LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکا کے ایرانی تنصیبات پر حملے، کویت اور بحرین میں جوابی میزائل داغ دیئے گئے ٹرمپ کی چیف آف سٹاف سوزی وائلز کا عہدہ چھوڑنے کا فیصلہ ایرانی سپریم لیڈر نے 2 ہزار سے زائد قیدیوں کی سزا معاف کر دی امریکا نے کویت کو انسداد ڈرون، متعلقہ آلات کی ممکنہ فروخت کی منظوری دیدی بجٹ تاخیر اور معاشی بحران، حکومت پر دباؤ بڑھ گیا: اسد قیصر امریکی صدر ٹرمپ کی عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں بڑی کمی کی پیشگوئی گلگت بلتستان میں انتخابی مہم کا وقت ختم، ووٹنگ 7 جون کو ہوگی امن و سلامتی کو نقصان پہچانے کا الزام، جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کالعدم قرار حکومت کا عوام کو جزوی ریلیف، پیٹرول کی قیمت میں کمی، ڈیزل برقرار نیویارک میں سینٹر 360 کا آغاز، شہریوں کے لیے شہر کے دلکش مناظر مفت دستیاب اسلام آباد کیلئے علیحدہ اسمبلی کے قیام کی سفارش، براہ راست انتخابات اور نیا انتظامی نظام تجویز پاکستان ٹرمپ انتظامیہ کا اہم شراکت دار، علاقائی عدم استحکام چیلنج ہے: امریکی میڈیا پُرامن دنیا کی جانب بڑھنے کے لیے سرحدوں کی حفاظت ضروری ہے: محسن نقوی وزیر اعظم نے کمرشل کورٹس کے قیام کیلئے 8 رکنی کمیٹی تشکیل دیدی فرینکفرٹ ایئرپورٹ پر بڑا حادثہ؛ مسافروں کی بورڈنگ کے دوران برانڈ نیو بوئنگ طیارے کا نوز گیئر گر گیا

پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ منصوبوں میں تیزی کیلئے نیا نظام منظور

Web Desk

21 April 2026

وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت منعقدہ ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں ملک کے ترقیاتی ڈھانچے کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے ایک اہم انتظامی تبدیلی کی منظوری دی گئی ہے۔ وزیراعظم نے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ (PPP) کے تحت منصوبوں کی رفتار بڑھانے کے لیے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ اتھارٹی (P3A) کو اب نجکاری ڈویژن کے ماتحت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد بیوروکریٹک رکاوٹوں کو ختم کرنا اور نجی شعبے کی سرمایہ کاری کو حکومتی ترقیاتی ایجنڈے کے ساتھ زیادہ مؤثر طریقے سے ہم آہنگ کرنا ہے۔

اجلاس کے دوران وزیراعظم نے واضح کیا کہ وزارتوں اور محکموں کی کارکردگی کو اب پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے منصوبوں کی بنیاد پر جانچا جائے گا اور اسے ان کے کلیدی کارکردگی کے اشاریوں (KPIs) کا حصہ بنایا جائے گا۔ نئے نظام کے تحت، P3A کی نگرانی براہِ راست کابینہ کمیٹی برائے نجکاری کرے گی، تاکہ شفافیت اور تیز رفتار عملدرآمد کو یقینی بنایا جا سکے۔