LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
ممالک ایران کیخلاف نئی جنگ کی حمایت نہ کریں، امید ہے خطے کے ممالک ماضی سے سبق سیکھ چکے ہوں گے: عباس عراقچی ایران کو معاہدہ کرنا ہوگا، ورنہ امریکا جلد معاملہ نمٹا دےگا، ڈونلڈٹرمپ امریکی مڈٹرم انتخابات سے قبل ڈیموکریٹک پارٹی میں اختلاف، خاتون رکنِ کانگریس نے ریپبلکن امیدوار کی حمایت کردی غزہ میں بمباری کے نتیجے میں یرغمالی بھی ہلاک ہوئے: اسرائیلی فوج کے سابق سربراہ کا اعتراف ایران کے ساتھ ممکنہ نئی جنگ کیلئے اسرائیل نے فوجی تیاریاں مکمل کرلیں، اسرائیلی اخبار افغانستان سے پاکستانی سرحدی چوکیوں پربلااشتعال فائرنگ کے جواب میں سکیورٹی فورسز کی مؤثر جوابی کارروائی حوثی ملیشیا جارحیت سے باز نہ آئی، سعودیہ میں بیلسٹک میزائل اور ڈرون حملہ ناکام چین سے پارلیمانی تعاون، ادارہ جاتی روابط، تجربات کے تبادلے فروغ پا رہے: یوسف رضا گیلانی آج کل میڈیا کھمبوں کے پیچھے بہت پڑا، بڑے بڑے اینکر کھمبوں پر پروگرام کر رہے ہیں: مراد علی شاہ امریکی ریاست فلوریڈا میں نجی کمپنی کا طیارہ سڑک پرگر کر تباہ، تمام 9 افراد ہلاک کمیونسٹ پارٹی چائنہ کے وزیر تین روزہ دورے پر اسلام آباد پہنچ گئے نوجوانوں کو مواقع فراہم کرنا ترجیح، ملکی ترقی کیلئے کردار ادا کرنا ہوگا: محسن نقوی پاکستان میں جاگیردارانہ جمہوریت اور خاندانی سیاست کی مزید گنجائش نہیں: خالد مقبول صدیقی پوتن نے زیلنسکی سے مذاکرات سے کبھی انکار نہیں کیا، ماسکو آ سکتے ہیں، کریملن اسحاق ڈار کا ازبک وزیر خارجہ سے رابطہ، ایس سی او اجلاس کی تیاریوں پر تبادلہ خیال

بھارت میں سکھوں کے بدترین قتلِ عام کو 42 سال بیت گئے

Web Desk

1 November 2026

بھارت میں سکھوں کے خلاف تاریخ کے بدترین اور انتہائی شرمناک قتلِ عام کو پورے 42 سال بیت گئے ہیں، تاہم آج بھی اس تاریک دور کی یادیں متاثرہ خاندانوں کے دلوں میں تازہ ہیں۔

یکم نومبر 1984ء کا دن بھارتی تاریخ کے سیاہ ترین اور دردناک ترین ابواب میں شمار ہوتا ہے، جب اس وقت کی وزیراعظم اندرا گاندھی کے قتل کے بعد ملک بھر میں سرکاری سرپرستی میں ہولناک سکھ مخالف فسادات کا آغاز ہوا جو تین دن تک مسلسل بلا روک ٹوک جاری رہے۔ ان وحشیانہ فسادات کے دوران ہزاروں بے گناہ سکھوں کو انتہائی بے دردی سے قتل کیا گیا، جبکہ سینکڑوں معصوم خواتین کو وحشت کا نشانہ بنایا گیا۔ یہ افسوس ناک واقعات محض ایک مذہبی اقلیت کے خلاف پرتشدد کارروائیاں نہیں تھیں بلکہ انسانی حقوق، رواداری اور تمام بین الاقوامی اقدار پر ایک کاری ضرب تھے۔

عالمی ذرائع ابلاغ اور مؤقر بین الاقوامی جریدوں نے بھی 1984ء کے اس مسلمہ قتلِ عام کو بھارتی ریاست کی تاریخ کا شرمناک ترین باب قرار دیا ہے۔ معروف جریدے ’دی ڈپلومیٹ‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق، انتہاپسند ہندو جتھوں نے سرکاری ووٹر لسٹوں کا استعمال کرتے ہوئے گھر گھر جا کر چن چن کر سکھوں کی شناخت کی اور انہیں موت کے گھاٹ اتارا۔ اسی طرح ’ہیومن رائٹس واچ‘ کی رپورٹس میں بھی اس بات کی تصدیق کی گئی ہے کہ اس وقت کی بھارتی حکومت اور انتظامیہ کی براہِ راست سرپرستی اور چشم پوشی کے تحت سکھوں کے خلاف ایک باقاعدہ اور سوچی سمجی نسل کشی کی مہم چلائی گئی تھی۔