LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
کوہاٹ پولیس لائنز مسجد حملے میں شہید ہونے والوں کی نماز جنازہ ادا تحریک تحفظ آئین کا اجلاس، 27 ستمبر کا احتجاج ملک بھر میں پھیلانے کا فیصلہ وزیراعظم خصوصی ریلیف سکیم کا پورے پاکستان میں کامیاب اجرا پٹرولیم لیوی ختم نہ ہوئی تو 20 ستمبر سے سپر لانگ مارچ ہوگا: حافظ نعیم الرحمان حکومت تحریک انصاف کو سپیس دینے کیلئے تیار نہیں: فواد چودھری لندن سے بنگلادیش جانیوالی پرواز میں مسافروں کے درمیان جھگڑے کی ویڈیو وائرل امریکا میں تربیتی مشق کے دوران ایف 16 طیارہ گر کر تباہ اسلام آباد میں احتجاجی مظاہروں کے پیش نظر پولیس اہلکاروں کی چھٹیوں پر پابندی اسلام آباد میں احتجاج سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں: محسن نقوی پٹرول کی قیمت میں اضافہ عوام کی مشکلات بڑھا رہا ہے، گورنر خیبر پختونخوا کوہاٹ پولیس لائنز میں دھماکہ،15افراد شہید،25 افراد زخمی اسلام آباد ہائیکورٹ نے تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا؛ بنیادی حقوق پر آئینی توازن قائم رکھنے کا حکم ایران سے ڈیل ہو نہ ہو، جنگ میں جیت امریکا کی ہوگی: ٹرمپ چھوٹے کاروباروں کے لیے شریعہ کمپلائنٹ ڈیجیٹل فنانسنگ کی منظوری پاکستان کے عوام کی بدحالی کسی بھی سیاسی جماعت کا مسئلہ نہیں: حافظ نعیم الرحمان

پاکستان 2025میں اسموگ سےآلودہ ممالک میں سرفہرست رہا، رپورٹ

Web Desk

24 March 2026

فضائی آلودگی سے متعلق نئی عالمی رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ پاکستان 2025ء میں دنیا میں اسموگ سے آلودہ رہنےوالے ممالک میں سرفہرست رہا۔

فضائی معیار پر نظر رکھنے والی سوئٹزرلینڈ کی کمپنی آئی کیو ایئر کی سالانہ رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال صرف 13 ممالک ایسے تھے جہاں پی ایم 2.5 کی اوسط سطح عالمی ادارۂ صحت کے معیار، یعنی 5 مائیکروگرام فی مکعب میٹر سے کم رہی۔

پاکستان میں خطرناک باریک ذرات، یعنی پی ایم 2.5 کی مقدار عالمی ادارۂ صحت کی مقررہ حد سے 13 گنا تک زیادہ ریکارڈ کی گئی۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 143 میں سے 130 ممالک اور خطے عالمی معیار پر پورا اترنے میں ناکام رہے۔ آلودہ ترین ممالک کی فہرست میں بنگلادیش دوسرے اور تاجکستان تیسرے نمبر پر رہے۔

 

عالمی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دنیا کے 25 سب سے زیادہ آلودہ شہر بھارت، پاکستان اور چین میں ہیں۔ دوسری جانب آسٹریلیا، آئس لینڈ، ایسٹونیا اور پاناما صاف ترین ممالک قرار پائے۔ جبکہ لاؤس، کمبوڈیا اور انڈونیشیا میں موسمی اثرات، خاص طور پر زیادہ بارشوں اور ہواؤں کے باعث آلودگی میں نمایاں کمی دیکھی گئی۔