LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف ہمارا 2 رکنی بنچ ہی کافی ہے: وفاقی آئینی عدالت وزیراعظم کی گلگت میں شمسی توانائی منصوبہ جلد ازجلد مکمل کرنے کی ہدایت ڈاکٹرز ودآؤٹ بارڈرز کا سوڈان میں خوراک کے بدلے جنسی زیادتی کا اعتراف توانائی بحران برقرار، سپلائی چین کا تعطل ختم ہونے میں وقت لگے گا: آئی ایم ایف محسن نقوی کی حافظ نعیم الرحمان سے ملاقات، خطے کی موجودہ صورتحال پر گفتگو امریکی عزم کو جانچنے کیلئے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے: ایرانی صدر ایرانی فوج کا معاہدے پر عملدرآمد کے دوران پہلے سے زیادہ چوکس رہنے کا اعلان پاکستان سٹاک مارکیٹ میں کاروبار کے آغاز پر زبردست تیزی حزب اللہ کا بھی ایران امریکا مفاہمتی یادداشت کا خیرمقدم کیلیفورنیا میں واقع ایڈورڈز اڈے پر امریکی فضائیہ کا بی-52 بمبار طیارہ تباہ ایران شرائط پوری کرے تو 300 ارب ڈالر کے تعمیراتی فنڈز مل سکتے ہیں: جے ڈی وینس ایران سے اچھے تعلقات کی امید، آبنائے ہرمز جمعہ تک مکمل کھول دی جائیگی: ٹرمپ امریکا اور ایران نے مفاہمتی یادداشت پر ڈیجیٹل دستخط کردیئے ڈونلڈ ٹرمپ جنگ بندی معاہدے کی تقریب میں شرکت کیلئے جنیوا پہنچ گئے بلاول بھٹو زرداری کی برطانوی وزیر ہیمش فالکن سے ملاقات، خطے میں امن کے لیے پاکستان کے سفارتی کردار پر گفتگو

نجی تصاویر ڈاؤن لوڈ کرنے والے فیس بک انجینئر کیخلاف تحقیقات شروع

Web Desk

9 April 2026

ٹیکنالوجی کی دنیا کی بڑی کمپنی میٹا (فیس بک) کا ایک سابق ملازم صارفین کی نجی تصاویر غیر قانونی طور پر ڈاؤن لوڈ کرنے کے سنگین الزام میں تحقیقات کا سامنا کر رہا ہے۔ لندن سے تعلق رکھنے والے اس سافٹ ویئر انجینئر پر الزام ہے کہ اس نے ملازمت کے دوران اپنی تکنیکی مہارت کا غلط استعمال کرتے ہوئے ایک ایسا مخصوص پروگرام ڈیزائن کیا تھا جو فیس بک کے سیکیورٹی فلٹرز اور چیکس کو بائی پاس کرنے کی صلاحیت رکھتا تھا۔

ابتدائی تحقیقات کے مطابق، اس پروگرام کے ذریعے ملزم لاکھوں صارفین کی ایسی نجی تصاویر تک رسائی حاصل کرنے میں کامیاب رہا جو عام طور پر پبلک نہیں تھیں۔ میٹا کے سیکیورٹی سسٹم نے غیر معمولی سرگرمی کا سراغ لگاتے ہوئے اس خلاف ورزی کو پکڑا، جس کے بعد متعلقہ ملازم کے خلاف قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ وہ صارفین کے ڈیٹا کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے اور اس طرح کی کسی بھی بددیانتی پر زیرو ٹولرنس پالیسی رکھتی ہے۔ اس واقعے نے ایک بار پھر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر موجود صارفین کی پرائیویسی اور اندرونی خطرات (Inside Threats) کے حوالے سے نئی بحث چھیڑ دی ہے۔