LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
عالمی چیلنجز سے نمٹنے کیلئے اقوام متحدہ کو مزید مضبوط بنانا ہوگا: وزیراعظم گومل یونیورسٹی سے ملحقہ نجی کالجز کے ریکارڈ میں بے ضابطگیوں کا انکشاف پاکستان کو دوبارہ عروج و زوال کے معاشی چکر میں نہیں جانے دیں گے: وزیر خزانہ خیبرپختونخوا کا ٹرانسپورٹ نظام بحران کا شکار، بدانتظامی کے سنگین انکشافات یورپی یونین بھی ایران کے خلاف اقتصادی آپریشن میں شامل ہو گئی: امریکا پاکستان سٹاک مارکیٹ میں کاروبار کے دوران اتار چڑھاؤ جاری حکومت کا جون 2027 تک پیٹرول کی قیمتیں ڈی ریگولیٹ کرنے کا ہدف مقرر ایس ای سی پی کا بڑا سنگِ میل: اگست 2026ء میں 4,761 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ، آئی ٹی سیکٹر سرِ فہرست کوہ پیما ماؤنٹ ایورسٹ کے گلیئشرز کو پگھلانے کا باعث بن رہے ہیں، حیران کن انتباہ آئی ایس پی آر سمر انٹرنشپ پروگرام کے طلبہ کا پی ایم اے کاکول کا مطالعاتی دورہ بھارتی بیان بازی شرمناک، نارووال میں مندر طوفانی بارش سے متاثر ہوا: دفتر خارجہ پاکستانی شہری نے ابوظبی میں 1 کروڑ 50 لاکھ درہم کی لاٹری جیت لی وزیراعلیٰ مریم نواز کا سرگودھا میں مزید 7 الیکٹرو بسیں مہیا کرنے کا اعلان ’6 بچے ہیں، مزید نہیں پال سکتی‘ ماں نے 2 ماہ کے بچے کو برساتی نالے میں پھینک دیا چین ایران کو معاشی طور پر تنہا کرنے میں تعاون کیلئے تیار ہے: جے ڈی وینس

پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ منصوبوں میں تیزی کیلئے نیا نظام منظور

Web Desk

21 April 2026

وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت منعقدہ ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں ملک کے ترقیاتی ڈھانچے کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے ایک اہم انتظامی تبدیلی کی منظوری دی گئی ہے۔ وزیراعظم نے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ (PPP) کے تحت منصوبوں کی رفتار بڑھانے کے لیے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ اتھارٹی (P3A) کو اب نجکاری ڈویژن کے ماتحت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد بیوروکریٹک رکاوٹوں کو ختم کرنا اور نجی شعبے کی سرمایہ کاری کو حکومتی ترقیاتی ایجنڈے کے ساتھ زیادہ مؤثر طریقے سے ہم آہنگ کرنا ہے۔

اجلاس کے دوران وزیراعظم نے واضح کیا کہ وزارتوں اور محکموں کی کارکردگی کو اب پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے منصوبوں کی بنیاد پر جانچا جائے گا اور اسے ان کے کلیدی کارکردگی کے اشاریوں (KPIs) کا حصہ بنایا جائے گا۔ نئے نظام کے تحت، P3A کی نگرانی براہِ راست کابینہ کمیٹی برائے نجکاری کرے گی، تاکہ شفافیت اور تیز رفتار عملدرآمد کو یقینی بنایا جا سکے۔