LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
اربوں ڈالر کا سرپلس خسارے میں تبدیل، اپریل میں کرنٹ اکاؤنٹ 32 کروڑ ڈالر منفی ہو گیا، اسٹیٹ بینک گندم اور گیس کی ترسیل پر زیادتی ہو رہی ہے: گورنر، وزیراعلیٰ کے پی پاکستان کی ثالثی میں امریکا کے ساتھ مذاکرات کا عمل آگے بڑھ رہا ہے: ایران وزیرِ اعظم سے نیول چیف کی ملاقات، پاک بحریہ کے پیشہ وارانہ امور پر تبادلہ خیال حافظ نعیم الرحمان کا پٹرولیم لیوی کیخلاف وفاقی آئینی عدالت سے رجوع سی این جی بندش: وزیراعلیٰ کے پی کا وزیراعظم کو فوری گیس بحالی کیلئے خط اماراتی نیوکلیئر پلانٹ پر حملہ خطرناک، جوہری تنصیبات کو نشانہ نہ بنایا جائے: دفتر خارجہ اسحاق ڈار کا قطر کے وزیرِ مملکت خارجہ سے رابطہ، خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال ایران-امریکا کشیدگی اور آئی ایم ایف کی سخت شرائط کا اثر؛اسٹاک ایکسچینج کریش امریکا نے ایران کے لیے امن عمل کی 5 سخت شرائط مقرر کر دیں حکومت کے پہلے 25 ماہ میں وفاقی قرضوں میں 15 ہزار 714 ارب روپے کا ہوشربا اضافہ جنوبی وزیرستان لوئر میں وانا رستم بازار میں بم دھماکہ وفاقی شرعی عدالت کا خودکشی قانون سے متعلق بڑا فیصلہ جاری چین میں زلزلہ، کئی عمارتیں منہدم، ہزاروں افراد محفوظ مقام پر منتقل ایشین جونیئر سکواش چیمپئن شپ کیلئے پاکستانی ٹیم کا اعلان کر دیا گیا

سپریم کورٹ نے مبینہ طور پر بیٹے کو زہر دے کر قتل کرنے والے والد کو بری کر دیا

Web Desk

9 March 2026

سپریم کورٹ نے سکھر میں مبینہ طور پر اپنے کمسن بیٹے کو زہر دے کر قتل کرنے کے الزام میں سزائے موت پانے والے ملزم سلطان عرف ببو جتوئی کو بری کرتے ہوئے ہائیکورٹ اور ٹرائل کورٹ کے فیصلے کالعدم قرار دے دیے۔ عدالتِ عظمیٰ نے ملزم کو فوری رہا کرنے کا حکم جاری کیا ہے۔

جسٹس اشتیاق ابراہیم کے تحریری فیصلے میں کہا گیا کہ ایک باپ کا اپنے ہی بیٹے کو زہر دینا انسانی فطرت کے خلاف ہے اور استغاثہ یہ ثابت کرنے میں ناکام رہا کہ ملزم نے قتل کا ارادہ کیا۔ فیصلے میں مزید کہا گیا کہ گھر میں کیڑے مار ادویات موجود تھیں اور ممکن ہے کہ بچہ خود بھی ان کا استعمال کر بیٹھا ہو۔ میڈیکل رپورٹ کے مطابق چار سالہ بچہ زہریلی اور پینے والی چیز میں فرق نہیں کر سکتا۔

عدالت نے گواہوں کے بیانات میں تضادات اور غیر فطری نکات کی نشاندہی کی، چشم دید گواہوں نے موقع پر کوئی ٹھوس وجہ بیان نہیں کی اور انہیں اتفاقیہ گواہ قرار دیا گیا۔ بچے کے لباس کے رنگ کے حوالے سے ڈاکٹر اور گواہوں کے بیانات میں بھی تضاد پایا گیا۔ غیر واضح تاخیر سے درج ایف آئی آر نے بھی کیس کی صداقت پر سوال اٹھائے۔ عدالت نے کہا کہ شک کا ایک پہلو بھی ملزم کو بریت کا حق دیتا ہے۔

واضح رہے کہ اگست 2019 میں چار سالہ مدثر عرف میٹھو کی موت واقع ہوئی تھی اور اس کے والد پر الزام تھا کہ اس نے گواہوں کی موجودگی میں بچے کو زہریلی چیز پلائی تھی۔ بعد ازاں ٹرائل کورٹ اور ہائیکورٹ نے ملزم کو سزائے موت سنائی تھی۔