LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکی اپنی زندگیاں اور ٹیکس پرائی جنگ کیلئے استعمال نہ ہونے دیں، اسماعیل بقائی چین کا مشترکہ سلامتی کے فروغ پر زور ایران کے دیرینہ اصول کی عکاسی ہے، قالیباف دنیا کا نقشہ تبدیل ہوگا، اقوام متحدہ میں نئے عالمی نقشے کی قرارداد منظور کراچی: ڈیلیوری کے دوران گلے پر تیز دھار آلہ پھرنے سے نومولود جاں بحق یوکرین میں پرامن تصفیے کی ٹھوس شرائط ابھی موجود نہیں، روسی صدارتی ترجمان امریکا اور اسرائیل جنگ کے ذریعے ایران کو تقسیم کرنیکی کوشش کر رہے: مسعود پزشکیان ٹرمپ انتظامیہ نے مشرق وسطیٰ کیلئے نئی حکمت عملی پر کام شروع کر دیا، ایگزیوس میلونی دوسری عالمی جنگ کے بعد طویل ترین حکومت کرنے والی وزیراعظم بن گئیں امریکا کیلئے مناسب لائحہ عمل یہ ہے کہ وہ خطے سے انخلا کرے، ترجمان ایرانی فوج ایرانی وزیر خارجہ کی اردن کے ہم منصب پر شدید تنقید ایرانی حکام کا جنگ کے دوران امریکا کے 370 طیاروں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ امریکی محکمہ خارجہ نے سعودی عرب کو جدید ہتھیار بیچنے کی منظوری دے دی احسن اقبال نے ملک میں 15 نئے صوبوں کی تجویز دیدی لاہور سمیت بڑے شہروں سے میئر کا عہدہ ختم کرنے سے بلدیاتی نظام کمزور ہوگا: سعد رفیق امریکی صدر ٹرمپ کی ایران کے پِک ایکس ماؤنٹین پر حملے کی دھمکی

ہتک عزت کیس: عدالت نے میشا شفیع کو 50 لاکھ جرمانہ کر دیا

Web Desk

31 March 2026

لاہور: لاہور کی ایڈیشنل سیشن عدالت نے معروف گلوکار علی ظفر کی جانب سے دائر 100 کروڑ روپے کے ہتکِ عزت کے دعوے پر آٹھ سال بعد تاریخی فیصلہ سنا دیا ہے۔ ایڈیشنل سیشن جج آصف حیات نے مختصر فیصلہ سناتے ہوئے میشا شفیع کی جانب سے علی ظفر پر لگائے گئے ہراسانی کے الزامات کو مسترد کر دیا اور انہیں 50 لاکھ روپے جرمانہ ادا کرنے کا حکم دیا۔

عدالتی ریکارڈ کے مطابق، اس کیس کی کارروائی 8 سال تک جاری رہی، جس کے دوران 9 ججز تبدیل ہوئے اور مجموعی طور پر 283 پیشیاں بھگتی گئیں۔ کیس کے دوران دونوں جانب سے 20 گواہوں کے بیانات قلمبند کیے گئے۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں میشا شفیع کے دعوے کو ‘ڈگری’ کرتے ہوئے قرار دیا کہ الزامات ثابت نہ ہونے کی صورت میں مدعی کی ساکھ کو پہنچنے والے نقصان کا ازالہ ضروری ہے۔

واضح رہے کہ یہ تنازع 2018 میں اس وقت شروع ہوا تھا جب میشا شفیع نے سوشل میڈیا پر علی ظفر پر جنسی ہراسانی کے الزامات عائد کیے تھے، جس کے جواب میں علی ظفر نے اپنی ساکھ کو نقصان پہنچانے پر ہتکِ عزت کا دعویٰ دائر کیا تھا۔ قانونی ماہرین اس فیصلے کو پاکستان میں ہتکِ عزت کے قوانین اور سوشل میڈیا پر لگائے جانے والے الزامات کے حوالے سے ایک اہم نظیر قرار دے رہے ہیں۔