LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
وزیرِ اعظم سے پاکستانی خلا بازوں کی ملاقات، خلائی مشن کو تاریخی سنگ میل قرار قرضے حکمران لیں اور واپس عوام کریں یہ ظلم ہے: حافظ نعیم الرحمان پاکستان نے 2023 کے بعد پہلی بار ایل این جی کارگو کیلئے تین ٹینڈر جاری کر دیے وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت انرجی سیکیورٹی کے حوالے سے اہم اجلاس توانائی بحران اور علاقائی کشیدگی کے باعث کاروباری اعتماد میں نمایاں کمی: گیلپ پاکستان سروے محسن نقوی سے امریکی سفیر کی ملاقات، مذاکرات کے دوسرے راؤنڈ پر تبادلہ خیال آبنائے ہرمز میں عدم استحکام کی وجہ امریکی و اسرائیلی جارحیت ہے: عراقچی وزیراعلیٰ پنجاب نے ”اپنا کھیت، اپنا روزگار سکیم“ پورٹل کا افتتاح کر دیا پاکستان سٹاک ایکسچینج میں کاروبار کے آغاز پر مندی کا رجحان اسرائیل کا شمالی غزہ میں ڈرون حملہ، 3 بچوں سمیت 5 فلسطینی شہید ایران سے سیز فائر کی ڈیڈ لائن طے نہیں کی، وقت کا تعین کمانڈ ان چیف کرینگے: کیرولین لیوٹ امریکی وزیر نیوی جان سی فیلن اچانک مستعفی، فوری طور پر عہدہ چھوڑ دیا ایرانی وزارت خارجہ نے اسلام آباد میں جمعہ کے مذاکرات کی حتمی تصدیق سے  انکار کردیا سہیل آفریدی نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کی آنکھ کا مسئلہ سازش قرار دے دیا جنگ بندی کے خاتمے کی کوئی ڈیڈلائن نہیں، ایران اندرونی اختلافات شکار ہے: وائٹ ہاؤس

آبنائے ہرمز میں عدم استحکام کی وجہ امریکی و اسرائیلی جارحیت ہے: عراقچی

Web Desk

23 April 2026

ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے خلیجِ فارس اور آبنائے ہرمز میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور عدم استحکام کا ذمہ دار امریکہ اور اسرائیل کو قرار دے دیا ہے۔ جنوبی کوریا کے خصوصی ایلچی کے ساتھ ملاقات کے دوران انہوں نے خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے ایران کے خلاف جاری مبینہ امریکی و اسرائیلی جارحیت اور جرائم سے آگاہ کیا۔

عباس عراقچی نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ امریکی اور اسرائیلی حملوں کی واضح الفاظ میں مذمت کریں۔ انہوں نے دوٹوک موقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ ایران بین الاقوامی قوانین کے فریم ورک کے اندر رہتے ہوئے اپنی سلامتی، خود مختاری اور قومی مفادات کے دفاع کے لیے ضروری اقدامات کر رہا ہے۔ ایرانی وزیرِ خارجہ نے مزید واضح کیا کہ خطے میں کسی بھی قسم کی کشیدگی اور ان اقدامات کے ممکنہ نتائج کی تمام تر ذمہ داری جارح قوتوں پر عائد ہوتی ہے۔