LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکا اسلام آباد ایم او یو پر عمل کرے تو ایران بھی تیار ہے: ایرانی صدر مسعود پزشکیان وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی عباس عراقچی سے ملاقات، باہمی امور پر تبادلہ خیال اسلام آباد ہائیکورٹ: بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کو طبی سہولیات، اخبارات اور کتابیں فراہم کرنے کی ہدایت اسلام آباد ہائیکورٹ: جیل حکام کو بانی پی ٹی آئی کی بشریٰ بی بی، اہلخانہ سے ملاقات اور بیٹوں سے ٹیلی فون پر بات کرانے کا حکم اسلام آباد ہائیکورٹ: بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی جیل قیدِ تنہائی کیخلاف درخواستیں قابلِ سماعت قرار عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ ریکارڈ یورپی یونین واشنگٹن کے غیر قانونی اقدامات میں شریک بن چکی ہے: اسماعیل بقائی ایران تیل و گیس کی ترسیل میں خلل ڈالنے کیلئے کچھ بھی کرنے کو تیار ہے: جے ڈی وینس آبنائے ہرمز سے گزرنے والے سعودی آئل ٹینکر کو روک لیا گیا: ایرانی میڈیا وزیراعظم شہباز شریف کی شنگھائی تعاون تنظیم سربراہان مملکت کے اجلاس میں شرکت صدر مملکت آصف علی زرداری ویانا سے لندن پہنچ گئے امریکی فوج کے سیکرٹری ڈین ڈرسکول مستعفی ایران کی حملوں کیلئے سرزمین دینے والے ممالک کو بھی نشانہ بنانے کی دھمکی ایران کا امریکا کے کسی بھی حملے کا جواب کئی گنا زیادہ شدت سے دینے کا اعلان ٹرمپ آبنائے ہرمز کو امریکی علاقہ بنانے کا خواب بھی نہیں دیکھ سکتے: ابوفضل شکارچی

امریکا اسلام آباد ایم او یو پر عمل کرے تو ایران بھی تیار ہے: ایرانی صدر مسعود پزشکیان

Web Desk

1 September 2026

بشکیک/تہران: ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے واضح کیا ہے کہ اگر امریکا جون میں طے پانے والی ‘اسلام آباد مفاہمتی یادداشت’ (MoU) کے تحت اپنے وعدوں کی پاسداری کرتا ہے، تو ایران بھی فوری اور مثبت جواب دینے کے لیے تیار ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق بشکیک میں شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) کے سربراہی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی صدر نے کہا کہ ایران اور امریکا کے درمیان طے پانے والے اس عبوری معاہدے پر امریکی صدر کے ذاتی دستخط موجود تھے، تاہم واشنگٹن کی جانب سے اس دستاویز کی پاسداری دو ہفتے سے بھی کم وقت جاری رہی۔

ایرانی صدر نے اجلاس کے موقع پر وزیراعظم پاکستان شہباز شریف سے ہونے والی اہم ملاقات کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ شہباز شریف نے انہیں یقین دہانی کرائی ہے کہ پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کے درمیان طے پانے والا مکہ معاہدہ محض دفاعی نوعیت کا ہے اور یہ کسی بھی ملک کے خلاف نہیں بلکہ خطے میں امن و سلامتی کے قیام کے لیے قائم کیا گیا ہے۔ مسعود پزشکیان نے پاکستان کے ثالثی کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ مکہ معاہدہ امتِ مسلمہ کے اتحاد کی جانب ایک بڑا قدم ہے، اور اگر تمام مسلم ممالک باہمی ڈائیلاگ اور تعاون کے ذریعے متحد ہو جائیں تو اسرائیل کو حملوں کی جرأت نہیں ہوگی۔