LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
پاکستان اور ایتھوپیا کا تجارت، سرمایہ کاری اور اقتصادی تعاون بڑھانے پر اتفاق سعودی عرب پر حوثی باغیوں کے بیلسٹک میزائل حملوں کی شدید مذمت: دفترِ خارجہ فیلڈ مارشل کی تجویز پر ایران چار ملکی اجلاس کی میزبانی کر رہا ہے: اسماعیل بقائی سابق آرمی چیف جنرل (ر) عبدالوحید کاکڑ انتقال کر گئے الیکشن کمیشن کا انتخابی عمل میں اے آئی کا باقاعدہ استعمال کرنے کا فیصلہ پاکستان سٹاک ایکسچینج میں کاروبار کا منفی زون میں آغاز خیبرپختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ کے بعد پی ٹی آئی کا وفاق سے پہلا رابطہ مکہ دفاعی اتحاد کے اعلیٰ حکام آج ایرانی قیادت سے ملاقات کریں گے شیخوپورہ: موٹروے پولیس کے 436 افسران کی 15ویں بنیادی پاسنگ آؤٹ پریڈ تین ملکی ٹورنامنٹ: انگلینڈ کیخلاف کامیابی پر محسن نقوی کی قومی ہیروز کو مبارکباد ایران نے امریکا اور اسرائیل کے ساتھ دوبارہ فوجی تصادم کا خدشہ ظاہر کر دیا ٹرمپ کی اسرائیلی عوام سے جنگی مجرم نیتن یاہو کو ووٹ دینے کی اپیل پسند کی شادی کیلئے لڑکی 100 فٹ بلند ٹاور پر چڑھ گئی خلا میں بڑھتے کچرے سے نمٹنے کے لئے منصوبے پر کام شروع سعودی عرب اور یونان کا محفوظ بحری راستوں، توانائی کے شعبے میں تعاون بڑھانے پر اتفاق

شہباز شریف کی بریت کیخلاف درخواست مسترد کرنے کا تفصیلی فیصلہ جاری

Web Desk

8 April 2026

لاہور ہائیکورٹ نے وزیراعظم شہباز شریف اور دیگر کی منی لانڈرنگ کیس میں بریت کے خلاف دائر درخواست مسترد کرنے کا تفصیلی تحریری فیصلہ جاری کر دیا ہے۔ چیف جسٹس مس عالیہ نیلم نے درخواست گزار وشال شاکر کی جانب سے دائر اپیل کو خارج کرتے ہوئے قرار دیا کہ ایک نجی شخص کو اس کیس میں بریت چیلنج کرنے کا قانونی حق حاصل نہیں ہے۔ فیصلے کے مطابق، قانون کے تحت بریت کو چیلنج کرنے کا اختیار صرف وفاقی حکومت یا پبلک پراسیکیوٹر کے پاس ہوتا ہے، جبکہ درخواست گزار اس کیس میں “متاثرہ فریق” کی تعریف پر پورا نہیں اترتا۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں نشاندہی کی کہ بریت کے فیصلے کو تین سال چار ماہ کی طویل تاخیر کے بعد چیلنج کیا گیا، جس کا کوئی جواز پیش نہیں کیا گیا۔ ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ نے شہباز شریف کے خلاف ٹھوس شواہد کی عدم موجودگی پر بریت کی درخواست منظور کی تھی، اور قانون کا مسلمہ اصول ہے کہ شک کا فائدہ ہمیشہ ملزم کو دیا جاتا ہے۔ فیصلے میں مزید واضح کیا گیا کہ ٹرائل کورٹ نے دستیاب ریکارڈ کا مکمل جائزہ لینے کے بعد قانونی اختیار استعمال کیا، اور چونکہ درخواست گزار کے وکیل بریت کے فیصلے میں کسی غیر قانونی پہلو کی نشاندہی کرنے میں ناکام رہے، اس لیے ٹرائل کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا جاتا ہے۔ عدالت نے رجسٹرار آفس کے اعتراضات کو درست قرار دیتے ہوئے درخواست کو مکمل طور پر خارج کر دیا۔