LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پاک بحریہ کا فضا سے سطح سمندر پر مار کرنے والے تیمور کروز میزائل کا کامیاب تجربہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ منصوبوں میں تیزی کیلئے نیا نظام منظور چینی سفیر کی اسحاق ڈار سے ملاقات: امریکہ ایران مذاکرات میں پاکستان کے کردار کی تعریف، مکمل اعتماد کا اظہار آئی ایم ایف کا شکنجہ مزید سخت: 11 نئی شرائط عائد، پاکستان کی 2027 تک اصلاحات مکمل کرنے کی یقین دہانی حج فلائٹ آپریشن میں تیزی، مزید 3510 عازمین آج سعودی عرب روانہ ہوں گے امریکا کا تجارتی جہاز پر قبضہ،ایران نے اقوام متحدہ میں شکایت درج کروا دی عالمی سفارت کاری کا مرکز اسلام آباد: ایران امریکہ مذاکرات کے لیے ریڈ زون سیل سعودی عرب کی جانب سے پاکستان کو مزید 1 ارب ڈالر کے فنڈز موصول پاکستان سٹاک مارکیٹ میں کاروبار کے آغاز پر تیزی کا رجحان خیبرپختونخوا کابینہ کا آج ہونے والا اجلاس ملتوی ٹرمپ مذاکرات کی میز کو ہتھیار ڈالنے میں تبدیل کرنا چاہتے ہیں: باقر قالیباف ایران سے ہونے والا معاہدہ جلد اور اوباما دور کے معاہدے سے بہتر ہوگا: امریکی صدر اسرائیل اور لبنان کے درمیان امن مذاکرات جمعرات کو واشنگٹن میں ہوں گے ریڈ زون کے اداروں میں 21 اپریل کو ورک فرام ہوم کا فیصلہ : نوٹیفکیشن جاری ایرانی وفد کا امریکاسے مذاکرات کیلیے اسلام آبادآنے کاامکان، برطانوی نیوزایجنسی

نجی تصاویر ڈاؤن لوڈ کرنے والے فیس بک انجینئر کیخلاف تحقیقات شروع

Web Desk

9 April 2026

ٹیکنالوجی کی دنیا کی بڑی کمپنی میٹا (فیس بک) کا ایک سابق ملازم صارفین کی نجی تصاویر غیر قانونی طور پر ڈاؤن لوڈ کرنے کے سنگین الزام میں تحقیقات کا سامنا کر رہا ہے۔ لندن سے تعلق رکھنے والے اس سافٹ ویئر انجینئر پر الزام ہے کہ اس نے ملازمت کے دوران اپنی تکنیکی مہارت کا غلط استعمال کرتے ہوئے ایک ایسا مخصوص پروگرام ڈیزائن کیا تھا جو فیس بک کے سیکیورٹی فلٹرز اور چیکس کو بائی پاس کرنے کی صلاحیت رکھتا تھا۔

ابتدائی تحقیقات کے مطابق، اس پروگرام کے ذریعے ملزم لاکھوں صارفین کی ایسی نجی تصاویر تک رسائی حاصل کرنے میں کامیاب رہا جو عام طور پر پبلک نہیں تھیں۔ میٹا کے سیکیورٹی سسٹم نے غیر معمولی سرگرمی کا سراغ لگاتے ہوئے اس خلاف ورزی کو پکڑا، جس کے بعد متعلقہ ملازم کے خلاف قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ وہ صارفین کے ڈیٹا کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے اور اس طرح کی کسی بھی بددیانتی پر زیرو ٹولرنس پالیسی رکھتی ہے۔ اس واقعے نے ایک بار پھر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر موجود صارفین کی پرائیویسی اور اندرونی خطرات (Inside Threats) کے حوالے سے نئی بحث چھیڑ دی ہے۔