LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکی اپنی زندگیاں اور ٹیکس پرائی جنگ کیلئے استعمال نہ ہونے دیں، اسماعیل بقائی چین کا مشترکہ سلامتی کے فروغ پر زور ایران کے دیرینہ اصول کی عکاسی ہے، قالیباف دنیا کا نقشہ تبدیل ہوگا، اقوام متحدہ میں نئے عالمی نقشے کی قرارداد منظور کراچی: ڈیلیوری کے دوران گلے پر تیز دھار آلہ پھرنے سے نومولود جاں بحق یوکرین میں پرامن تصفیے کی ٹھوس شرائط ابھی موجود نہیں، روسی صدارتی ترجمان امریکا اور اسرائیل جنگ کے ذریعے ایران کو تقسیم کرنیکی کوشش کر رہے: مسعود پزشکیان ٹرمپ انتظامیہ نے مشرق وسطیٰ کیلئے نئی حکمت عملی پر کام شروع کر دیا، ایگزیوس میلونی دوسری عالمی جنگ کے بعد طویل ترین حکومت کرنے والی وزیراعظم بن گئیں امریکا کیلئے مناسب لائحہ عمل یہ ہے کہ وہ خطے سے انخلا کرے، ترجمان ایرانی فوج ایرانی وزیر خارجہ کی اردن کے ہم منصب پر شدید تنقید ایرانی حکام کا جنگ کے دوران امریکا کے 370 طیاروں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ امریکی محکمہ خارجہ نے سعودی عرب کو جدید ہتھیار بیچنے کی منظوری دے دی احسن اقبال نے ملک میں 15 نئے صوبوں کی تجویز دیدی لاہور سمیت بڑے شہروں سے میئر کا عہدہ ختم کرنے سے بلدیاتی نظام کمزور ہوگا: سعد رفیق امریکی صدر ٹرمپ کی ایران کے پِک ایکس ماؤنٹین پر حملے کی دھمکی

میشا شفیع کا عدالتی فیصلہ ہائی کورٹ میں چیلنج کرنے کا اعلان

Web Desk

1 April 2026

لاہور: میشا شفیع کے وکیل ثاقب جیلانی ایڈووکیٹ نے ایڈیشنل سیشن جج آصف حیات کی جانب سے سنائے گئے فیصلے پر اپنے ردِعمل میں کہا ہے کہ وہ اس فیصلے کے خلاف لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کریں گے۔ واضح رہے کہ سیشن کورٹ نے علی ظفر کی جانب سے دائر کیے گئے ہتکِ عزت کے دعوے پر فیصلہ سناتے ہوئے میشا شفیع کو 50 لاکھ روپے ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔

ثاقب جیلانی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ عدالتی فیصلے کی تصدیق شدہ کاپی حاصل کرنے کے بعد اس کا تفصیلی جائزہ لیں گے اور پھر اسے اعلیٰ عدالت میں چیلنج کیا جائے گا۔ ان کا موقف ہے کہ سیشن کورٹ کا یہ فیصلہ ان کی توقعات کے برعکس ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ ان کی موکلہ کے خلاف لگائے گئے الزامات کو قانونی طور پر درست ثابت نہیں کیا جا سکا۔

دوسری جانب، سیشن کورٹ نے اپنے مختصر فیصلے میں قرار دیا ہے کہ میشا شفیع کی جانب سے لگائے گئے جنسی ہراسی کے الزامات سے علی ظفر کی ساکھ اور عزت کو نقصان پہنچا، جس کی وجہ سے وہ ہرجانے کے حقدار ہیں۔ یاد رہے کہ یہ مقدمہ 2018 سے زیرِ التوا تھا اور تقریباً 8 سال کے طویل ٹرائل اور 284 سماعتوں کے بعد اس کا پہلا بڑا فیصلہ سامنے آیا ہے۔