LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سالانہ انتخابات کیلئے پولنگ کا آغاز ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کیخلاف کیس کا فیصلہ آج سنایا جائے گا سکھیکی: مسافر بس سیم نالے میں گر گئی، 5 افراد جاں بحق، 40 زخمی برطانیہ نے 3 جوہری آبدوزوں کو ایک ساتھ سمندر میں اتار دیا 24 گھنٹوں میں یمنی فوج کی 749 ٹارگٹڈ کارروائیاں، 239 حوثی ہلاک یا زخمی اسرائیلی حملے، غزہ میں کم از کم 5 فلسطینی شہید اور متعدد زخمی ہو گئے نیتن یاہو کے حریف گادی آئزن کوٹ کا اسرائیل میں تبدیلی لانے کے عزم کا اعادہ اسرائیل میں سیاسی ڈیڈ لاک کا خدشہ، نیتن یاہو کا اقتدار خطرے میں پڑ گیا ایران سفارت کاری کے ذریعے حل کیلئے ثالثوں سے قریبی رابطے میں ہے، عباس عراقچی بانی پی ٹی آئی کی بہن نورین نیازی جیل سے پنجاب کارڈیالوجی منتقل وزیراعظم نے مسلم لیگ ن خیبر پختونخوا کا اہم اجلاس آج طلب کر لیا پی ٹی آئی پارلیمانی پارٹی حکومت سے مذاکرات کی حامی، طریقہ کار پر رہنما تقسیم اردوان کا ٹرمپ سے رابطہ، ترکیہ کی امن بحالی کی کوششوں سے آگاہ کیا امریکا کی امن مذاکرات بحال کرنے کی کوشش، جے ڈی وینس کا ایرانی عہدیدار کو خط تھرپارکر: ایمبولینس میں سلنڈر دھماکا، 8 افراد جاں بحق، 4 شدید زخمی

معاشی محاذ پر بڑی سفارت کاری: وزیر خزانہ محمد اورنگزیب رواں ماہ واشنگٹن روانہ ہوں گے

Web Desk

3 April 2026

اسلام آباد/واشنگٹن: عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) اور ورلڈ بینک کے سالانہ ‘بہار اجلاسوں’ کا باقاعدہ آغاز رواں ماہ 13 اپریل سے واشنگٹن ڈی سی میں ہو رہا ہے۔ وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب ان اہم ترین اجلاسوں میں پاکستان کی نمائندگی کے لیے آئندہ ہفتے امریکہ روانہ ہوں گے۔ ذرائع کے مطابق، وزیر خزانہ 11 اپریل کو واشنگٹن پہنچیں گے اور 17 اپریل تک وہاں قیام کریں گے۔

اس دورے کے دوران وزیر خزانہ آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر کرسٹالینا جارجیوا اور ورلڈ بینک کے اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں کریں گے۔ ان ملاقاتوں کا بنیادی ایجنڈا مشرقِ وسطیٰ (ایران) میں جاری کشیدگی کے باعث پاکستان کی معیشت پر پڑنے والے اثرات، پیٹرولیم قیمتوں کا بحران اور طویل مدتی معاشی اصلاحات ہوں گی۔ مزید برآں، محمد اورنگزیب بین الاقوامی سرمایہ کاروں، ریٹنگ ایجنسیوں کے نمائندوں اور مختلف ممالک کے وزرائے خزانہ سے بھی سائیڈ لائن ملاقاتیں کریں گے تاکہ پاکستان میں براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (FDI) کو فروغ دیا جا سکے۔