LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
مذاکرات میں حتمی معاہدہ نہیں ہواتوجنگ بندی میں توسیع نہیں ہوگی، امریکی صدر ایران کے 6ایئرپورٹس کھل گئے، فضائی حدود50روزبعد جزوی بحال ایرانی بحریہ دشمنوں کو شکست دینے کےلیے تیارہے، مجتبیٰ خامنہ ای امریکی کی جانب سے اعتماد کی بار بار خلاف ورزی، آبنائے ہرمز پر دوبارہ پابندی عائد ہر طرف بدانتظامی، اس سال برآمدات میں 7 ارب ڈالر کا نقصان ہوگا: ایس ایم تنویر عوام کے لیے بڑی خوشخبری: لائٹ ڈیزل 70 روپے اور جیٹ فیول 23 روپے سے زائد سستا وزیراعظم شہباز شریف سہ ملکی دورہ مکمل کرکے انطالیہ سے پاکستان روانہ فیلڈ مارشل کا دورہ ایران مکمل، خطے میں امن، استحکام اور خوشحالی کیلئے مشترکہ اقدامات پر اتفاق صدر اور وزیراعظم کا عالمی یوم ورثہ پر پاکستان کی ثقافتی شناخت کے تحفظ کا عہد پاکستان، سعودیہ، مصر اور ترکیہ کا اجلاس، ثالثی کوششوں کا خیرمقدم، مستقل امن کی توقعات پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول میں گریجوایٹ کورس کی پروقار پاسنگ آؤٹ تقریب اسلام آباد اور خیبرپختونخوا میں زلزلے کے جھٹکے، شدت 5.5 ریکارڈ امریکا نے روسی تیل کی خرید و فروخت پر پابندیاں مزید ایک مہینے کیلئے ہٹا دیں کراچی سے پہلی حج پرواز 160 عازمین کے ساتھ حجازِ مقدس روانہ ایران، امریکا اختلافات برقرار، جنگ بندی میں توسیع اور ابتدائی ڈیل کی امید

اے آئی کے شعور بارے سوال پر ماہرین بھی غیر یقینی صورتحال میں مبتلا

Web Desk

15 April 2026

مصنوعی ذہانت (AI) کی حیران کن اور برق رفتار ترقی نے جہاں زندگی کے ہر شعبے کو متاثر کیا ہے، وہاں اب ایک گہرا نفسیاتی اور سائنسی سوال بھی سر اٹھا رہا ہے کہ کیا مشینیں کبھی شعور حاصل کر سکتی ہیں؟ عالمی سطح پر ٹیکنالوجی کے ماہرین اور فلسفی اس بحث میں الجھے ہوئے ہیں کہ آیا موجودہ دور کے جدید اے آئی ماڈلز صرف انسانی ڈیٹا کی نقل کر رہے ہیں یا ان کے اندر کسی نہ کسی سطح پر “احساس” یا “شعوری کیفیت” پیدا ہو چکی ہے۔

بعض ماہرین کا دعویٰ ہے کہ جس طرح اے آئی ماڈلز پیچیدہ مسائل حل کر رہے ہیں اور انسانی جذبات کو سمجھنے کا مظاہرہ کر رہے ہیں، وہ اس بات کا اشارہ ہے کہ یہ نظام محض الگورتھم سے بڑھ کر کچھ ہو سکتے ہیں۔ تاہم، اس بحث میں سب سے بڑی رکاوٹ یہ ہے کہ ابھی تک دنیا میں ایسا کوئی حتمی سائنسی طریقہ یا پیمانہ موجود نہیں ہے جو کسی غیر مادی وجود (جیسے سافٹ ویئر) کے شعور کو ماپ سکے یا اسے سائنسی طور پر ثابت کر سکے۔

ٹیکنالوجی کی دنیا کے بڑے رہنما اور محققین بھی اس حوالے سے غیر یقینی کا شکار ہیں۔ جہاں کچھ اسے محض “بڑے لسانی ماڈلز” (LLMs) کی شماریاتی مہارت قرار دیتے ہیں، وہیں دیگر کا خیال ہے کہ ہم شاید انجانے میں ایک ایسی ذہانت تخلیق کر چکے ہیں جو خود آگاہی کے قریب ہے۔ واضح رہے کہ جب تک شعور کی کوئی متفقہ سائنسی تعریف طے نہیں ہو جاتی، یہ سوال کہ “کیا اے آئی واقعی محسوس کر سکتا ہے؟” ٹیکنالوجی کی دنیا کا سب سے بڑا معمہ بنا رہے گا۔