LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
عالمی منڈی میں قیمتیں بڑھنے سے ملک میں پیٹرول اور ڈیزل مہنگا ہونے کا خدشہ جے ڈی وینس نے کشنر اور وٹکوف پر مالی فائدہ اٹھانے کے الزامات مسترد کر دیے ویتنامی لڑکی نے ملک بھر میں فلسطین سے اظہارِ یکجہتی کی نئی لہر پیدا کر دی افغان سرحدی راستوں سے ہمسایہ ممالک میں منشیات سمگلنگ، تاجک ایجنسی کی رپورٹ جاری صدر ٹرمپ کا چین پر 2020 کے امریکی صدارتی انتخابات کے ڈیٹا کی سب سے بڑی چوری کا الزام ایران اب بھی چاہتا ہے ڈیل ہو جائے: وائٹ ہاؤس امریکی نائب صدر نے اسرائیل پر بڑا الزام لگا دیا یورپی کمیشن کی جی ایس پی پلس رپورٹ میں پاکستان اسکیم کا سب سے زیادہ مستفید ہونے والا ملک قرار امریکی محکمہ خارجہ کی دوہری شہریت رکھنے والے شہریوں کو سفری قوانین پر سختی سے عمل درآمد کی ہدایت گلگت بلتستان کو عبوری صوبائی حیثیت دینے سے متعلق مشترکہ قرارداد منظور امریکی حملوں کا جواب، ایران کے بحرین میں امریکی تنصیبات پر حملے امریکی جارحیت کے جواب میں ایران کے کویت میں ڈرون حملے چینی حکومت چاہتی ہے کہ امریکی صدر الیکشن ہار جائیں، ٹرمپ کا الزام امریکا کا برازیل پر بعض درآمدات پر 25 فیصد ٹیرف عائد کرنے کا اعلان روس کا یوکرین میں تعینات کسی بھی بین الاقوامی فوج کو نشانہ بنانے کا اعلان

امریکی صدر اور ایران کے درمیان جنگ بندی، یورپی یونین کا خیرمقدم

Web Desk

8 April 2026

یورپی یونین نے امریکہ اور ایران کے درمیان دو ہفتوں کی جنگ بندی کے معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے کی جانب ایک “خوش آئند پیش رفت” قرار دیا ہے۔ یورپی یونین کی اعلیٰ عہدیدار کایا کالاس (Kaya Kallas) نے اپنے ایک خصوصی بیان میں پاکستان کے وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار کی سفارتی کوششوں کی بھرپور تعریف کی ہے۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے اس معاہدے کو ممکن بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا اور ان کی مسلسل محنت کے نتیجے میں ہی فریقین مذاکرات کی اس سطح پر پہنچنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ کایا کالاس نے زور دیا کہ عالمی امن کے لیے ثالثی کا دروازہ ہر وقت کھلا رہنا چاہیے تاکہ مستقبل میں کسی بھی بڑے بحران سے بچا جا سکے۔

یورپی یونین کی عہدیدار نے مزید کہا کہ اگرچہ جنگ بندی ایک بڑا قدم ہے، لیکن جنگ کے بنیادی اسباب تاحال موجود ہیں جن کے حل کے لیے سنجیدہ کوششوں کی ضرورت ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ عالمی تجارت اور استحکام کے پیشِ نظر ‘آبنائے ہرمز’ کو بحری آمد و رفت کے لیے فوری طور پر کھولا جائے۔ کایا کالاس کا کہنا تھا کہ یورپی یونین اس حوالے سے تمام علاقائی شراکت داروں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے اور امن کے لیے کی جانے والی تمام عالمی کوششوں کی بھرپور حمایت جاری رکھے گی۔ سفارتی ماہرین یورپی یونین کی جانب سے پاکستانی وزیرِ خارجہ کے کردار کی ستائش کو پاکستان کی خارجہ پالیسی کی ایک بڑی کامیابی قرار دے رہے ہیں۔