 31 اگست کو کرغزستان کے تین روزہ دورے پر روانہ ہوں گے آزاد کشمیراسمبلی: طارق فاروق سپیکر، احمد رضا قادری ڈپٹی سپیکر منتخب، حلف اٹھا لیا محسن نقوی سے امریکی سفیر کی ملاقات، خطے کی صورتحال پر گفتگو بانی پی ٹی آئی کی رہائی عدالتوں کے ذریعے ہی ہوگی، ججز کے فیصلوں سے امید پیدا ہوئی: علیمہ خان فیلڈ مارشل کا دورہ کامیاب، نتائج جلد سامنے آنا شروع ہو جائیں گے: ایرانی صدارتی دفتر حکومت نے خلوص نیت سے سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل کیا: رانا ثناء اللہ 27 اگست سے مون سون بارشوں کے نئے سلسلے کی پیشگوئی

اربوں ڈالر کا سرپلس خسارے میں تبدیل، اپریل میں کرنٹ اکاؤنٹ 32 کروڑ ڈالر منفی ہو گیا، اسٹیٹ بینک

Web Desk

18 May 2026

ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی اور جنگی صورتحال کے پاکستانی معیشت پر گہرے اثرات مرتب ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان (SBP) کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق، پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ (Current Account) جو گزشتہ ماہ تک بڑے سرپلس میں تھا، اب دوبارہ خسارے میں تبدیل ہو گیا ہے۔ مالیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ خطے کی موجودہ نازک صورتحال کے باعث پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ شدید اتار چڑھاؤ (Volatility) کا شکار ہے۔

مرکزی بینک کے مطابق، رواں سال اپریل کے مہینے میں پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ 32 کروڑ 40 لاکھ ڈالر کے خسارے (Deficit) میں چلا گیا ہے۔ یہ صورتحال اس لیے زیادہ تشویشناک ہے کیونکہ اس سے پچھلے مہینے، یعنی مارچ میں پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ 1 ارب 13 کروڑ 40 لاکھ ڈالر کے بھاری سرپلس (Surplus) پر تھا، جو صرف ایک ماہ کے دوران بیرونی ادائیگیوں کے دباؤ کے باعث منفی میں تبدیل ہو گیا۔ اگر اس کا موازنہ گزشتہ سال کے اپریل سے کیا جائے تو گزشتہ سال اپریل میں یہ خسارہ محض 1 کروڑ 20 لاکھ ڈالر تھا۔

 اسٹیٹ بینک نے رواں مالی سال کے پہلے 10 مہینوں کی مجموعی رپورٹ پیش کرتے ہوئے بتایا ہے کہ:

 ملک کا مجموعی کرنٹ اکاؤنٹ 25 کروڑ 20 لاکھ ڈالر کے خسارے میں ہے۔اس کے برعکس، گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے (پہلے 10 ماہ) میں پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ 1 ارب 66 کروڑ ڈالر سرپلس تھا، جو ملکی معیشت کی مضبوطی کو ظاہر کر رہا تھا، مگر امسال یہ پوزیشن برقرار نہ رہ سکی۔ معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس وقت مشرقِ وسطیٰ میں جاری ایران امریکا جنگ اور بحیرہ عرب و آبنائے ہرمز کی غیر یقینی صورتحال نے پاکستانی معیشت کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ بین الاقوامی سطح پر خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ، سپلائی چین کے مسائل، اور درآمدی و برآمدی لاگت بڑھنے کے باعث پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ مسلسل اتار چڑھاؤ کا شکار ہے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر خطے میں کشیدگی برقرار رہی تو آنے والے مہینوں میں ملکی ذخائر اور روپے پر دباؤ مزید بڑھ سکتا ہے۔