LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ٹرمپ کا ایران کے خلاف وسیع فوجی آپریشن پر غور، درجنوں طیارے اسرائیل روانہ پٹرول، ڈیزل اور مٹی کے تیل پر لیوی برقرار، نوٹیفکیشن جاری ٹرانسپورٹ کرایوں میں 15 فی صد اضافے کا اعلان امریکی فضا آلودہ کرنے پر کینیڈا کو بھاری ٹیرف ادا کرنا ہوگا، صدر ٹرمپ امریکی حملوں میں صرف ایرانی عسکری تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا: وائٹ ہاؤس واٹس ایپ اور بینک اکاؤنٹس ہیکنگ میں اضافہ، این سی سی آئی اے کا الرٹ اسرائیل کا غزہ میں جنازے پر حملہ، کم از کم 14 فلسطینی شہید ایران کے کویت، بحرین اور اردن میں امریکی فوجی تنصیبات پر حملے، کئی اہلکار زخمی بحرین میں فضائی حملے کا الرٹ جاری، سائرن فعال کر دیے گئے ایران اور عرب ممالک کے درمیان بات چیت کیلئے روس متحرک ایران کے جنگ بندی قبول کرنے سے امریکا کو بحری ناکہ بندی مضبوط بنانے کا موقع ملا، محسن رضائی یمنی حکومت کی کویت، بحرین، قطر اور اردن پر ایرانی حملوں کی شدید مذمت پاسداران انقلاب کی بحریہ کا بوشہر کے اوپر امریکی ڈرون مار گرانے کا دعویٰ آپریشن ’’الفارس الشہم 3‘‘: اماراتی طیارہ مزید 100 ٹن امدادی سامان لے کر غزہ پہنچ گیا مصنوعی ذہانت جدت کیساتھ گورننس کے نئے چیلنجز بھی لارہی ہے: چینی صدر

سعودی عرب اور قطر کا پاکستان کی جانب سے عید پر آپریشن روکنے کا خیرمقدم

Web Desk

19 March 2026

ریاض/دوحہ: سعودی عرب اور قطر نے عید الفطر کے مقدس موقع پر پاکستان کی جانب سے افغانستان میں دہشت گردوں کے خلاف جاری آپریشن ‘غضب للحق’ کو عارضی طور پر روکنے کے فیصلے کا بھرپور خیر مقدم کیا ہے۔

سعودی وزارتِ خارجہ نے اپنے بیان میں عارضی جنگ بندی کو امن کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب، قطر اور ترکیہ کی اپیلوں پر جنگ بندی کا فیصلہ خوش آئند ہے۔ سعودی حکام کا مزید کہنا تھا کہ مذاکرات ہی کسی بھی تنازع کے حل کا بہترین اور پائیدار راستہ ہیں۔

قطر کی جانب سے بھی اس اقدام کو سراہا گیا ہے۔ قطری وزارتِ خارجہ کے مطابق، یہ فیصلہ دونوں ممالک کے درمیان ماحول کو بہتر بنانے کی جانب ایک مثبت قدم ہے، جو مستقبل میں مستقل امن معاہدے کی راہ ہموار کر سکتا ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز وفاقی وزیر اطلاعات عطاء تارڑ نے اعلان کیا تھا کہ عید الفطر کے احترام میں آپریشن ‘غضب للحق’ کو عارضی طور پر روک دیا گیا ہے، جو 23 اور 24 مارچ کی درمیانی رات تک معطل رہے گا۔ تاہم، حکومت نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ اگر افغانستان کی جانب سے کسی قسم کی دراندازی کی کوشش کی گئی تو آپریشن مزید شدت کے ساتھ دوبارہ شروع کر دیا جائے گا۔