LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
پوتن نے زیلنسکی سے مذاکرات سے کبھی انکار نہیں کیا، ماسکو آ سکتے ہیں، کریملن اسحاق ڈار کا ازبک وزیر خارجہ سے رابطہ، ایس سی او اجلاس کی تیاریوں پر تبادلہ خیال اسحاق ڈار کا مالدیپ کی وزیر خارجہ سے ٹیلی فونک رابطہ، دوطرفہ تعاون پر تبادلہ خیال سوات اور گردونواح میں زلزلے کے جھٹکے، شدت 4.4 ریکارڈ بھارتی پنجاب اسمبلی نے کرتارپور راہداری فوری کھولنے کا مطالبہ کر دیا بھارت میں سکھوں کے بدترین قتلِ عام کو 42 سال بیت گئے افغان طالبان رجیم کی دہشتگردوں کو امریکی اسلحہ فراہمی کے ہوشربا شواہد سامنے آ گئے بلوچستان: متعدد خاندانوں کا دہشتگردی میں ملوث اہلخانہ سے اعلانِ لاتعلقی یمنی فوج کا حوثی ملیشیا کے خلاف آپریشن فجرِالیمن جاری، 427 جنگجو ہلاک پولیس کا رات گئے مولانا فضل الرحمان کی رہائش گاہ پر آنا ہراساں کرنے کی سازش ہے، سیکیورٹی ہٹانے کے احکامات قابلِ مذمت ہیں: مولانا اسجد محمود شرجیل میمن نے متحدہ کی سڑکیں بند کرنے کی دھمکیا ں دہشتگردانہ عمل قرار دیدیں روس کا 24 گھنٹوں میں 1175 یوکرینی فوجی ہلاک یا زخمی، 391 ڈرونز تباہ کرنے کا دعویٰ امریکی بحری ناکابندی کے باوجود ایرانی ٹینکر 20 لاکھ بیرل تیل لے کر چین پہنچ گیا امریکا ایران جنگ کے خاتمے کیلئے دوحہ میں مذاکرات جاری، ایرانی وفد بھی موجود آبنائے ہرمز میں پاکستان آنے والے ایل این جی جہاز ’ال مایدا‘ پر حملہ، جہاز کو نقصان لیکن عملہ محفوظ

پاکستان ریلوے کے ملازمین کے 21 ارب 36 کروڑ روپے واجبات، وزارت ریلوے اور خزانہ آمنے سامنے

Web Desk

16 May 2026

پاکستان ریلوے کے ریٹائرڈ اور حاضر سروس ملازمین کے واجبات کی ادائیگی کا معاملہ شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ وزارتِ ریلوے اور وزارتِ خزانہ ایک دوسرے کے سامنے کھڑی ہو گئی ہیں۔ ادارے کے ملازمین کے مجموعی طور پر 21 ارب 36 کروڑ روپے کے واجبات تاحال ادا نہیں کیے جا سکے۔

دستاویزات کے مطابق مارچ 2023 کے بعد ریٹائر ہونے والے ملازمین کے واجبات بھی اب تک زیر التوا ہیں۔ ریٹائرڈ ملازمین کے 5 ہزار 578 گریجویٹی کلیمز کی مد میں تقریباً 10 ارب روپے واجب الادا ہیں، جبکہ وزیرِ اعظم معاونت پیکج کے تحت 4 ہزار 135 کلیمز کی مد میں 7 ارب 52 کروڑ روپے ادا نہیں کیے گئے۔

اس کے علاوہ میرج گرانٹ کی مد میں 1 ارب 18 کروڑ روپے اور بینیوولنٹ فنڈ کی مد میں 1 ارب 52 کروڑ روپے کے بقایاجات بھی شامل ہیں۔ وزارتِ ریلوے نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ متعدد بار درخواستوں کے باوجود وزارتِ خزانہ نے اضافی فنڈز جاری نہیں کیے۔

مزید بتایا گیا ہے کہ 8 ارب 19 کروڑ روپے کی اضافی گرانٹ کی سمری دسمبر 2025 سے زیر التوا ہے اور گزشتہ پانچ ماہ سے اسے اقتصادی رابطہ کمیٹی کے ایجنڈے میں بھی شامل نہیں کیا گیا۔

دستاویزات کے مطابق گزشتہ مالی سال پاکستان ریلوے کا ریونیو 93 ارب روپے رہا جبکہ حکومت سے 64 ارب روپے کی گرانٹ حاصل کی گئی۔ اس کے باوجود واجبات کی عدم ادائیگی پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔