LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
اسحاق ڈار کی ایس سی او سیکرٹری جنرل سے ملاقات، پاکستان کی صدارت پر مبارکباد وزیراعظم کی صدر بیلاروس سے ملاقات، دورہ پاکستان کی دعوت دے دی ملک حکمرانوں کی نااہلی اور کرپشن کی وجہ سے ڈوب رہا ہے: حافظ نعیم الرحمان ڈنمارک نے دمشق میں 14 سال بعد سفارتخانہ دوبارہ کھول دیا سکیورٹی فورسز کی کارروائیاں، فتنہ الہندوستان، فتنہ الخوارج کے 21 دہشتگرد ہلاک، 6 اہلکار شہید عدالتی فیصلے خوش آئند ہیں، تناؤ کے خاتمے اور بانی پی ٹی آئی کے علاج کے لیے سیاسی ڈائیلاگ ضروری ہے: بیرسٹر گوہر پاکستان نے امریکی ڈالر بینچ مارک یورو بانڈ جاری کرنے کا عمل شروع کر دیا لیسکو چیف کی ترقی سے متعلق اجلاسوں کے منٹس شہری کو فراہم کرنے کا حکم برقرار ولادی ووستوک میں 11واں ایسٹرن اکنامک فورم شروع، 80 ممالک کے نمائندوں کی شرکت شنگھائی تعاون تنظیم ابھرتی ہوئی کثیر قطبی دنیا کا آزاد اور بااثر مرکز بن چکی ہے، صدر پوتن پاکستان پائیدار علاقائی امن کیلئے پرعزم، پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنا ناقابل قبول ہے: وزیراعظم امریکا اسلام آباد ایم او یو پر عمل کرے تو ایران بھی تیار ہے: ایرانی صدر مسعود پزشکیان وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی عباس عراقچی سے ملاقات، باہمی امور پر تبادلہ خیال اسلام آباد ہائیکورٹ: بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کو طبی سہولیات، اخبارات اور کتابیں فراہم کرنے کی ہدایت اسلام آباد ہائیکورٹ: جیل حکام کو بانی پی ٹی آئی کی بشریٰ بی بی، اہلخانہ سے ملاقات اور بیٹوں سے ٹیلی فون پر بات کرانے کا حکم

ایرانی وزیر خارجہ، روسی صدر سے ملاقات کیلئے سینٹ پیٹرزبرگ پہنچ گئے

Web Desk

27 April 2026

ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی ایک اہم سفارتی مشن پر روس کے شہر سینٹ پیٹرز برگ پہنچ گئے ہیں، جہاں وہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے ملاقات کریں گے۔ اس دورے کو خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال اور ایران امریکہ کشیدگی کے تناظر میں انتہائی اہمیت کا حامل قرار دیا جا رہا ہے۔

شہداء کی یاد میں خصوصی کال سائن: ایرانی سرکاری خبر رساں ایجنسی ‘ارنا’ (IRNA) کے مطابق، عباس عراقچی کے طیارے نے “میناب 168” کے کال سائن کے ساتھ پرواز کی۔ یہ کال سائن ان معصوم بچوں کی یاد میں رکھا گیا ہے جو 28 فروری کو شہر میناب کے ایک پرائمری سکول پر ہونے والے مبینہ امریکی و اسرائیلی حملے میں شہید ہوئے تھے۔ اس علامتی اقدام کے ذریعے ایران عالمی سطح پر اس واقعے کی جانب توجہ مبذول کروانا چاہتا ہے۔سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس ملاقات میں درج ذیل امور زیرِ بحث آنے کی توقع ہے: ایران اور روس کے درمیان طویل مدتی دفاعی اور اقتصادی شراکت داری کو مزید مستحکم بنانا۔امریکہ کے ساتھ جاری حالیہ کشیدگی اور خلیجِ فارس میں ناکہ بندی کے خاتمے کے لیے روسی تعاون کا حصول۔مغربی دباؤ کے خلاف ماسکو اور تہران کے مشترکہ لائحہ عمل کی تیاری۔مبصرین کے مطابق، عباس عراقچی کا یہ دورہ ثابت کرتا ہے کہ ایران اپنی خارجہ پالیسی میں توازن برقرار رکھنے کے لیے جہاں ایک طرف پاکستان کے ذریعے واشنگٹن تک پیغامات پہنچا رہا ہے، وہیں دوسری جانب اپنے دیرینہ اتحادی روس کے ساتھ بھی مکمل رابطے میں ہے۔ سینٹ پیٹرز برگ میں ہونے والی یہ ملاقات آنے والے دنوں میں خطے کی سیاست پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔