LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کی فلسطینیوں کو جبری بے دخل کرنے کی مذمت پاکستان خطے میں پائیدار امن و استحکام کا خواہاں ہے، یوسف رضا گیلانی اسحاق ڈار کا ناروے کے ہم منصب ایسپن بارتھ ایدے سے ٹیلی فونک رابطہ پاک بحریہ کی دفاعی صلاحیتوں کا سفر، آپریشن دوارکا سے معرکۂ حق تک پاسدارانِ انقلاب کا آبنائے ہرمز میں امریکی آبدوز کو نشانہ بنانے کا دعویٰ مزار قائد پر گارڈ تبدیلی کی پروقار تقریب، پاک فضائیہ نے فرائض سنبھال لیے خلیج میں امریکی فوجی اڈے برقرار رکھنا قابلِ عمل نہیں رہا: جنرل ڈیوڈ پیٹریاس روس اور یوکرین کے درمیان فضائی حملوں میں مختصر وقفے پر اتفاق پاسداران انقلاب کا امریکی بحری جہازوں اور 3 آئل ٹینکرز کو نشانہ بنانے کا دعویٰ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کو شہیدوں کے شہر لاڑکانہ آمد پر خوش آمدید، بلاول بھٹو 6 ستمبر کا دن یاد دلاتا ہے کہ قوم متحد ہو تو کوئی طاقت شکست نہیں دے سکتی: صدر زرداری ایران کا برکس ممالک سے ایرانی خودمختاری کی خلاف ورزی کی مذمت کا مطالبہ شادی کی تقریب پر حملے میں استعمال ہتھیار امریکی ساختہ تھے، ایرانی عدلیہ ٹرمپ کے نمائندہ وفد کی روسی صدر سے ملاقات، 3 گھنٹے سے زائد مذاکرات جاری رہے ایران کا خودمختاری اور قومی مفادات کے دفاع کیلئے فیصلہ کن اقدامات کا اعلان

صدر ٹرمپ شہباز شریف کی اپیل سے آگاہ ہیں ، جلد ردعمل متوقع: وائٹ ہاؤس

Web Desk

7 April 2026

وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف کی اپیل سے مکمل طور پر باخبر ہیں اور اس پر جلد ردعمل دیا جائے گا۔

ترجمان کے مطابق وزیراعظم کی جانب سے کی گئی درخواست کو سنجیدگی سے دیکھا جا رہا ہے، جبکہ آئندہ چند روز میں اس حوالے سے واضح مؤقف سامنے آنے کا امکان ہے۔

دوسری جانب سینئر ایرانی عہدیداروں نے بھی تصدیق کی ہے کہ ایران وزیراعظم شہباز شریف کی درخواست کا جائزہ لے رہا ہے اور اس پر مشاورت جاری ہے۔

یاد رہے کہ وزیراعظم شہباز شریف نے امریکی صدر سے ایران سے متعلق ڈیڈ لائن میں دو ہفتوں کی توسیع کی اپیل کی تھی۔ اپنے سوشل میڈیا پیغام میں انہوں نے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے پُرامن حل کے لیے سفارتی کوششیں تیزی سے جاری ہیں اور جلد مثبت نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔

وزیراعظم نے امریکی صدر سے درخواست کی تھی کہ سفارتکاری کو موقع دینے کے لیے ڈیڈ لائن میں توسیع کی جائے، جبکہ ایران سے بھی اپیل کی گئی کہ وہ جذبہ خیرسگالی کے تحت آبنائے ہرمز کو دو ہفتوں کے لیے کھلا رکھے۔