LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکی محکمہ انصاف کا ٹرمپ انتظامیہ کے دوران سب سے بڑا اقدام، سنگین جرائم میں ملوث 40 افراد کی شہریت منسوخ کرنے کی کارروائی شروع پاکستان آئی ایل او سے تعاون کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے: وزیراعظم روسی افواج کے یوکرینی ریڈارز، ڈیٹا سینٹرز اور فوجی تنصیبات پر حملے آزاد کشمیر اسمبلی کے ارکان نے حلف اٹھا لیا، مسائل باہمی تعاون سے حل کیے جائیں گے: وزیراعظم آزاد جموں و کشمیر کابینہ میں تین وزراء کے محکموں میں ردوبدل ایران جنگ: برطانیہ میں ڈیزل کی قیمت ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی قطر کا سعودی خودمختاری کے تحفظ اور ایران امریکا مذاکرات میں پیش رفت کی حمایت کا اعلان ایرانی افواج کی انگلیاں ٹرگر پر،دشمن کی غلطی کے منتظر ہیں: ابراہیم عزیزی مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ، حرمین شریفین کے دفاع کیلئے مسلم امہ کا مضبوط اتحاد اپوزیشن اتحاد کی آج مولانا فضل الرحمان سے ملاقات طے، خیبرپختونخوا کی صورتحال اور پارلیمانی امور پر مشاورت ہوگی مذاکرات کی ناکامی کے ذمہ دار وفاقی وزراء ہیں: شوکت یوسفزئی وزیراعظم کی موسم سرما میں گیس لوڈ مینجمنٹ کا لائحہ عمل تیار کرنے کی ہدایت آزاد جموں و کشمیر میں پیپلز پارٹی کی تنظیم نو، چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے چار رکنی کمیٹی تشکیل دے دی ڈی آئی خان میں فائرنگ کے دو واقعات میں ایف بی آر اور پولیس کے 5 اہلکار شہید اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس کا دورہ پاکستان، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس

پاکستان پائیدار علاقائی امن کیلئے پرعزم، پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنا ناقابل قبول ہے: وزیراعظم

Web Desk

1 September 2026

 وزیراعظم شہباز شریف نے شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) کے سربراہی اجلاس سے تاریخی خطاب کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ پانی خطے کی زندگی اور آنے والی نسلوں کے مستقبل کی ضمانت ہے، لہٰذا پانی کو سیاسی مقاصد یا دباؤ کے ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا کسی صورت قابلِ قبول نہیں اور عالمی معاہدوں پر ان کی روح کے مطابق عملدرآمد ضروری ہے۔

کرغزستان کے دارالحکومت بشکیک میں ایس سی او کے 25 ویں سربراہی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان ایس سی او کا ایک فعال اور ذمہ دار رکن ہے اور خطے میں پائیدار امن و استحکام کا حامی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے بین الاقوامی تنازعات کے پرامن حل کے لیے ہمیشہ سفارتی کردار ادا کیا ہے، جس کی واضح مثال ‘اسلام آباد مفاہمتی یادداشت’ پر پیش رفت ہے۔ وزیراعظم نے غزہ میں جاری انسانی المیے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے عالمی برادری سے فلسطینیوں کے حقِ خودارادیت کے احترام کا مطالبہ کیا۔

دہشت گردی کے موضوع پر بات کرتے ہوئے شہباز شریف نے بتایا کہ پاکستان نے اس جنگ میں 90 ہزار سے زائد قیمتی جانوں کی قربانیاں دیں اور 150 ارب ڈالر سے زائد کا معاشی نقصان برداشت کیا۔ انہوں نے زور دیا کہ افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے۔ وزیراعظم نے سی پیک (CPEC) اور علاقائی ریل، سڑک و توانائی کے منصوبوں کو تزویراتی ضرورت قرار دیا اور اعلان کیا کہ پاکستان 2026-27 کے لیے ایس سی او کی صدارت سنبھالتے ہوئے توانائی، آئی ٹی، اور مصنوعی ذہانت (AI) کے فریم ورک کو ترجیح دے گا۔ اجلاس کے موقع پر وزیراعظم نے چینی صدر شی جن پنگ، روسی صدر ولادی میر پیوٹن، اور ترک صدر رجب طیب اردوان سمیت متعدد عالمی رہنماؤں سے اہم غیر رسمی ملاقاتیں بھی کیں۔