LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کی آج وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات متوقع ملیریا قابلِ علاج مگر خطرناک مرض ہے، بروقت تشخیص ضروری ہے: وزیراعلیٰ سندھ فیلڈ مارشل سے ایرانی وزیر خارجہ کی ملاقات، علاقائی صورتحال اور دوطرفہ تعاون پر تبادلہ خیال مریم نواز کی کاوشیں، پنجاب 10 لاکھ مویشی برآمد کرے گا ایران بات چیت کرنا چاہتا ہے، بااختیار لوگوں سے مذاکرات کر رہے ہیں: امریکی صدر اقوام متحدہ میں انسداد دہشت گردی مباحثہ، بی ایل اے، ٹی ٹی پی کے خطرات پر غور صدر زرداری کا دورہ چین: سی پیک اور اقتصادی تعاون پر خصوصی توجہ، تزویراتی شراکت داری مزید مستحکم ہوگی پاکستان میں مذاکرات کے نئے دور میں پیشرفت کی امید ہے: ترک وزیر خارجہ اسرائیل کے وحشیانہ حملے، 6 پولیس اہلکاروں سمیت مزید 12 فلسطینی شہید حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں بڑا اضافہ کردیا ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کی اسلام آباد آمد،اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل نے استقبال کیا ٹرمپ کا وٹکوف،کشنرکو اسلام آبادبھیجنے کافیصلہ،وینس کے فی الحال پاکستان جانے کاامکان نہیں،امریکی ٹی وی ہمارے پڑوسی ممالک ہماری ترجیح ہیں، ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی آج سے اسلام آباد، مسقط اورماسکوکادورہ کرینگے، ایرانی میڈیاکی تصدیق اسحاق ڈاراوروسی وزیرخارجہ کا ٹیلیفونک رابطہ، خطے میں امن کیلیے تعاون پر گفتگو

اقوام متحدہ میں انسداد دہشت گردی مباحثہ، بی ایل اے، ٹی ٹی پی کے خطرات پر غور

Web Desk

25 April 2026

اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ انسدادِ دہشت گردی پاکستان کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ اس سلسلے میں پاکستانی مشن نے اقوامِ متحدہ کے دفتر برائے انسدادِ دہشت گردی (UNOCT) کے ساتھ مل کر عالمی ہیڈکوارٹر میں ایک خصوصی تقریب کا انعقاد کیا، جس کا موضوع “دہشت گردی کے نئے اور ابھرتے رجحانات” تھا۔

تقریب کی مشترکہ صدارت سفیر عاصم افتخار اور UNOCT کے قائم مقام انڈر سیکریٹری جنرل الیگزینڈر زویوف نے کی۔ اپنے خطاب میں سفیر عاصم افتخار نے عالمی برادری کی توجہ دہشت گرد گروہوں جیسے ٹی ٹی پی (TTP)، بی ایل اے (BLA) اور داعش خراسان کے بڑھتے ہوئے خطرات کی جانب مبذول کروائی۔ انہوں نے واضح کیا کہ دہشت گرد اب مالی معاونت اور پروپیگنڈے کے لیے سوشل میڈیا، مصنوعی ذہانت (AI) اور کرپٹو کرنسی جیسے جدید ذرائع کا سہارا لے رہے ہیں، جس سے نمٹنے کے لیے عالمی تعاون ناگزیر ہے۔

سیمینار میں چین کے مستقل مندوب فو کونگ سمیت دنیا بھر کے ماہرین نے شرکت کی۔ ماہرین نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ دہشت گردانہ نظریات، نسل پرستی اور اسلامو فوبیا جیسے رجحانات آن لائن نیٹ ورکس کے ذریعے تیزی سے پھیل رہے ہیں۔ مقررین نے ٹیکنالوجی کمپنیوں کی جوابدہی اور سائبر اسپیس میں سرحدوں سے آزاد دہشت گردی کو روکنے کے لیے موثر قانون سازی پر زور دیا۔

قائم مقام انڈر سیکریٹری جنرل الیگزینڈر زویوف نے پاکستان کی ان کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل اثاثوں نے دہشت گردی کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ یہ تقریب ایک ایسے وقت میں منعقد ہوئی ہے جب پاکستان 2025-26 کے لیے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے منتخب رکن کے طور پر عالمی سطح پر امن و امان کے لیے اپنی سفارتی کوششیں تیز کر رہا ہے۔