LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
اسلام آباد مذاکرات کا دوسرا مرحلہ: وزیر داخلہ محسن نقوی اور ایرانی سفیر کی ملاقات جاپان میں زلزلے کے جھٹکے، شدت 7.5 ریکارڈ، سونامی کا خطرہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کا صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو فون: ناکہ بندی مذاکرات میں رکاوٹ ہے، روئٹرز کا دعویٰ پاک مصر مشق ’تھنڈر II‘ کامیابی سے مکمل، انسداد دہشتگردی تعاون مزید مضبوط پاکستان نے امن کیلئے کردار ادا کیا، امریکا ناقابلِ اعتماد، مذاکرات میں شرکت کا کوئی ارادہ نہیں: ایران چین کی بے مثال ترقی دنیا کیلئے ایک روشن مثال ہے: مریم نواز اسلام آباد مذاکرات کا دوسرا راؤنڈ: وزیر داخلہ محسن نقوی کی امریکی سفیر سے ملاقات، سیکیورٹی انتظامات پر بریفنگ ایران کا امریکا کے ساتھ مذاکرات جاری رکھنے کا فیصلہ، غیر ضروری مطالبات ماننے سے انکار امریکا سے مذاکرات جاری، جنگ کیلئے بھی تیار ہیں: محمد باقر قالیباف پاکستان سٹاک مارکیٹ میں کاروبار کے آغاز پر شدید مندی پاکستان پھر مرکزِ نگاہ: ایران سے مذاکرات کا اگلا دور اسلام آباد میں ہوگا: ٹرمپ امریکا کا ایرانی تجارتی جہاز پر قبضہ، ایران کا ’بحری قزاقی‘ کا جواب دینے کا اعلان وفاقی سیکریٹریٹ اسلام آباد میں دفاتر کا کام گھر سے کرنے کا حکم، ملازمین کو شہر میں رہنے کی ہدایت ایل این جی کی فوری ملی تو بجلی مہنگی اور لوڈشیڈنگ میں اضافہ ہوگا، پاور ڈویژن کا انتباہ وزیراعظم شہباز شریف کا ایرانی صدر سے رابطہ، خطے کی صورتحال پر اہم گفتگو

لاہور ہائیکورٹ: اغوا کے مقدمے میں کم عمر ملزم کی درخواست ضمانت منظور

Web Desk

20 April 2026

لاہور ہائیکورٹ نے لڑکی کے اغوا میں معاونت کے الزام میں گرفتار فرسٹ ایئر کے طالب علم محمد نوید کی ضمانت منظور کرتے ہوئے ایک اہم تحریری فیصلہ جاری کیا ہے، جس میں ملزم کی کم عمری کو رعایت کی بنیاد بنایا گیا ہے۔ جسٹس طارق سلیم شیخ نے 16 صفحات پر مشتمل فیصلے میں واضح کیا کہ نادرا کے برتھ سرٹیفکیٹ کے مطابق ملزم کی عمر 16 سال سے کم ہے، اس لیے اس کا کیس جووینائل جسٹس سسٹم ایکٹ کے دائرہ اختیار میں آتا ہے۔ عدالت نے ملزم کو دو لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض رہا کرنے کا حکم دیتے ہوئے مشاہدہ کیا کہ کم سن ملزمان کا معاملہ بالغوں سے مختلف ہوتا ہے اور قانون کا مقصد سزا کے بجائے ان کی ذہنی بحالی اور انہیں جرائم کی دنیا سے دور رکھنا ہے۔

ملزم محمد نوید، جس کے خلاف ملتان پولیس نے 2025 میں 12 سالہ بچی کے اغوا میں معاونت کا مقدمہ درج کیا تھا، نے اپنے دفاع میں موقف اختیار کیا کہ وہ بے گناہ ہے اور اس نے صرف انسانی ہمدردی کے تحت مدد کی تھی۔ ملزم کے مطابق رات کی تاریکی میں مذکورہ لڑکی نے اس کے گھر کا دروازہ کھٹکھٹایا اور بتایا کہ اسے نامعلوم افراد وہاں چھوڑ گئے ہیں، جس پر ملزم نے اسے اپنی نانی کے پاس پناہ دی اور اگلی صبح لڑکی کے بتائے ہوئے رشتہ دار رانا الطاف کو اطلاع دی جو ایک خاتون کے ہمراہ آکر اسے لے گیا۔ عدالت نے ملزم کے بیان اور قانونی تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے طالب علم کی ضمانت منظور کر لی ہے۔