LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
وزیراعظم شہباز شریف کا ملک گیر سادگی و کفایت شعاری مہم کا اعلان حوثیوں کا سعودی عرب پر ڈرون حملہ، ایک شہری جاں بحق، پاکستانی سمیت 2 زخمی قیصر احمد شیخ کی نٹالی بیکر سے ملاقات، پاک امریکا اقتصادی و تجارتی تعاون بڑھانے پر زور امریکی ایوان نمائندگان نے ایران اور روس پر پابندیوں کا بل منظور کرلیا عراقچی کا ترک ہم منصب سے ٹیلی فونک رابطہ، علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال دفتر خارجہ میں دستاویزات کی تصدیق کی رپورٹ، ڈی جی آڈٹ عہدے سے ہٹا دیئے گئے ادویات کنٹینرز روکنے کی خبر پر محسن نقوی کا نوٹس، فوری ریلیز کا حکم چین کے ساتھ مذاکرات کامیاب، آج کے فیصلے خطے کے مستقبل کا تعین کرینگے: عراقچی نئی کفایت شعاری مہم، سرکاری فیول میں 50 فیصد کٹوتی، غیرملکی دوروں، خریداری پر پابندی پی ٹی آئی سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ کو حراست میں لے لیا گیا پنجاب نے کسی کا حق نہیں کھایا، اپنے حصے سے دوسروں کو دیا: وزیراعلیٰ مریم نواز تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان کا سربراہی اجلاس کل اسلام آباد میں طلب، لانگ مارچ پر مشاورت ہو گی اقوام متحدہ کی تحقیقات، ایران میں امریکی حملوں پر جنگی جرائم کے شواہد کا دعویٰ کردیا 27ستمبر کو پی ٹی آئی اسلام آباد نہیں پہنچے گی، بانی کی رہائی سزا پوری ہونے کے بعد ممکن ہے: فیصل کریم کنڈی پارلیمنٹ ہاؤس: اپوزیشن چیمبر میں علامہ ناصر عباس اور محمود خان اچکزئی کی ملاقات، آئین تحفظ اجلاس پر اہم مشاورت

پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج نرسنگ ڈے منایا جارہا ہے

Web Desk

12 May 2026

دنیا بھر کی طرح آج پاکستان میں بھی نرسوں کا عالمی دن منایا جا رہا ہے، جس کا مقصد نرسنگ کے شعبے کی اہمیت کو اجاگر کرنا اور انسانیت کی خدمت میں مصروف نرسز کی بے لوث خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرنا ہے۔ شعبہ صحت میں نرسنگ کو ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت حاصل ہے، تاہم پاکستان میں یہ شعبہ اس وقت افرادی قوت کی شدید کمی کا شکار ہے۔انٹرنیشنل کونسل آف نرسز کے زیرِ اہتمام یہ دن ہر سال 12 مئی کو جدید نرسنگ کی بانی فلورنس نائٹن گیل کے یومِ پیدائش کی مناسبت سے منایا جاتا ہے۔ اس دن کو باقاعدہ منانے کا آغاز 1965 میں ہوا تھا۔ پاکستان میں نرسنگ کے شعبے کی بنیاد 1949 میں بیگم رعنا لیاقت علی خان نے رکھی تھی، جس نے ملک میں خواتین کے لیے اس معزز پیشے کے راستے کھولے۔ مختلف طبی رپورٹس کے مطابق پاکستان کو اس وقت مجموعی طور پر تقریباً 15 لاکھ نرسوں کی کمی کا سامنا ہے۔ ایک تشویشناک اندازے کے مطابق ملک میں 100 مریضوں کی دیکھ بھال کے لیے صرف ایک نرس دستیاب ہے، جو بین الاقوامی معیار کے مقابلے میں انتہائی کم ہے۔ ملک میں اس وقت 162 نرسنگ ادارے کام کر رہے ہیں، لیکن آبادی کی بڑھتی ہوئی ضروریات کے پیشِ نظر یہ تعداد ناکافی ہے۔ نرسیں طویل ڈیوٹی اوقات، محدود سہولیات اور شدید ذہنی و جسمانی دباؤ کے باوجود فرنٹ لائن پر اپنی ذمہ داریاں نبھا رہی ہیں۔کورونا وائرس کی عالمی وبا کے دوران نرسوں نے اپنی جانوں کی پروا کیے بغیر جس طرح مریضوں کی خدمت کی، اسے عالمی سطح پر سراہا گیا۔ ماہرینِ صحت کا کہنا ہے کہ جب تک نرسنگ کے شعبے میں سرمایہ کاری اور نرسوں کے معاشی و سماجی حالات بہتر نہیں کیے جاتے، تب تک ملک میں صحت کے اہداف کا حصول مشکل رہے گا۔