LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
روس کے یوکرین کے شمال مشرقی علاقے میں میزائل حملے، 10 افراد ہلاک، 18 زخمی امریکا کی عالمی فوجداری عدالت کی صدر اور سینئر پراسیکیوٹر پر پابندیاں عائد گوگل کا پاکستان میں مقامی دفتر ڈیجیٹل تبدیلی کی جانب اہم پیشرفت ہے، شزا فاطمہ اسرائیلی جنگی طیاروں کا شام کے فضائی اڈے پر حملہ سعودی اور عراقی وزیر خارجہ کا رابطہ، علاقائی صورتحال، تعلقات مضبوط بنانے پر تبادلہ خیال سعودی کابینہ کا کثیر القومی بحری دفاعی اتحاد کے انسٹی ٹیوشنل، آپریشنل ہونے کا خیر مقدم ایران نے میزائل داغے جانے سے متعلق یو اے ای کا بیان مسترد کر دیا خطے میں کشیدگی: متحدہ عرب امارات نے ایران سے تمام تجارتی، مالی معاملات معطل کر دیئے غزہ میں اسرائیلی فضائی حملہ، 6 فلسطینی شہید، 14 زخمی پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج انسانی ہمدردی کا عالمی دن منایا جا رہا ہے بانی پی ٹی آئی کی صحت کیلئے دعا گو ہوں، طبی سہولیات ملنا سب کا حق ہے: شرجیل میمن وزیر داخلہ کی شہید میجر احسان کی رہائشگاہ آمد، اہلخانہ سے اظہار تعزیت آبنائے ہرمز پر امریکا ایران ثالثی کی نئی کوششیں کی جائیں گی: قطر محمد علی درانی کا بہاولپور اور ہزارہ کو فوری ماڈل صوبے بنانے کا مطالبہ انمول پنکی کیخلاف قتل بالسبب کے مقدمہ میں فرد جرم عائد، ملزمہ کا صحت جرم سے انکار

مالی سال 2024-25 میں سب سے زیادہ ٹیکس بینکنگ سیکٹر نے ادا کیا

Web Desk

14 November 2025

 

وفاقی وزیرِ خزانہ نے سینیٹ میں مختلف طبقات کی جانب سے جمع کرائے گئے ٹیکس کی تفصیلی رپورٹ پیش کر دی۔ رپورٹ کے مطابق مالی سال 2024-25 میں سب سے زیادہ ٹیکس بینکنگ سیکٹر نے ادا کیا۔وزیرِ خزانہ کے تحریری جواب کے مطابق بینکوں نے سب سے زیادہ 1127 ارب روپے ٹیکس ادا کیا۔پٹرولیم سیکٹر نے 1121 ارب روپے جبکہ پاور سیکٹر نے 858 ارب روپے ٹیکس جمع کرایا۔ہول سیلرز نے 693 ارب روپے کا ٹیکس ادا کیا۔
تنخواہ دار طبقے نے مجموعی طور پر 498 ارب روپے ٹیکس قومی خزانے میں جمع کرایا۔
وزیر خزانہ نے بتایا کہ حکومت نے مالی سال 2024-25 میں مجموعی ٹیکس آمدن 11 ہزار 747 ارب روپے حاصل کی۔
مزید تفصیلات کے مطابق5794 ارب روپے انکم ٹیکس کی مد میں اکٹھے ہوئے۔3901 ارب روپے سیلز ٹیکس کی مد میں حاصل کیے گئے۔
فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کے تحت 767 ارب روپے جمع ہوئے۔
جبکہ کسٹم ڈیوٹی کی مد میں 1285 ارب روپے وصول کیے گئے۔
وزیر خزانہ کے مطابق یہ اعدادوشمار ملکی معاشی سرگرمیوں اور فیڈرل ریونیو کے مختلف ذرائع کی واضح عکاسی کرتے ہیں